30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭ مُعاشَرے سے مُتَعَلّق آداب
پاکیزگی و طہارت کو ایک مسلمان کی زِنْدَگی میں جو اہمیت حاصِل ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے:
وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ (۱۰۸) (پ۱۱، التوبة: ۱۰۸)
ترجمۂ كنز الايمان: اورستھرے اللہ کو پیارے ہیں۔
نیز ایک فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہےکہ پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ ([1]) اور یہ مروی ہے کہ بُنِیَ الدِّیْنُ عَلَی النَّظَافَة یعنی دین کی بنیاد پاکیزگی پر ہے۔ ([2]) یہاں طہارت سے صرف کپڑوں کا صاف ہونا ہی مراد نہیں بلکہ دل کی صفائی بھی مراد ہے، اس لیے کہ نَجاست صرف بدن یا کپڑوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ باطِن کی صفائی بھی شریعت کو مطلوب ہےکیونکہ جب تک باطِن پاک نہ ہو عِلْمِ نافِع (نَفْعْ بخش عِلْم) حاصِل نہیں ہوتا اور نہ ہی انسان علم کے نور سے روشنی پاسکتا ہے، لہٰذا بیٹی کی پرورش کے دوران والدین پر لازم ہے کہ وہ بیٹی کے ظاہر کی پاکی و طہارت کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی پاکیزگی پر بھی بھرپور توجہ دیں تا کہ اس کا دل بُری صِفات سے پاک رہے۔ مثلاًحسد، تکبر، ریا کاری، عجب و خود پسندی، جھوٹ، غیبت ، چغلی، گالی گلوچ، امانت میں خیانت ، بدعہدی وغیرہ اور ان کے دنیا و آخرت میں نقصانات سے خوب آگاہ کریں تاکہ بیٹی ان ہلاک کر دینے اور جہنّم میں لے جانے والے گناہوں سے بچ سکے۔مگر یاد رکھئے! تربیت اس وقت ہی فائدہ دے گی جب آپ خود بھی ان باطنی گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گے، کیونکہ والدین اگر نیک اور گناہوں سے بچنے والے ہوں تو ان کی برکات ان کے بچوں کو بھی نصیب ہوتی ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس سے مراد وہ آداب ہیں جو ایک مَضْبُوط و خُوشحال خاندان کی بَقا کے لیے اِنْتِہائی ضَروری ہیں۔مثلاً وَالِدَین کا اَدَب و اِحترام اور دیگر چھوٹوں بڑوں کے ساتھ حُسنِ سُلوک، صِلہ رحمی (رِشْتہ داروں سے اچھے سُلُوک) کی فضیلت اور قطع تعلقی کی مَذمّت وغیرہ۔ ان آداب کے بجا لانے کی بنا پر ایک بیٹی خاندان بھر کی آنکھوں کا تارا بن جاتی ہے، لہٰذا والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی پرورش میں ذَرَّه بھر کوتاہی نہ ہونے دیں اور بچپن ہی سے اس کی اسلامی تربیّت کا ایسا اہتمام کریں کہ ہر کوئی ان کی بیٹی کے حُسْنِ سُلُوک کی تعریف کرے نہ کہ اس کی بَدسُلُوکی و بے اَدَبی اور بدکلامی کاہر طرف چرچا ہو۔
بچے بالخصوص بیٹیاں چونکہ والدین سے دیگر رشتے ناطوں کی پہچان سیکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سیکھتی ہیں کہ انکے والدین اپنے قرابت داروں سے کس طرح پیش آتے ہیں، لہٰذا اگر آپ اپنے بعض قرابت داروں سے صِلہ رحمی کے بجائے قطع تعلقی کر لیں گے یا اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کریں گے تو آپ کی اولاد بالخصوص بیٹیوں کے ذہنوں سے ان رشتوں کا تقدس ہمیشہ کیلیے خَتْم نہیں تو کم ضَرور ہو جائے گا، لہٰذا خود بھی یاد رکھئے اور اپنی بیٹی کو بھی یہ بات خوب باور کرا دیجئے:
٭ صِلہ رحمی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ راضی ہوتا ہے کيونکہ صلہ رحمی خود اسی کا حکم ہے۔
٭ صِلہ رحمی سے فِرشتے خوش ہوتے ہيں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع