30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اِرشاد فرماتے ہیں : ’’جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ نیک اَعمال اپنائے بغیرجنت میں داخل ہو گاوہ جھوٹی اُمید و آس کا شکار ہے اور جس نے یہ خیال کیا کہ نیک اَعمال کی بھر پور کوشش سے ہی جنت میں داخل ہو گا تو گویا وہ خود کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مستغنی و بے پرواہ سمجھ بیٹھا ہے۔ ‘‘ ([1])
حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں : ’’اچھے اَعمال کے بغیر جنت کی طلب گناہ سے کم نہیں ۔ ‘‘ ([2])
اورآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاہی ارشادگرامی ہے کہ ’’ حقیقی بندگی کی علامت یہ ہے کہ بندہ عمل نہ چھوڑے بلکہ عمل کو اچھا سمجھنا چھوڑ دے۔ ‘‘
سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَ عَمِلَ لِمَابَعْدَالْمَوْتِ وَ الْاَحْمَقُ مَن اَتْبَعَ نَفْسَہٗ ھَوَاھَاوَتَمَنَّی عَلَی اللَّہِ یعنی : عقل مند اور سمجھدار وہ ہے جو اپنے نفس کا مُحاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی کے لئے عمل کرے اور اَحمق و نادان وہ ہے جو نفسانی خواہشات کی پیروی کرے اور ( نفسانی خواہشات وممنوعات کوترک کئے بغیر ) اللہ عَزَّوَجَلَّسے عفوودرگزراورجنت کی اُمید رکھے۔ ‘‘ ([3])
حُصولِ عِلم و مطالعہ کامقصد
اے پیارے بیٹے !
تم کتنی ہی راتیں جاگ کر حُصولِ علم میں مشغول و مصروف رہے… اور ( اس کُتُب بینی کے شوق میں ) اپنے اوپر نیندکو حرام کئے رکھا… میں نہیں جانتا کہ تمہاری اس محنت و مشقت کا سبب کیا تھا ؟ …اگر تمہاری نیت دنیوی ساز و سامان اورمال ودولت حاصل کرنے… دنیوی منصب اور عہدے پانے… اور ہم عصر لوگوں پر اپنی برتری اور بڑائی ظاہرکرنے کی تھی تو ( کان کھول کر سُن لو ! ) تمہارے لئے ہلاکت وبربادی ہے… اور اگر ان شب بیداریوں میں تمہاری نیت یہ تھی کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ، حبیب لبیب صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری شریعت کا پیغام عام کروگے … اپنے کردار و اَخلاق کو سنّتوں کے سانچے میں ڈھالوگے… اور ہمیشہ برائی کی طرف بُلانے والے نفس اَمّارہ کی شرارتوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کروگے توتمہیں مُبارک ہو…اورسعادت مندی نصیب ہو۔
کسی شاعر نے سچ ہی کہا ہے :
سَھَرُالْعُیُوْنِ لِغَیْرِوَجْھِکَ ضَائِعٌ وَبُکَاؤُھُنَّ لِغَیْرِفَقْدِکَ بَاطِلٌ
ترجمہ : تیرے رُخِ زیبا کے دیدار کے علاوہ کسی غیر کے لئے ان آنکھوں کاجاگتے رہنا بیکار ہے اور تیرے علاوہ کسی اور کے فِراق میں ان کا رونا باطل وعبث ہے ۔
اے نورِ نظر !
عِشْ مَا شِئْتَ فَاِنَّکَ مَیِّتٌ وَ أَحْبِبْ مَا شِئْتَ فَاِنَّکَ مُفَارِقُہٗ وَ اعْمَلْ مَا ِشئْتَ فَاِنَّکَ تُجْزٰی بِہٖ یعنی : جیسے چاہے زندگی گزارو آخر کار تمہیں مرنا ہے … جس سے چاہو محبت کرو ایک نہ ایک دن تم اس سے جدا ہو جاؤ گے… اور جیساچاہے عمل کروبا لآخر اس کا بدلہ ضرور دیئے جاؤ گے۔
اے لخت جگر !
علمِ کلام و مُنا ظَرہ ، علمِ طبّ ، علمِ دَواوین و اَشعار ، علمِ نُجُوم و عُروض ، علمِ نَحوْ و صَرْف ( جن کے حاصل کرنے کا مقصد اگر دنیوی شُہرت کا حُصُول اور لوگوں پر اپنی بڑائی و برتری کا اِظہار تھا ) تو سوائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں اپنی عُمر کا قیمتی وقت ضائع کرنے کے تیرے ہاتھ کیا آیا؟
میں نے اِنجیلِ مُقدّس میں یہ لکھا ہوا پایا کہ حضرت ِسیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اِرشاد فرمایا : میِّت کو چارپائی پر رکھ کر قبر تک لانے کے دوران اللہ عَزَّوَجَلَّ میِّت سے 40 سُوالات کرتا ہے… ان میں سے پہلا سُوال یہ ہوتاہے : ’’اے میرے بندے ! لوگوں کو حسین و جمیل نظر آنے کے لئے برسوں تُوخودکو سنوارتا رہا لیکن جس چیز ( یعنی دل ) پر میری نظر ( رحمت ) ہوتی ہے اسے تُو نے ایک لمحہ بھی پاک و صاف نہ کیا۔ ‘‘
( اے انسان ! ) ہر روز اللہ عَزَّوَجَلَّ تیرے دل پر نظر کرم فرماتا ہے اور اِرشاد فرماتا ہے : ’’ تو میرے غیر کی خاطر کیاکچھ کر گزرتا ہے…حالانکہ تجھے میری نعمتوں نے گھیر رکھا ہے ( پھر بھی میری فرمانبرداری کی طرف مائل نہیں ہوتا؟ ) …کیا تُو بہرہ ہو چکا ہے ؟ …کیاتجھے کچھ سنائی نہیں دیتا؟ ‘‘
اے پیارے بیٹے !
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع