30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نافرمانی میں زِنْدَگی بسر کی تو جہنّم کا عذاب ہمارا منتظر ہوگا۔ وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہ ([1])
ذکرِمصطفےٰ چونکہ نورِ ایمان وسُرورِ جان ہے۔اس لئے چاہيے کہ ایسے اسباب پیدا کیے جائیں کہ آپ کی بیٹی کے دل میں درودِ پاک اور نعت شریف پڑھنے اور سننے کا ذوق وشوق پیدا ہو جائے۔مثلاً بچے کو سُلانے یا بہلانے کے لئے لَوری دینے کا رواج عام ہے لیکن لَوری دیتے وقت خیال رکھا جائے کہ یہ بے مَعانی کلمات پر مشتمل نہ ہو اور نہ ہی اس میں کوئی غیرشرعی کلمہ ہو بلکہ بہتر یہ ہے کہ حمدیا نعت یا اولیائے کرام کی منقبت بچے کو سنائی جائے تو ثواب بھی ملے گا اور بچے کو نیند بھی آجائے گی۔ اس کے علاوہ صالحین و صالحات کے واقعات کہانیوں کی صورت میں سنانا بھی مفید ہے، کیونکہ اسلاف سے عقیدت ومَحبَّت کا تعلّق ایمان کی مَضبوطی کا ذریعہ ہے اور بچوں کے دل میں صحابۂ کرام واہلِ بیتِ اَطہار عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور دیگر اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کی عقیدت پیدا کرنے کا آسان ذریعہ ان نفوسِ قدسیہ کی سیرت کے نورانی واقعات بھی ہیں۔نیز ایک مسلمان کے لئے چونکہ اس کا ایمان متاعِ حیات کی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا آئندہ نسلوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لیے بیٹے سے بڑھ کر بیٹی کے ایمان کی حفاظت کی فکر دیگر تمام دُنیاوی اشیاء سے کہیں زیادہ ہونی چاہيے اور ایمان کی حفاظت کا ایک بہت بڑا ذریعہ کسی پیرِ کامل سے بیعت ہوجانا بھی ہے، فی زمانہ کسی جامع شرائط پیرِ کامل کا ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لہٰذا اگر آپ کسی کے مرید نہیں تو فوراً اپنے بچوں سمیت سلسلہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے عظیم بزرگ شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِ سنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مرید بن جائیں۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ، قطب ِمدینہ، میزبانِ مہمانانِ مدینہ، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت سَیِّدُنا ضیاء الدین احمد مدنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ
اللّٰہ ِالْغَنِی کے مرید اور خلیفۂ قطب ِمدینہ حضرت مولانا عبد السلام قادری رضوی، شارحِ بخاری فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی، جانشینِ قطبِ مدینہ حضرت علامہ فضل الرحمٰن قادری اور مفتیِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقار الدین رضویرَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی علیہم کے خلیفۂ مجاز ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر بزرگوں سے بھی خلافتیں اور اجازتِ اسانیدِ احادیث حاصِل ہیں۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سلسلہ قادریہ میں مُرید فرماتے ہیں ۔ قادِری سلسلے کی عظمت کے کیاکہنے کہ اس کے عظیم پیشوا حُضور سَیِّدُنا غوثُ الاعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم قیامت تک کے لئے بفضل ِ خدا اپنے مریدوں کے توبہ پر مرنے کے ضامِن ہیں۔ ([2])
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عَلِی بِن اَبِی طَالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مَروِی ہے کہ شَہَنْشَاہ ِمدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اپنی اَولاد کو 3 باتیں سکھاؤ (۱) اَپنے نبی صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحَبَّت (۲) اَہلِ بیت عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مَحبَّت اور (۳) تِلاوتِ قرآنِ کریم، کیونکہ قرآن پڑھنے والے لوگ، اَنبِیا و اَصفِیا کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سایۂ رَحمت میں ہو گئے جس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ‘‘ ([3])
حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمد سہل تُسْتُری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: ایمان کی علامَت مَحبَّتِ باری تعالٰی، مَحبَّتِ باری تعالٰی کی علامت مَحبَّتِ کلامِ باری تعالٰی، مَحبَّتِ کلامِ باری تعالٰی کی علامت مَحبَّتِ محبوبِ باری تعالٰی اور مَحبَّتِ محبوبِ باری تعالٰی کی علامت اِتّباعِ محبوبِ باری تعالٰی ہے۔ ([4])
[1] یہ عقائد بہارِ شریعت کے پہلے حصےسے ماخوذ ہیں۔ چنانچہ عقائد کی مزید معلومات کے لیے صدر الافاضل کی آسان تصنیف کتاب العقائد، صدر الشریعہ کی بہارِ شریعت حصہ اول کا مطالعہ کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کیجئے۔ نیز امیرِ اہلسنت کی کتاب کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب کے علاوہ مدنی نصاب برائے قاعدہ اور مدنی نصاب برائے ناظرہ کا بھی ضرور مطالعہ کیجئے۔
[2] بهجة الاسرار ، ذکر فضل اصحابه وبشراھم ، ص۱۹۱
[3] الجامِع الصغیر، ص۲۵، حدیث:۳۱۱
[4] قوت القلوب، الفصل السابع عشر ، ۱ / ۱۰۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع