30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
النحل کی آیت نمبر ۵۸اور ۵۹ میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ (۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ (۵۹) (پ۱۴، النحل: ۵۸، ۵۹)
ترجمۂ كنز الايمان: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصّہ کھاتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب کیا اسے ذلّت کے ساتھ رکھے گا يا اسے مٹی میں دبا دیگا۔ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں۔
عہدِ جاہلیت میں کئی قبیح اور سنگدلانہ رسمیں رائج تھیں جنہیں لوگ بڑے فخر سے انجام دیا کرتے تھے، مثلاً ایک رسم یہ بھی تھی کہ بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا کرتے اور اس پر غمزدہ یا پشیمان ہونے کے بجائے فخر کرتے۔ اس ظالمانہ حرکت کے آغاز کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک بار ربیعہ قبیلہ پر ان کے دُشمنوں نے شب خُون مارا اور وہ رَبیعہ کے سردار کی بیٹی کو اُٹھا کر لے گئے۔ جب دونوں قبیلوں کے درمیان صُلح ہوئی تو اس لڑکی کو بھی واپس کر دیا گیا اور اسے اختیار دیا گیا کہ چاہے تو اپنے باپ کے پاس رہے یا قید کے دوران جس شخص کے ساتھ رہی تھی اس کے پاس واپس چلی جائے۔ اس نے اس شخص کے پاس جانا پسند کیا تو اس کے باپ کو بڑا غصہ آیا اور اس نے اپنے قبیلے میں یہ رسم جاری کر دی کہ جب کسی کے ہاں بچی پیدا ہو تو اس کو زندہ زمین میں دبا دیا جائے تاکہ آئندہ ان کے قبیلہ کی ایسی رسوائی نہ ہو۔ پھر دوسرے قبائل میں بھی یہ رواج آہستہ آہستہ مقبولیت اختیار کرتا گیا۔ ([1])
بیٹیوں کو دفن کرنے کی اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں:
٭ عام اہلِ عرب کی معاشی حالت بڑی خستہ ہوتی تھی، بچیوں کو پالنا، جوان کرنا، پھر ان کی شادی کرنا وہ اپنے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ تصور کرتے تھے، اس لیے ان کو بچپن میں ہی ٹھکانے لگا دیا کرتے تھے۔
٭قبائل میں باہمی کشت و خون (قتل و غارت) روز مَرہ کا معمول تھا۔ لڑکے جوان ہو کر ایسی لڑائیوں میں ان کا ہاتھ بٹاتے۔ لڑکیاں لڑائیوں میں بھی شرکت نہ کر سکتیں اور پھر ان کو دشمن کی دَستبرد سے بچانے کے لیے بھی انہیں بسا اوقات مختلف مسائل سے دوچار ہونا پڑتا، اس لیے وہ ان کو زندہ رکھنا اپنے لیے وبالِ جان سمجھتے ۔
٭ ان کی جاہِلانہ نَخْوَت (گھمنڈ) بھی اس کا ایک سَبَب تھی، وہ کسی کو اپنا داماد بنانا اپنی توہین سمجھتے تھے اس سے بچنے کا یہی آسان طریقہ تھا کہ نہ بچی زندہ ہو نہ اسے بیاہا جائے اور نہ کوئی ان کا داماد بنے۔
وجوہات اگرچہ مختلف اورمتعددتھیں لیکن یہ ظالمانہ رسم عرب کے جاہلی معاشرے میں اپنے پنجے گاڑ چکی تھی، عام طور پر اسے کوئی معیوب چیز یا ظلم بھی نہ سمجھا جاتا۔ باپ اپنی اولاد کا مالکِ کل ہوتا، چاہے اسے زندہ رکھےیا قتل کر دے، کسی کو اس پر اِعْتِراض کا کوئی حَق حاصِل نہیں تھا۔بلکہ ایک ہی شخص اپنی کئی کئی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتا اور اسے ذرہ بھر افسوس نہ ہوتا۔جیسا کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا قیس بن عاصم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ایک بار سركار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم كى بارگاہ مىں حاضر ہوئے تو (زمانۂ جاہلیت میں بیٹیوں کے زندہ درگور کرنے کے فعل پر شرمسار ہوتے ہوئے) عرض كی: مىں نے زمانۂ جاہلىت مىں آٹھ بىٹىوں كو زندہ دَفْن كىا (کیا میرا یہ گناہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع