30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے پیارے بیٹے !
اگرصرف علم حاصل کرنا ہی کافی ہوتا اوراس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی تَو صبحِ صادق کے وقت منادی کا یہ اعلان بے فائدہ ہوتا : ’’ ھَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ ھَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِر؟ یعنی : ہے کوئی اپنی حاجت طلب کرنے والا ؟ ہے کوئی تَوبہ کرنے والا ؟ ہے کوئی گناہوں سے مُعافی چاہنے والا؟ ‘‘ ([1])
ایک مرتبہ چند صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے رحمت ِعالم ، نُوْرِمُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا تذکرہ کیا تَوآپ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللّٰہِ لَوْکَانَ یُصَلِّی بِاللَّیْل ۔ یعنی : عبداللّٰہ ایک اچھا شخص ہے ، کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ تہجّد بھی ادا کرتا۔ ‘‘ ([2])
اورایک بارتاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نَبوت صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اِرشاد فرمایا : ’’لَاتُکْثِرِالنَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَاِنَّ کَثْرَۃَالنَّوْمِِ بِاللَّیْلِ تَدْعُ صَاحِبَہٗ فَقِیْرًایَّوْمَ الْقِیَامَۃِیعنی : رات کو زیادہ نہ سویا کرو کیونکہ شب بھر سونے والا ( نفلی عبادات نہ کرنے کے باعث ) بروز ِقیامت ( نیکیوں کے سلسلے میں ) فقیر ہو گا۔ ‘‘ ([3])
اے نورِ نظر !
اللہ عَزَّوَجَلَّ کایہ فرمان عالیشان : وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ ( پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۷۹ ) ترجَمہ کنز ُالایمان : اور رات کے کچھ حصّہ میں تہجّدکرو۔ … یہ اس کا حکم ہے۔ اوریہ فرمان : وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۱۸) ( پ۲۶ ، الذاریات : ۱۸ ) ترجمہ کنز ُالایمان : اور پچھلی رات اِستغفار کرتے۔ … اس کا شکرہے ۔ ( یعنی قبولیتِ توبہ کی دلیل ہے )
اوریہ جوفرمایا گیا : وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ( پ۳ ، آلِ عمران : ۱۷ ) ترجمہ کنز ُالایمان : اور پچھلے پہر سے مُعافی مانگنے والے۔ …یہ ( اللہ عَزَّوَجَلَّسے مغفرت طلب کرنے والوں کا ) ذکر ہے۔
اللّٰہ تعالٰی کی پسندیدہ آوازیں
حضورنبی ٔ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیاحِ اَفلاک صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دل نشین ہے : ’’ ثَـلَاثَۃُ اَصْوَاتٍ یُحِبُّھَااللّٰہُ تَعَالٰی صَوْتَ الدِّیْکِ وَصَوْتَ الَّذِیْ یَقْرَئُ الْقُرْاٰنَ وَصَوْتَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ یعنی : اللہ عَزَّوَجَلَّکو تین آوازیں پسند ہیں : ( ۱) …مرغ کی آواز ( جو صبح نماز کے لئے جگاتی ہے ) ( ۲ ) …تلاوتِ ِقرآنِ پاک کی آواز اور ( ۳ ) … صبح سویرے اپنے گناہوں سے مُعافی طلب کرنے والے کی آواز۔ ‘‘ ([4])
حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اِرشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک ہوا پیدا فرمائی ہے جو سحری کے وقت چلتی ہے اور اس وقت ذکرالٰہی میں مگن اور گناہوں سے مُعافی مانگنے میں مشغول خوش نصیبوں کی آوازوں کو ربّ ِکریم عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کرتی ہے۔ ‘‘
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ بھی اِرشاد فرمایا کہ’’ رات شروع ہونے پر ایک فرشتہ عرش کے نیچے سے یہ ندا دیتا ہے : اب عبادت گزاروں کو اُٹھ جانا چاہئے…توعبادت گزار کھڑے ہو جاتے ہیں … اور جتنی دیر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا ہے ، نوافل ادا کرتے ہیں … پھرجب آدھی رات گزر جاتی ہے … تو فرشتہ دوبارہ ندا کرتا ہے : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانبرداروں کواُٹھ جانا چاہئے… تو اِطاعت گزار اپنے بستروں سے اُٹھ کر سحرتک عبادت میں مشغول رہتے ہیں …اور جب سحر کا وقت ہوتا ہے… تو فرشتہ ایک بار پھر ندا دیتا ہے : اب اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ سے مغفرت چاہنے والوں کو بھی اُٹھ جانا چاہئے…تو ایسے خوش نصیب اُٹھ جاتے ہیں اور اپنے ربِّ غفّار عَزَّوَجَلَّ سے مغفرت طلب کرنا شروع کر دیتے ہیں … اورجب فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے تَو فرشتہ پکارتا ہے : اے غافلو ! اب تَواٹھ جاؤ… تو ایسے لوگ اپنے بستروں سے یوں اُٹھتے ہیں جیسے مردے ہوں جنھیں ان کی قبروں سے نکال کر پھیلا دیا گیا ہے۔ ‘‘
اے لخت جگر !
حضرت سیِّدُنا لقمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کی نصیحتوں میں یہ بھی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بیٹے سے اِرشاد فرمایا : ’’ اے نورِ نظر ! کہیں مرغ تجھ سے زیادہ عقل مند ثابت نہ ہو کہ و ہ تَو صبح سویرے اُٹھ کر اَذان دے ( اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کو یاد کرے ) اور تو ( غفلت میں ) پڑا سوتا رہ جائے۔ ‘‘([5])
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
لَقَدْ ھَتَفَتْ فِیْ جُنْحِ لَیْلٍ حَمَامَۃُ عَلٰی فَنَنٍ وَھْنًاوَاِنِّی لَنَائِمُ
کَذَبْتُ وَبَیْتِ اللّٰہِ لَوْکُنْتُ عَاشِقًا لَمَاسَبَقَتْنِیْ بِالْبُکَائِ الحَمَائِمُ
[1] المسندللاما م احمد بن حنبل ، مسندابی سعیدالخدری ، الحدیث : ۱۱۲۹۵ ، ج۴ ، ص۶۹۔
[2] صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل عبد اللّٰہ بن عمر ، الحدیث : ۲۴۷۹ ، ص۱۳۴۶.
[3] شعب الایمان للبیہقی ، باب فی تعدیدنعم اللّٰہ وشکرہا ، فصل فی النوم وآدابہ ، الحدیث : ۴۷۴۶ ، ج۴ ، ص۱۸۳.
[4] فردس الاخباربمأثورالخطاب ، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع