30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے عقیقے میں گِروی ہے۔ ‘‘ ([1]) اَشِعَّةُ اللَّمْعات میں ہے، امام احمد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ’’ بچّے کا جب تک عقیقہ نہ کیاجائے اُس کو والِدَین کے حق میں شَفاعت کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ ‘‘ ([2])
صدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ ، حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے تَحْت فرماتے ہیں: ’’ گِروی‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اُس سے پورانَفْعْ حاصِل نہ ہو گا جب تک عقیقہ نہ کیا جائے اور بعض (مُحَدِّثین) نے کہا بچّے کی سلامَتی اور اُس کی نَشْو ونُما (پھلنا پھولنا) اور اُس میں اچّھے اَوصاف (یعنی عمدہ خوبیاں) ہونا عقیقے کے ساتھ وابَستہ ہیں۔ ([3])
دورِ جدید میں مہنگائی نے چونکہ ہر کس و ناکس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لہٰذا یہ بات عام دیکھی گئی ہے کہ ضروریات کی تکمیل اور آسائشوں کے حصول کے لئے بسا اوقات حرام وحلال کمائی کی پروا نہیں کی جاتی اور یہ بات یکسر فراموش کر دی جاتی ہے کہ حرام کمائی دنیا وآخرت میں عظیم خسارے کا باعث ہے۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُناجابر بن عبد اللہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : وہ گوشت ہرگز جنت میں داخل نہ ہوگا جو حرام میں پلا بڑھا۔ ([4])
پس ہمیشہ رزقِ حلال کما کر اپنی اولاد کی پرورش کرنے کی کوشش کیجئےکہ جو شخص اس لئے حلال کمائی کرتا ہے کہ سوال کرنے سے بچے، اہل وعیال کے لئے کچھ حاصِل کرے اور پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ ([5])
عورتوں کے متعلق چونکہ یہ بات بڑی معروف ہے کہ وہ فضول گوئی کی عادی ہوتی ہیں، لہٰذا اپنی بیٹی کو فضول گوئی وغیرہ سے بچانے کی اچھی اچھی نیتوں سے کوشش کیجئے کہ جب وہ ذرا ہوشیار ہو جائے اور زبان کھولنے لگے تو سب سے پہلے اس کی پاک وصاف زبان سے اسم جلالت ’’ اللہ‘‘ اور کلمہ طیبہ ہی جاری ہو ۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہلواؤ۔ ([6]) چنانچہ پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا
ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی نواسی کے لئے سب گھر والوں کو کہہ رکھا تھا کہ اس کے سامنے ’’ اللہ اللہ ‘‘ کا ذکر کرتے رہیں تاکہ اس کی زبان سے پہلا لفظ ’’ اللہ ‘‘ نکلے اور جب وہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں لائی جاتی توآپ خود بھی اس کے سامنے ذکر اللہ کرتے ۔ چنانچہ جب آپ کی نواسی نے بولنا شروع کیا تو پہلا لفظ ’’ اللہ ‘‘ ہی بولا۔
[1] تِرمِذی، کتاب الاضاحی، باب من العقیقة، ۳ / ۱۷۷، حدیث:۱۵۲۷
[2] اشعةُ اللّمعات، ۳ / ۵۱۲
[3] بہارِ شریعت، ۳ / ۳۵۴
[4] سنن الدارمی ، کتاب الرقاق، باب فی اکل السحت، ۲ / ۴۰۹، حدیث:۲۷۷۶
[5] شعب الایمان ، باب فی الزهد وقصر الامل ، ۷ / ۲۹۸، حدیث: ۱۰۳۷۵
[6] شعب الایمان، باب فی حقوق الاولاد والاھلین، ۶ / ۳۹۷، حدیث:۸۶۴۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع