30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماں باپ کی طرف سے چونکہ بچے کے لئے سب سے پہلا اور بنیادی تحفہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کا خوبصورت و بابرکت نام رکھیں تاکہ یہ تحفہ عمر بھر اسے ماں باپ کی شفقتوں اور مہربانیوں کی یاددلاتا رہے، یہاں تک کہ میدانِ محشر میں بھی اپنے والدین کے عطاکردہ اسی نام سے بارگاہِ خداوندی میں حاضری کے لیے بلایاجائے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپوں کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا بچوں بالخصوص بیٹیوں کے نام رکھنے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور ان کا نام ایسا ہونا چاہئے کہ دنیا وآخرت میں انہیں کہیں شرمسار نہ ہونا پڑے، اس لیے کہ بسا اوقات مَسائلِ شَرعیہ سے ناواقف ہونے کی وجہ سے لوگ بیٹیوں کے نام معروف کفار خواتین کے نام پر رکھ دیتے ہیں یا نئے نئے نام رکھنے کی دوڑ میں ایسے نام رکھ دیتے ہیں جو بے معنیٰ ہوتے ہیں یا ان کا معنیٰ اچھا نہیں ہوتا، ایسے تمام نام رکھنے سے بچنا چاہئے۔جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: ایسا نام رکھنا جس کا ذکر نہ قرآنِ مجید میں آیا ہو نہ حدیثوں میں ہو نہ مسلمانوں میں ایسا نام مستعمل ہو، اس میں عُلَما کو اِخْتِلاف ہے بہتر یہ ہے کہ نہ رکھے۔ ([2]) لہٰذا چاہئے کہ بیٹیوں کے نام اُمَّہاتُ المومنین، صحابیات و صالحات رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ کے اَسْمائے مُبارَکہ پر ہی رکھے جائیں۔اس کاایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ آپ کی بیٹی کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی برگزیدہ و نیک خواتین سے رُوحانی تعلق قائم ہوجائے گا اور دوسرا ان نیک ہستیوں سے موسوم ہونے کی برکت سے اسکی زِنْدَگی پر مَدَنی اثرات مُرتّب ہوں گے۔ اگر آپ نے اپنی بیٹی کا نام رکھتے وقت ان مَدَنی پھولوں کو مَدّنظر نہیں رکھا تھا تو پریشان مت ہوں بلکہ فوراً ان کا نام تبدیل کر دیجئے۔ چنانچہ،
اُمُّ المومنين حضرت سَيِّدَتُنا عائشہ صِدّيقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بُرے ناموں کو بدل دیا کرتے تھے۔ ([3]) اور حضرت سَیِّدُنا ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ اُمُّ الْمُومنین حضرت سیِّدَتُنا جُویریہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کا نام پہلے برّہ (نیکی) تھا، آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بدل کر جُویریہ رکھ دیا ۔ ([4]) نام رکھنے میں حضرت سَیِّدُنا اَبُو زَكَريا یحییٰ بن شَرف نَوَوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کا عطا کردہ یہ مدنی پھول ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بچے کا نام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کسی برگزیدہ بندے (مثلاً پیر و مرشد وغیرہ) سے رکھوانا مستحب ہے اور جس دن بچہ پیداہو اسی دن نام رکھنا بھی جائز ہے۔ ([5])
ساتویں دن بال منڈوا کر ان کے وزن برابر چاندی صدقہ کرنا چاہئے، نیز عقیقہ بھی اسی دن کر دینا چاہئے۔ چنانچہ، اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: ساتویں اور نہ ہوسکے توچودھویں ورنہ اکیسویں دن عقیقہ کرے، دُختر (بیٹی) کے لئے ایک، پِسر (بیٹے) کے لئے دو (بکریاں) کہ اس میں بچے کاگویارہن سے چھڑانا ہے۔ ([6])
’’ عقیقے کے بارے میں سوال جواب ‘‘ صفحہ 4 پر ہے: ’’ جس بچّے نے عقیقے کا وقت پایا یعنی وہ بچّہ سات دن کا ہوگیا اور بِلاعُذر جبکہ استِطاعت (یعنی طاقت) بھی ہو اُس کا عقیقہ نہ کیا گیاتو وہ اپنے ماں باپ کی شَفاعت نہ کرے گا ۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ اَلْغُـلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِیْقَتِهٖ یعنی ’’ لڑکا
[1]ابو داود ، کتاب الادب، باب فی تغیر الاسماء ، ۴ / ۳۷۴، حدیث:۴۹۴۸
[2]بہارِ شریعت، ۳ / ۶۰۳
[3] ترمذی ، کتاب الآداب، باب ماجاء فی تغییر الاسماء، ۴ / ۳۸۲، حدیث:۲۸۴۸
[4] مسلم، کتاب الادب، باب استحباب تغییر الاسم القبیح ، ص۱۱۸۲، حدیث:۲۱۴۰
[5] شرح صحيح مسلم، کتاب الادب ، باب استحباب تحنیک المولود، الجزء الرابع عشر، ۷ / ۱۲۴
[6] فتاویٰ رضویہ، ۲۴ / ۴۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع