30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باعزّت فرد بنانے پر مرکوز ہے وہیں وہ بىٹى کی بہترین پرورش سے بھی غافل نہیں۔بلکہ بیٹی کی عظمت و اہمیت کے پیشِ نظر اس کی عزّت و عفّت كى حِفاظَت کے لیے اسلام نے جو اس کی تربیت کے سنہری مدنی پھول عطا فرمائے ہیں وہ انہیں متاعِ جاں سمجھتے ہیں۔
پىارے اسلامى بھائىو! آج کے ناگفتہ بہ حالات میں اسلامی تعلیمات سے دوری اور غیر مسلموں کی اندھی تقلید نے مسلمانوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا، بد قسمتی سے فی زمانہ مسلمانوں کے رہن سہن کے طور طریقے اور رسومات اسلامی تعلیما ت کے سراسر خلاف نظر آتے ہیں ، ایسے نامُساعِد حالات میں اولاد خصوصاً بیٹی کی دُرُسْت اسلامی تربیت انتہائی مشکل نظر آتی ہے۔ لہٰذا اگر ہم اپنی بیٹی کی صحیح تربیت کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اسلامی معلومات حاصِل کرنا ضروری ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم صحیح معنوں میں اپنے اس فرضِ منصبی کی بجا آوری کرسکیں۔کیونکہ آج کی بیٹی کل کسی کی بیوی اور بہو ہوگی، پھر ماں اور بعد میں ساس بنے گی، لہٰذا آج اس بیٹی کی تربیت پر بھرپور توجہ دینا ضَروری ہے تا کہ کل جب یہ خود کسی کی ماں بنے تو اپنی اولاد کی بہترین تربیت سے غفلت کی مرتکب نہ ہو۔
آئیے! چند ایسے مَدَنی پھولوں پر نظر ڈالتے ہیں جو ایک بیٹی کی پرورش میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں:
(1) بیٹی کی پیدائش پر رَدّ عمل
بیٹا پیدا ہویا بیٹی، ہر حال میں شکر بجا لانا چاہيے کیونکہ اگر بیٹا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہے تو بیٹی رحمت۔دونوں ہی پیار اور شفقت کے مستحق ہیں۔دورِ جدید میں یہ مُشاہدہ عام ہے کہ لڑکے کی ولادت پر جس مَسَرَّت کا اِظہار ہوتا ہے لڑکی کی ولادت پر اس کا عُشْرِ عَشِیر بھی نہیں ہوتا۔چونکہ دنیاوی طور پر لڑکیوں سے والدین اور خاندان کو بظاہر کوئی منفعت حاصِل نہیں ہوتی شاید اسی لئے بعض نادان بیٹیوں کی ولادت ہونے پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور بسااوقات بچی کی امی کو طرح طرح کے طعنے دئيے جاتے ہیں، طلاق کی دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ اوپر تلے بیٹیاں ہونے کی صورت میں اس دھمکی کو عملی تعبیر بھی دے دی جاتی ہے۔ایسوں کوچاہيے کہ وہ گزشتہ صفحات میں بیان کی گئی روایات کے علاوہ درج ذیل روایت پربھی غور کریں کہ جس میں بیٹی کی پیدائش پر جنت کی بشارت سے نوازا گیا ہے۔چنانچہ،
حضرت سَیِّدُناابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ نہ تو اسے زندہ دَفن کرے نہ حقیر سمجھے اور نہ ہی اس پر بیٹے کو فضیلت دے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جنّت میں داخِل فرمائے گا۔ ([1])
بیٹی کی پیدائش پر غمزدہ ہونے کے بجائے خوشی کا اظہار کرنے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ اسکے کانوں میں اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی فرمانبرداری کا پیغام اذان و اقامت کی صورت میں پہنچایا جائے تا کہ اسکی رُوح نُورِ توحید سے مُنَور اور دل عشقِ مصطفےٰ کی شمع سے فروزاں (روشن) ہو جائے۔ ایسا کرنا مستحب اور سنّت سے ثابت ہے۔ چنانچہ،
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 22 صَفحات پر مشتمل رسالے ’’ عقیقے کے بارے میں سوال جواب ‘‘ صفحہ 7 پر ہے: ’’ جب بچّہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اَذان واِقامت کہی جائے اَذان کہنے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بلائیں دُور ہوجائیں گی۔امامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُنا امامِ حُسین ابنِ علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : جس شخص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع