30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے ہاں بچّہ پید ا ہو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے تو بچّہ اُمُّ الصِّبْیان سے محفوظ رہے گا۔ ([1]) اُمُّ الصِّبْیان کے مُتَعلِّق عاشِقوں کے امام، امامِ اہلسنّت، مُجَدِّد ِ دین و ملّت ، پروانۂ شمعِ رسالت ، عاشِقِ ماہِ نُبُوَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: (صَرْع) بہت خبیث بَلَا ہے اور اسی کو اُمُّ الصِبْیَان کہتے ہیں اگر بچّوں کو ہو، ورنہ صَرْع (مرگی) ۔ ([2])
’’ نُزْهَةُ الْقَارِی ‘‘ میں ہے: صَرْع کے معنی بے ہوش ہو کر گرپڑنے کے ہیں یہ کبھی اَخلاط (اَخلاط ، خلط کی جمع۔ جسم کی چار خِلطَیں (۱) صَفرا (یعنی پِت) (۲) خون (۳) بلغم اور (۴) سَودا ( جَلا ہوا سیاہ بلغم) ) کے فساد کے سبب ہوتا ہے جسے مِرگی کہتے ہیں اور کبھی جِنّ یا خبیث ہمزادکے اثر سے ہوتا ہے۔ ([3]) میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: جب بچّہ پیداہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں (الٹے) میں تکبیر کہے کہ خَلَلِ شیطان واُمُّ الصِّبْیان سے بچے۔ ([4]) بہتریہ ہے کہ دَہنے (یعنی سیدھے) کان میں چار مرتبہ اَذان اور بائیں (یعنی اُلٹے) کان میں تین مرتبہ اِقامت کہی جائے ۔ (اگر ایک مرتبہ اذان و اقامت کہہ دی تب بھی کوئی حَرج نہیں) ساتویں دن اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر مُونڈا جائے اور سر مُونڈانے کے وَقْت عقیقہ کیا جائے اور بالوں کو وزْن کرکے اُتنی چاندی یا سونا صَدَقہ کیا جائے۔ ([5]) بہت لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اذان کہی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہوتی ہے تو نہیں کہتے۔یہ نہ چاہیے بلکہ لڑکی پیدا ہو جب بھی اذان و اقامت کہی جائے۔ ([6])
تحنیک یعنی گھٹی دینے کے متعلق حضرت سَیِّدُنا اَبُو زَكَريا یحییٰ بن شَرف نَوَوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں: تمام عُلَمائے کِرام کا اس بات پر اِتفاق ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد کھجور (یا کسی میٹھی چیز) کی گھٹی دینا مستحب ہے، اگر کھجور نہ ہو تو جو بھی میٹھی چیز میسر ہو اس سے گھٹی دی جاسکتی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ گھٹی دینے والا کھجور کو اپنے منہ میں خوب چباکر نرم کرے کہ اسے نگلا جا سکے پھر وہ بچے کامنہ کھول کر اس میں رکھ دے ۔ مستحب یہ ہے کہ گھٹی دینے والا نیک اور متقی و پرہیز گار ہو ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔اگر ایسا کوئی شخص پاس موجود نہ ہو تو نَومَولُود کو تحنیک کی خاطِر کسی نیک شخص کے پاس لے جایا جا سکتا ہے۔ ([7]) جیساکہ اُمُّ المومنين حضرت سَيِّدَتُنا عائشہ صِدّيقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ لوگ اپنے (نوزائیدہ) بچوں کو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس ميں لايا کرتے تھے، آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کے ليے خيرو برکت کی دعا فرماتے اور تَحْنِیْک فرمايا کرتے تھے۔ ([8])
پیارے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے معمول سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچوں بالخصوص بیٹی کی تَحْنِیْک صالح ومتقی مسلمانوں سے کروائی جائے تاکہ نیک لوگوں کی دعائیں اور برکات اس کی گھٹی میں شامل ہوں۔
[1] مسند ابی یعلٰی، ۶ / ۳۲، حدیث:۶۷۴۷
[2] ملفوظاتِ اعلٰی حضرت، ص۴۱۷
[3] نزهة القاری، ۵ / ۴۸۹
[4] فتاوٰی رضویہ، ۲۴ / ۴۵۲
[5] بہارِشریعت، ۳ / ۳۵۵
[6] المرجع السابق
[7] شرح صحيح مسلم، کتاب الادب ، باب استحباب تحنیک المولود، الجزء الرابع عشر، ۷ / ۱۲۲
[8] مسلم، کتاب الادب ، باب استحباب تحنیک المولود … الخ، ص۱۱۸۴، حدیث: ۲۱۴۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع