دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Beti ki Parwarish | بیٹی کی پرورش

Null

book_icon
بیٹی کی پرورش

شیخ شاہ کرمانی کا تعارف

امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُثْمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے زمانۂ خِلافت میں اسلامی فتوحات کا سِلْسِلہ جب وادیٔ مَکْران کے مَغْرِب میں واقع وسیع و عریض ملکِ ”کِرْمَان“ تک پَہُنْچا تو اس وقت کے شاہِ کِرْمَان نے اسلامی سلطنت کا باجگُزار بننے میں عافیت جانتے ہوئے صلح کی طرف قدم بڑھایا اور یوں اسلام کے نُور سے مُلکِ کِرمان کے گھر گھر میں اُجالا ہونے لگا اور تیسری صدی ہجری میں کرمان کے شاہی خاندان میں ایک ایسی ہستی پیدا ہوئی جس نے اس خاندان کا نام رہتی دُنیا تک روشن کر دیا،  یہ ہستی تھی حضرت سَیِّدُنا شاہ بن شُجاع کِرمانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی ۔ شاہی خاندان سے تعلّق رکھنے کے باوُجُود آپ کا حُکومَت سے  کوئی واسطہ نہ تھا، مگر لوگوں کے دلوں پر رَاج آپ ہی کا تھا کیونکہ ایک روایت کے مطابق آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ  کا شُمار ابدالوں میں ہوتا ہے۔

          آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ  کے مرتبہ کی بلندی کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب آپ کا وصال ہوا تو حضرت سَیِّدُنا ابو عبداللہ محمد بن احمد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَحَد فرماتے ہیں: میں حضرت سَیِّدُنا سہل بن عبد اللہ تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کی خدمت میں حاضر تھا کہ اچانک ہانپتی کانپتی ایک کبوتری ہمارے سامنےآگری،  میں اُسے اڑانے لگا تو حضرت سَیِّدُناسہل بن عبداللہ تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  نے ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اَطْعِمْهَا وَاسْقِهَا یعنی اسے کچھ کھلاؤ پلاؤ۔ حضرت سَیِّدُنا ابو عبداللہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں: میں نے ایک روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اس کے آگے ڈالے تو وہ کھانے لگی،  پھر میں نے پانی رکھا تو اس نے پانی بھی پی لیا،  اس کے بعد وہ اڑ گئی۔ میں یہ سب دیکھ کر حیران ہورہاتھا، بالآخر میں نے پوچھ ہی لیا کہ اس کبوتری کا ماجرا کیا ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا:  شاہ کرمانی اس جہانِ فانی سے کوچ فرما گئے ہیں اور یہ کبوتری مجھ سے تعزیت کرنے آئی تھی۔ ([1])

عظیم باپ کی عظیم بیٹی

        پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! حضرت سىدنا شىخ شاہ كرمانى قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی  نے اس قدر عظیم مرتبہ پر فائز ہونے کے باوجود اپنی شہزادی کی پرورش سے غفلت اختیار نہ فرمائی بلکہ اسے دُنیا کی چَکاچَوند سے دُور رکھنے کے ساتھ ساتھ رِضائے خُداوَنْدی پر ہر حال میں صابِر و شاکِر رہنے کی مدنی سوچ بھی عطا فرمائی۔ لہٰذا ىاد ركھىے !  اولاد كى پرورش مىں جہاں ماں كا بڑا كردار ہے وہاں باپ بھى ایک اَہَم  سُتُون کی حیثیت رکھتا ہے،  بالخصوص بىٹى كے مُعامَلے مىں باپ کا کردار بَہُت اَہمىَّت كا حامِل ہے۔

قبل از اسلام عورت  کی حیثیت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام سے قبل اگر دنیا کے مختلف مُعاشَروں میں عورت کی حیثیت دیکھی جائے تو معلوم ہو گاکہ عورتیں مردوں کی محکوم تھیں، مَرد خواہ باپ ہوتا یا شوہر، بیٹا ہوتا یا بھائی،  ان سے جیسا چاہے سُلُوک کرتا، عورتوں کی حیثیت بس ایک خِدمَتگار کی سی تھی،  کہیں ان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سُلوک ہوتا تو کہیں وَراثَت میں دیگر مال و اسباب کی طرح ان کا  بھی بٹوارہ ہوتا۔ کہیں  انہیں شوہر کی موت کے ساتھ اس کی چِتا  (لکڑیوں کا وہ ڈھیر جس پر ہندو اپنے مُردہ کو جلاتے ہیں) میں زِنْدہ جَل کر سَتی ہونا پڑتا  (یعنی بیوہ کو مردہ شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا) تو کہیں پیدا ہوتے ہی انہیں زمین میں زِنْدہ دَفْن کر دیا جاتاکیونکہ بیٹی کی پیدائش کو باعثِ عار  (شرمندگی ) سمجھا جاتا تھا،  بسا اوقات كسى شخص كو معلوم ہوتا كہ اس كے ىہاں بىٹى كى وِلادَت ہوئى ہے تو وہ كئى دِنوں تك لوگوں كے سامنے نہ آتا اور غور كرتا رہتا كہ وہ اس معاملے مىں كىا كرے؟ آىا ذِلَّت برداشت كركے بیٹی كى پَرْوَرِش كرے ىا عار سے بچنے كے لىے اپنى بىٹى كو زِنْدَہ زمىن مىں دفن كردے۔ جیساکہ پارہ۱۴ سورۃُ



[1]    حلیة الاولیاء، ذکر الجماعة العارفین العراقیین، شاہ بن شجاع الکرمانی، ۱۰ /  ۲۵۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن