30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ تم اپنے دل کی نگہداشت و نگرانی میں مشغول ہو جاو گے… نفس کی صفات پہچاننے اور دنیاوی تعلقات سے منہ موڑ کر اپنے نفس کو برے اَخلاق سے پاک کرنے کی کوشش کروگے … اور اچھے اخلاق اپناتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت ومحبت سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کروگے …اور ہردن اوررات ( بلکہ ہرلمحہ ) اس بات کااِمکان موجودہے کہ اس میں انسان کی موت واقع ہو جائے۔
اے نورِ نظر !
اب میری ایک اور بات غور سے سنو… اور اس میں غور وفکرکروحتی کہ تمہیں اپنی نجات کا راستہ مل جائے…سوچو ! اگر تمہیں یہ معلوم ہو جائے کہ بادشاہِ وقت ایک ہفتہ کے بعد تم سے ملنے آرہا ہے تو اس عرصہ میں تم ہر اس جگہ کی اِصلاح کرنے میں مشغول ہوجاؤ گے جہاں تمہارے خیال کے مطابق بادشاہ کی نظر پڑ سکتی ہے… مثلاً اپنے کپڑوں اور بدن کی دیکھ بھال اور زیب و زینت پر خصوصی توجّہ دو گے… اور گھر کی اِک اِک چیز کو صاف ستھرااورآراستہ کرنے کی کوشش کرو گے۔
اب غورکروکہ میں نے کس طرف اِشارہ کیا ہے…کیونکہ تم بڑے سمجھدار ہو اور عقل مند کے لئے اِشارہ کافی ہوتاہے۔
دلوں اورنیتوں پرنظر :
سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اِنَّ اللّٰہَ لَایَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَلَا اِلٰی اَ عْمَالِکُمْ وَلٰـکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَنِیَّا تِکُمْیعنی : اللہ عَزَّوَجَلَّتمہاری شکل و صورت اورتمہارے اَعمال کو نہیں بلکہ تمہارے دلوں اور تمہاری نیتوں کو دیکھتا ہے۔ ‘‘ ([1])
کتناعلم فرض ہے؟ ([2])
اگر تم اَحوالِ قلب ( یعنی دل کی حالتوں ) کا علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو ’’احیاءُ العُلُوم‘‘ اور ہماری دیگر تصانیف کا مطالعہ کرو… کیونکہ یہ علم تو فرضِ عین ہے جبکہ دوسرے عُلُوم فرضِ کفایہ ہیں …البتہ ! اس قدر علم حاصل کرنا فرض ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقرر کردہ فرائض اور اَحکام کو کامل اور اچھے طریقے سے سر اَنجام دیا جاسکے… اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں یہ علم حاصل کرنے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے ۔ ( آمین )
{ 8 } … آٹھویں نصیحت :
اپنے پاس دنیاکامال صرف اتنا جمع رکھنا جو تمہیں ایک سال کے اَخراجات و ضرویات کے لیے کافی ہو… جیسا کہ محبوبِ ربّ العزَّت ، قاسمِ نعمت ، مالکِ جنّت صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی بعض اَزواجِ مطہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے لئے ایسا کرتے اوریہ دعا فرماتے : ’’ اَ للّٰھُمَّ اجْعَلْ قُوْتَ آلِ مُحَمَّدٍکَفَافًایعنی : اے اللہ ( عَزَّوَجَلَّ ) ! آلِ محمد ( صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کو بقدر کفایت روزی عطا فرما۔ ‘‘ ([3]) اورآپ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام اَزواجِ مطہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے لئے نہیں فرمایا کرتے تھے… بلکہ یہ اہتمام ان کے لئے فرماتے جن کے دل میں کچھ ضعف ملاحظہ فرماتے …اور جو یقین کے اعلیٰ درجے پرفائز تھیں ان کے لئے ایک آدھ دن سے زیادہ کا اِنتظام کبھی نہ فرماتے۔
دعائے خاص
پیارے بیٹے !
میں نے اس رسالہ نما مکتوب میں تمہارے سوالوں کے جوابات لکھ دیئے ہیں … اب تم ان پرعمل کرناشروع کردواورمجھے اپنی نیک دعاؤں میں یادرکھنا…اورتم نے دُعا کے متعلق مجھ سے پوچھاہے…میں صحیح اَحادیث ِمبارکہ سے ماخوذدعاتمہیں بتاتاہوں …یہ دُعا اپنے قیمتی اَوقات بالخصوص ہر نماز کے بعد مانگا کرو :
اَ للّٰھُمَّ اِ نِّیْ اَسْئَلُکَ مِنَ النِّعْمَۃِ تَمَامَھَاوَمِنَ الْعِصْمَۃِ دَوَامَھَاوَمِنَ الرَّحْمَۃِ شَمُوْلَھَاوَمِنَ الْعَافِیَۃِ حُصُوْلَھَاوَمِنَ الْعَیْشِ اَرْغَدَ ہُ وَمِنَ الْعُمُرِ اَسْعَدَ ہُ وَمِنَ الْاِحْسَانِ اَتَمَّہُ وَمِنَ الْاَنْعَامِ اَعَمَّہُ وَمِنَ الْفَضْلِ
[1] صحیح مسلم ، کتاب البروالصلۃ والآداب ، باب تحریم ظلم المسلم…الخ ، الحدیث : ۲۵۶۴ ، ص۱۳۸۷.
[2] دعوت اسلامی کے االلہ اعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 504صَفحات پر ماللہ تمل کتاب ، ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ صفحہ5پراللہ یخ طریقت ، امیراہلسنت ، بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطاَّرؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہتحریرفرماتے ہیں : سرکارِدوعالم ، نُوْرِمُجَسَّم ، اللہ اہِ بنی آدم ، رَسُوْلِِ مُحْتَاللہ مصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اراللہ ادفرمایا : ’’طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلّ مُسْلِم یعنی علم حاصل کرناہرمسلمان مردپرفرض ہے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ج۱ص۱۴۶حدیث۲۲۴) یہاں اسکول کالج کی دنیوی تعلیم نہیں بلکہ ضروری دینی علم مُراد ہے۔ لہٰذاسب سے پہلے بنیادی عقائدکاسیکھنافرض ہے ، اس کے بعدنمازکے فرائض واللہ رائط ومفسدات ، پھر… …رَمضانُ الْمبارَ ک کی تاللہ ریف آوری پرفرض ہونے کی صورت میں روزوں کے ضروری مسائل ، جس پرزکوٰۃ فرض ہواس کے لئے زکوٰۃ کے ضروری مسائل ، اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے ، نکاح کرناچاہے تواس کے ، تاجرکوخریدوفروخت کے ، نوکری کرنے والے کونوکری کے ، نوکررکھنے والے کواِجارے کے ، وَعلٰی ہذاالقیاس (یعنی اوراسی پرقیاس کرتے ہوئے) ہرمسلمان عاقل بالغ مردوعورت پراس کی موجودہ حالت کے مطابق مسئلے سیکھنافرضِ عَین ہے۔ اِسی طرح ہرایک کے لئے مسائلِ حلال وحرام بھی سیکھنافرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب (باطنی مسائل) یعنی فرائضِِ قَلْبِیہ (باطنی مسائل) مَثَلاًعاجزی واِخلاص اورتوکل وغیرہا اور ان کو حاصل کرنے کاطریقہ اورباطنی گناہ مثلاًتکبُّر ، رِیاکاری ، حَسَدوغیرہااوران کاعلاج سیکھنا ہرمسلمان پراَہم فرائض سے ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے : فتاویٰ رضویہ ، ج۲۳ ، ص۶۲۳ ، ۶۲۴)
[3] صحیح مسلم ، کتاب البروالصلۃ والآداب ، باب تحریم ظلم المسلم…الخ ، الحدیث : ۲۵۶۴ ، ص۱۳۸۷.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع