30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دورِ حاضِر میں اگر مُعاشَرے کا بغور جائزہ لیں تو ہر طرف دو ہی چیزیں نظر آتی ہیں۔ جدید تعلیم و ترقی اور نام نہاد روشن مستقبل کے نام پر ایک طرف مغربی تہذیب (Western culture) سے معمور مختلف (Different) خوبصورت (Beautiful) اور دل آویز (Attractive) ناموں کے ساتھ شہر شہر بلکہ گلی گلی کھلے ہوئے اسکولز (Schools) نظر آتے ہیں جن کی ایک کثیر تعداد اسلام دشمن قوتوں کے زیرِ اثر مَذہَب و ملّت کی قُیود سے آزاد مُعَاشَرے کے حامِل لوگ تیار کرنے میں مگن ہے تو دوسری طرف ہر جگہ بالخصوص بڑے شہروں کے پوش علاقوں، ہاؤسنگ سوسائٹیز (Housing Societies) ، وی آئی پی پاپولیشن ایریاز (V.I.P. Population Areas) ، اَپر کلاس ریزیڈنشل ایریاز (Upper class residential areas) میں اسلامک سکولز (Islamic Schools) کے نام پر بدمذہبوں کے بنائے گئے ادارے و جامعات ہماری آنے والی نسلوں کے ایمان اور دینی حمیت وغیرت کے لئے شدید خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عشقِ رسول سے سرشار معاشرے کی تشکیل کے لیے مدنی تربیت کا ایک ایسا مضبوط و مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے دورِ جدید کے نوجوانوں کی فکرو سوچ میں تبدیلی آنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان کا رُخ سُوئے مدینہ ہو جائے بلکہ ان کا سینہ ہی مدینہ بن جائے۔جس کے لیے سب سے پہلی سیڑھی یہ ہے کہ آج کی اس ننھی منی کلی کی طوفانِ بادو باراں سے حفاظت کی جائے کہ آج جس کی مسکراہٹ ماں باپ کوغموں سے دور کر دیتی ہے، کل جب پوری طرح کھِل کر کسی کے گلستانِ حیات میں مہکے تو چاروں طرف فضا خوشگوار ہو جائے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں بالخصوص بیٹیوں کو عفت و عصمت کا پیکر بنانے، توحید و رسالت سے روشناس کرانے اور اسلام کے نام پر تن من دھن قربان کر دینے کے لئے تیار کریں تاکہ عاشقانِ رسول کی عشق و مستی سے بھرپور داستانیں قصۂ پارینہ (ماضی کی کوئی داستان) بننے کے بجائے دورِ جدید میں حقیقت کا رُوپ دھار سکیں اور اس کے لیے تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے اور پاکیزہ و معطر و معنبر مدنی ماحول سے بہتر کوئی ماحول نہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ کا تعلق زندگی کے جس بھی شعبے سے ہو فکر نہ کیجیے دعوتِ اسلامی آپ کو ہر جگہ اور زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فراہم کرتی نظر آئے گی، مثلاً ڈھائی سال کی عمر میں اپنی بیٹی کو جدید دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ فرض علمِ دین سکھانے کے لیے دارُ المدینہمیں داخل کروائیے یا پھر تھوڑی بڑی عمر کی ہو تو اسے قرآنِ کریم ناظرہ و حفظ کروانے کے لیے مدرسۃ المدینہ للبناتاور عِلْمِ دین کی ترویج و اشاعت کے لیے جامعاتُ المدینہ للبنات میں داخل کروا دیجئے۔
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مُجَدّدِ دىن و ملّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: بچپن سے جو عادت پڑتى ہے كم چھوٹتى ہے۔ ([1]) لہٰذا جو لوگ ایک بیٹی کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں درحقیقت وہ آنے والی نسل کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک بیٹی کی پرورش کے دوران تعلیم و تربیت کے جن مراحل سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اگر ان پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تعلیم و تربیت اگرچہ لازم وملزوم ہیں مگر ان پر طائرانہ نظر ڈالنے سے صُورت کچھ یوں بنتی ہے:
طاغوتی طاقتیں عاشقانِ رسول کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لئے ان کے عقیدے اور عمل کو برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بعض بد باطن لوگوں کی بھی بھرپور مدد حاصل ہے۔غیرمسلم قوتوں کی مسلمانوں کو مٹانے اور پاکیزہ اسلامی تعلیمات کو بگاڑنے کی ان ناپاک سازشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اِس پُر فِتن دور میں گناہوں کی یلغار اور فیشن پرستی کی پھٹکار نے مسلمانوں کی اکثریت کو بے عمل بنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع