30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭ صِلہ رحمی کرنے والے کی لوگ تعريف کرتے ہيں۔
٭ صِلہ رحمی سے شیطان لعين غمناک ہوتا ہے۔
٭ صِلہ رحمی سے عمر اور رزق ميں برکت ہوتی ہے۔
٭ صِلہ رحمی سے دلی اطمينان حاصل ہوتا ہے اور حديث شريف ميں بھی ہے کہ (فرائض کی تکمیل کے بعد) افضل اعمال وہ ہيں جو مومن کی خوشی کا باعِث بنيں۔ ([1])
٭ صِلہ رحمی سے مَحبَّت ميں زيادتی ہوتی ہے، کيونکہ جن لوگوں پر اس نے احسان کئے ہوں گے وہ سب اس کی خوشی و غم ميں شريک ہوں گے اور اس کی مدد بھی کرتے رہيں گے جس کی وجہ سے باہمی محبت بڑھے گی۔
٭ صِلہ رحمی موت کے بعد بھی اجر وثواب کا باعث بنتی ہے، کيونکہ لوگ اس کی موت کے بعد اس کے احسانات کو ياد کرکے اس کے لئے ايصالِ ثواب و دُعا کا اہتمام کريں گے۔ ([2])
معاشرہ باہم مل جل کر رہنے والے افراد کے مجموعے کو کہتے ہیں جس کی بنیاد کی مختلف وُجوہ ہیں۔مثلاً برادری، قوم، زَبان، مذہَب اور جغرافیائی حُدود وغیرہ۔ عام طور پر مختلف مُعاشَروں کی تشکیل میں اجتماعی زِنْدَگی کی بقا کے لیے دو اُمور کو بڑی اہمیت حاصِل ہے: ایک یہ کہ لوگ اس طرح زِنْدَگی بَسَر کریں کہ ان کی ذات کی تکمیل ہو اور دوسرا یہ کہ ایسے اُصُول و ضَوَابط تیار کیے جائیں جن کے ذریعے باہمی خوشگوار تعلقات قائم ہوں۔یہ اُصُول وضَوَابط چونکہ انسان بناتے ہیں، لہٰذا ان میں تبدیلی کی ہمیشہ گنجائش رہتی ہے اور یہ تبدیل ہوتے بھی رہتے ہیں، مگر اسلامی معاشرہ ایسا ہے جس کے بنیادی عقائداور اُصُولِ شریعت میں اختتامِ وحی کے بعدکبھی کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی، اس لیے کہ یہ ایک ایسی مُتَوازِن اور معتدل زِنْدَگی کا نام ہے جس میں انسانی عقل، رسوم و رواج اور تمام مُعاشَرتی آداب وحیِ اِلٰہی کی روشنی میں طے پاتے ہیں اور وحی کے نزول کا دروازہ چونکہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے، لہٰذا اب اسلامی معاشرے کے جو بنیادی خدو خال سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبانِ حق ترجمان سے بیان ہوئے ہیں ان میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں، البتہ ! ہر دور کی ضَروریات کے مطابق پیدا ہونے والے جدید مسائل کا حل بھی قرآن و سنّت کے بیان کردہ اصولوں سے ہی اخذ کیا جاتا ہے۔ اگر یہ حل قرآن و سنّت کے مخالف نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی فلاح و صلاح سے تعلق رکھتا ہو تو اسے قبول کر لیا جائے گا ورنہ رد کر دیا جائے گا۔ چنانچہ،
ایک اِسلامی و فلاحی مُعَاشَرے کی بَقا کے لیے اِنتہائی ضَروری ہے کہ اس کے اَفراد کی تربیّت پر بھرپور توجہ دی جائے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس کا آغاز ماں کی گود سے ہوتاکہ اس تربیّت کے اَثرات زِنْدَگی بھر بچے پر مُرتَّب رہیں۔ اس تَناظُر میں بیٹی کی بہترین پرورش کی اَہَمِیَّت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ اگر آج اس کی تربیّت میں کوئی کمی رہ گئی تو اس کا اِزالہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے گا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! ہم مسلمان ہیں اور ایک اسلام پسند معاشرے کا حصہ ہیں، ہمیں چاہئے کہ کبھی بھی بیٹی کی پرورش میں اس کی مدنی تربیت سے کوتاہی نہ برتیں، اسے معاشرتی برائیوں کی قباحتوں سے کماحقہ آگاہ کریں تاکہ وہ ان سے بچ سکے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع