30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پس بنیادی و ضروری عقائد کے علاوہ بیٹی کے دل میں قرآن و سنت کی مَحبَّت پیدا کرنا ضَروری ہے تاکہ بچپن ہی سے باری تعالٰی ومحبوبِ باری تعالٰی کی مَحبَّت اس کے دل میں پیدا ہو جائے اور قرآن و سنت کے مطابق وہ اپنی ساری زِنْدَگی گزار دے کیونکہ قرآن و سنت پر عمل ہی دونوں جہاں میں کامیابی کا سبب ہے مگر یاد رکھئے! قرآنِ کریم پر عمل کرنے کے لیے اسے صحیح پڑھنا، سیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے، مگر افسوس صد افسوس! مخلوقِ خدا ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے کلام کو پڑھنے، سیکھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے بتدریج دور ہوتی جا رہی ہے اور دنیاوی ترقی وخوشحالی کیلئے ہر وقت نِت نئے عُلوم وفُنون سیکھنے سکھانے میں مصروف ہے۔ حالانکہ اس کی تعلیم کے مُتَعَلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَه۔ یعنی تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اوردوسروں کو سکھائے۔ ([1]) چنانچہ والدین پر لازم ہے کہ بیٹی کی پرورش میں قرآن وسنّت کی مَحبَّت اس کے سینے میں کوٹ کوٹ کر بھردیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فرض علوم اور دینی تعلیم کی اہمیت کے متعلق شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 505 صَفحات پر مشتمل کتاب غیبت کی تباہ کاریاں کے صَفْحَہ 5 پر فرماتے ہیں: سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ([2]) یہاں اسکول کالج کی دُنیوی تعلیم نہیں بلکہ ضروری دینی علم مُراد ہے، لہٰذا سب سے پہلے بنیادی عقائد کا سیکھنا فرض ہے، اس کے بعدنَماز کے فرائض و شرائِط و مفسدات، پھر رَمضانُ المبارَک کی تشریف آوری پر فرض ہونے کی صُورت میں روزوں کے ضَروری مسائل، جس پر زکوٰۃ فرض ہو اُس کے لئے زکوٰۃ کے ضَروری مسائِل، اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے، نکاح کرنا چاہے تو اسکے، تاجر کو خرید و فروخت کے، نوکری کرنے والے کو نوکری کے، نوکر رکھنے والے کو اِجارے کے، وَعلٰی ھٰذَا الْقِیاس (یعنی اور اسی پر قِیاس کرتے ہوئے) ہر مسلمان عاقِل و بالغ مردو عورت پر اُس کی مَوجودہ حالَت کے مُطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عَین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب (باطِنی مسائل) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ (باطِنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہ اوران کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر، ریاکاری، حَسَد وَغَیْرهَا اوران کا علاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔ مُہلکات یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی چیزوں جیسا کہ جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان وغیرہ کے بارے میں ضَروری معلومات حاصل کرنا بھی فرض ہے تاکہ ان گناہوں سے بچا جا سکے۔ ([3])
اِمامِ اَجَلّ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: عمل سے پہلے علم ضروری ہے کیونکہ عمل کے فرض ہونے کی وجہ سے اس کا علم حاصل
کرنا بھی فرض ہو جاتا ہے۔ ([4])
پیارے اسلامی بھائیو! بیٹی کی پرورش کے دوران قرآن و سنّت اور كتبِ اسلاف (بُزرگوں کی کتابوں) میں بیان کردہ جن آداب کی ضَرورت پیش آسکتی ہے اگر ان کا مُطالَعہ کیا جائے تو ہم انہیں تین مختلف حصّوں میں کچھ یوں تقسیم کر سکتے ہیں:
٭ ذات سے مُتَعَلّق آداب
٭ خاندان سے مُتَعَلّق آداب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع