30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (۶۸) (پ۷، الانعام: ۶۸)
ترجمۂ كنز الايمان: اور اگر شىطان تجھے بھلا دے تو ىاد آنے پر ظالموں مىں مت بىٹھ۔
تفسىرِ احمدى میں ہے: ظالم لوگ بدمذہب فاسِق اور كافِر ہىں ان سب كے ساتھ بىٹھنا منع ہے۔ ([1])
عورت مَوم کی ناک بلکہ رَال (چیڑ کا گوند) کی پڑیا بلکہ بارُود کی ڈبیا ہے، آگ كے ایک اَدْنیٰ سے لگاؤ میں بھَقْ سے ہوجانے (یعنی فوراً جل جانے) والی ہے۔عقل بھی ناقص اوردین بھی ناقص اور طینت (یعنی بنیاد) میں کجی (ٹیڑھا پَن) اور شہوت (خواہشِ نفس) میں مَرد سے سو حِصّہ بیشی (زائد) اور صحبتِ بد کا اَثَرِ مُسْتَقِل مَردوں کو بگاڑدیتاہے۔ پھر ان نازُک شیشیوں کا کیا کہنا جوخفیف (ىعنى معمولى سى) ٹھیس سے پاش پاش ہو جائیں۔ یہ سب مضمون یعنی ان عورات کا ناقِصاتُ العقل وَالدِّین اور کج طبع اورشہوت میں زائد اور نازُک شیشیاں ہونا صحیح حدیثوں میں ارشاد ہوئے ہیں اور صحبتِ بد کے اَثَر میں تو بکثرت احادیثِ صحیحہ وارِد ہیں۔ ازاں جملہ یہ حدیثِ جلیل کہ مشکوٰۃِ حکمتِ نبوت کی نُورانی قندیل ہے۔فرماتے ہیں: اچھّے مُصَاحِب اور بُرے ہمنشین کی کہاوَت ایسی ہے جیسے مشک والا اور لوہار کی بھٹی کہ مشک والا تیرے لئے نفع سے خالی نہیں یا تَو تُو اس سے خریدے گا کہ خود بھی مشک والا ہوجائے گا ورنہ خوشبو تو ضرور پائے گا اور لوہار کی بھٹی تیرا گھر پھونک دے گی یا کپڑے جلادے گی یا کچھ نہیں تو اتنا ہوگا کہ تجھے بد بو پہنچے۔ اگر تیرے کپڑے اس سے کالے نہ ہوئے تو دُھواں تو ضَرور پہنچے گا۔ ([2])
فحش گیت شیطانی رَسْم اور کافِروں کی رِیت ہے۔ شیطان ملعون بے حَیا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کمال حَیا والا۔ بے حَیائی کی بات سے حَیا والا ناراض ہوگا اور وہ بے حَیاؤں کا اُستاد انہیں اپنا مسخرہ بنائے گا۔حدیث میں ہے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم (ارشاد) فرماتے ہیں: اَلْجَنَّۃُ حَرَامٌ عَلٰی كُلِّ فَاحِشٍ اَنْ یَّدْخُلَھَا۔ جنّت ہر فحش بکنے والے پر حَرام ہے۔ ([3]) یُونہی بے ضَرورت وحاجَتِ شرعیہ لوگوں سے فحش کلامی بھی ناجائز وخلافِحیا ہے۔رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم (ارشاد) فرماتے ہیں: اَلْـحَيَاءُ مِنَ الْاِيمَانِ وَالْاِيمَانُ فِی الْـجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْـجَفَاءِ وَالْـجَفَاءُ فِی النَّار حَىا ایمان سے ہے اور ایمان جنّت میں ہے اور فحش بکنا بے اَدَبی ہے اور بے اَدَبی دوزخ میں ہے۔ ([4]) مَا كَانَ الْفُحْشُ فِی شَیْءٍ قَطُّ اِلَّا شَانَهُ، وَلَا كَانَ الْـحَيَاءُ فِی شَیْءٍ قَطُّ اِلَّا زَانَهُ فحش جب کسی چیز میں دخل پائے گا اسے عیب دار کردے گا اور حیا جب کسی چیز میں شامل ہوگی اس کا سنگار کردے گی ([5]) ۔ ([6])
پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے! نابالغ شرعی احکام کا مکلف نہیں لہٰذا اس کا گناہ شُمار نہیں لىكن والدین یا سرپرست اگر بچوں كو اىسى
[1] تفسیراتِ احمدیہ، ص۳۸۸
[2] بخاری، کتاب البیوع، باب فی العطار وبیع المسک، ۲ / ۲۰، حدیث: ۲۱۰۱
[3] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت وآداب اللسان، باب ذم الفحش والبذاء، ۷ / ۲۰۴، حدیث:۳۲۵
[4] ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ماجاء فی الحیاء، ۴۰۶ / ۳، حدیث:۲۰۱۶
[5] ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ماجاء فی الفحش والتفحش، ۳۹۲ / ۳، حدیث:۱۹۸۱ بتغیر
[6] فتاویٰ رضویہ، ۲۲ / ۲۱۰ تا ۲۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع