دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Beti ki Parwarish | بیٹی کی پرورش

book_icon
بیٹی کی پرورش

نکاح اپنے ایک شاگرد حضرت سیدنا ابو وداعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ سے فرمایا جو انتہائی غریب تھے۔ حضرت سیدنا ابو وداعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ خود اپنی اس شادی کا واقعہ کچھ یوں بیان فرماتے ہیں کہ مَیں حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی محفل میں باقاعدگی سے حاضِر ہوا کرتا تھا، پھر چند دن حاضِر نہ ہوسکا۔ جب دوبارہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے پاس حاضِر ہوا توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے پوچھا:  اتنے دن کہاں تھے؟میں نے عرض کی:  میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھابس اسی پریشانی میں چند دن حاضِری کی سعادت حاصِل نہ ہو سکی ۔ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا:  مجھے اطلاع کیوں نہیں دی  کہ میں بھی جنازے میں شرکت کر لیتا؟حضرت سیدنا ابو وداعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ا س پر میں خاموش رہا۔جب میں نے رخصت چاہی تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا:  کیا دوسری شادی کرنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کی: حضور! میں بہت غریب ہوں،  میرے پاس بمشکل چند درہم ہوں گے،  مجھ جیسے غریب کی شادی کون کروائے گا۔تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرمانے لگے: میں تیری شادی کرواؤں گا ۔میں نے حیران ہوتے ہوئے عرض کی:  کیا آپ میری شادی کرائیں گے؟فرمایا: ہاں! میں تیری شادی کراؤں گا۔پھرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد بیان کی اور حضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود وسلام پڑھا اور میری شادی اپنی بیٹی سے کرادی۔میں وہاں سے اٹھا او رگھر کی طر ف روانہ ہوا ۔میں اتنا خوش تھا کہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرو ں ،  پھر میں سوچنے لگا کہ مجھے کس کس سے اپنا قرضہ وصول کرنا ہے ،  اسی طر ح میں آنے والے لمحات کے بارے میں سوچنے لگا پھر میں نے مغر ب کی نمازمسجد میں ادا کی اور دوبارہ گھر آ گیا۔میں گھر میں اکیلا ہی تھا،  پھر میں نے زیتو ن کا تیل اور رو ٹی دستر خوان پر رکھ کر کھانا شروع ہی کیا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔میں نے پوچھا: کون؟آواز آئی: سعید۔میں سمجھ گیا کہ ضرور یہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ ہی ہوں گے۔ اتنی دیر میں وہ اندر تشریف لے آئے۔ میں نے عرض کی: آپ مجھے پیغام بھیج دیتے،  میں خود ہی حاضر ہوجاتا۔فرمانے لگے: نہیں!  تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ تمہارے پاس آیاجائے۔ میں نے عرض کی:  فرمائیے! میرے لئے کیاحکم ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا:  اب تم غیر شادی شدہ نہیں ہو،  تمہاری شادی ہوچکی ہے،  میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ تم شادی ہوجانے کے بعد بھی اکیلے ہی رہو ،  پھر ایک طرف ہٹے تو میں نے دیکھا کہ ان کی بیٹی ان کے پیچھے کھڑی تھی۔ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں چھوڑ آئے اور مجھے فرمایا: یہ تمہاری زوجہ ہے۔ اتنا کہنے کے بعد تشریف لے گئے۔ میں دروازے کے قریب گیا اور جب اطمینان ہوگیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ جاچکے ہیں تو واپس کمرے میں آ کراس شرم وحیا کی پیکر کو زمین پر بیٹھے ہوئے پایا۔ میں نے جلدی سے زیتون کے تیل اور روٹیوں والا برتن اٹھا کر ایک طر ف رکھ دیا تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکے۔پھر میں اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر اپنے پڑوسیوں کو آواز دینے لگا۔تھوڑی ہی دیر میں سب جمع ہوگئے اور پوچھنے لگے :  کیا پریشانی ہے؟میں نے جب بتایا کہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اپنی بیٹی سے میری شادی کرادی ہے اور وہ اپنی بیٹی کو میرے گھر چھوڑ گئے ہیں تولوگو ں نے بے یقینی سے پوچھا : کیا واقعی حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے تجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کرائی ہے؟میں نے کہا: اگر یقین نہیں آتا تو میرے گھر آکر دیکھ لو،  ان کی بیٹی میرے گھر میں موجود ہے۔یہ سن کر سب میرے گھر آگئے ۔جب میری والدہ کو یہ معلوم ہوا تو وہ بھی فوراً ہی آگئیں اور مجھ سے فرمانے لگیں: اگر تین دن سے پہلے تو اس کے پاس گیا توتجھ پر میرا چہرہ دیکھنا حرام ہے۔میں تین دن انتظار کرتا رہا،  چوتھے دن جب گیا اور اسے دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ حسن وجمال کا شاہکار تھی ،  قرآنِ پاک کی حافظہ،  حضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں کو بَہُت زیادہ جاننے والی اور شوہر کے حُقوق کو بَہُت زیادہ پہچاننے والی تھی۔اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا۔ نہ تو حضر ت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ میرے پاس آئے اور نہ ہی میں حاضِر ہو سکا ،  پھر میں ہی ان کے پاس گیا۔ وہ بَہُت سارے لوگوں کے جھرمٹ میں جَلْوَہ فرماتھے ،  سلام جواب کے بعد مجلس کے ختم ہونے تک انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہ کی، جب سب لوگ جاچکے اور میرے عَلاوہ کوئی اور نہ بچا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا:  اس انسان کو کیسا پایا ؟میں نے عرض کی: حُضور!  (آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی بیٹی ایسی صِفات کی حامِل ہے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن