30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غرض سے ہوتا ہے… لیکن کندذہن اور کم عقل ہونے کے باعث حقیقت جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا… لہٰذا ایسے شخص کو بھی جواب نہ دینے ہی میں عافیت ہے… جیسا کہ حضورنبی ٔ پاک ، صاحبِ لو لاک ، سیاحِ اَفلاک صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے : ’’نَحْنُ مَعَاشِرَ الْاَنْبِیَاء اُمِرْنَا اَنْ نُکَلِّمَ النَّاسَ عَلٰی قَدْرِعُقُوْلِھِمیعنی : ہم گروہِ انبیاء ( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کریں ۔ ‘‘ ([1])
( ۴ ) …چوتھامریض :
نصیحت کاطلبگار : چو تھی قسم کے مریض کا علاج ممکن ہے…یہ ایسا مریض ہے جو رُ شد و ہدایت کا طلب گار ہو… عقل مند اور معاملہ فہم ہو… حسد اور غضب و غصّہ اس پر غالب نہ ہوں … شہوت و نفس پرستی ، جاہ وجلال اور مال ودولت کی محبت سے اس کا دل خالی ہو … راہِ حق اور سیدھے راستے کا طالب ہو… اس کا سوال اوراِعتراض حسد ، پریشان کرنے اور آزماءش کی وجہ سے نہ ہو… تو ایسے آدمی کا مرض ( یعنی جہالت ) قابل علاج ہے …جاءز ہے کہ ایسے شخص کے سوال کا جواب دیا جائے… بلکہ اس کا مسءلہ حل کرنا واجب ہے۔
{ 2 } … دوسری نصیحت :
جن 4 باتوں سے دور رہنا ضروری ہے ان میں سے دوسری یہ ہے کہ ( خواہشِ نفسانی کی وجہ سے ) واعظ وناصح بننے سے اِجتناب کرنا… کیونکہ اس میں بڑی آفتیں اور نقصان ہیں …ہاں ! جب اپنے کہے پرخود عمل کرنے لگو تواس وقت لوگوں کو وعظ کر سکتے ہو ( کیونکہ باعمل بااثرہوتاہے ) …اورخوب غورکرواس فرمانِ عالیشان میں جو حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایاگیا : ’’یَاابْنَ مَرْیَمَ ! عِظْ نَفْسَکَ فَاِنِ اتَّعَظْتَ فَعِظِ النَّاسَ وَاِلَّا فَاسْتَحِیِیْ مِنْ رَّبِّکیعنی : اے ابن مریم ! اپنے آپ کو نصیحت کرو۔ اگرتم نے نصیحت قبول کر لی تو پھر لوگوں کو نصیحت کرنا ورنہ اپنے رب سے حیا کرو۔ ‘‘ ([2])
وعظ ونصیحت میں دوباتوں سے پرہیز :
اگر تمہیں وعظ و بیان کرنا ہی پڑے تو دوباتوں سے اِجتناب کرنا :
{ 1 } …پہلی بات : وعظ وبیان میں خوش کن عبارات…بے فاءدہ اِشارات… غیرمستند واقعات …اورفضول شعر و شاعری کے ذریعے تَصَنُّع اور بناوٹ سے پرہیز کرنا… کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّتَصَنُّع اور بناوٹ سے کام لینے والوں کو ناپسندفرماتا ہے… اورکلام میں تَکَلُّف یا نُمُود ونُما ءش کا حد سے تجا وُز کرنا باطن کے خراب ہو نے اور دل کی غفلت پر دلالت کرتا ہے…بیان کا مقصد ( اپنی قابلیت کا اِظہار نہیں بلکہ ) یہ ہے کہ سننے والا آخرت کی تکالیف و عذاب اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں ہونے والی کوتاہیاں یاد کرے… اپنی عمرکے بے کار کاموں میں ضاءع ہونے پر اَفسوس کرے… اور پیش آنے والے دشوار گزار مراحل کے بارے میں غور وفکر کرے کہ ( اَلْعَیَاذُبِاللّٰہ ) اگر اِیمان پر خاتمہ نہ ہوا تو کیا بنے گا؟ … مَلَکُ الموت ( حضرت سیِّدُنا عزرائیل ) عَلَیْہِ السَّلَام جب روح قبض فرمائیں گے تو حالت کیسی ہوگی؟ … کیا مُنکَر نکیر کے سوالوں کے جوابات دینے کی طاقت و ہمّت ہے؟ …کیا قیامت کے دن اورحشرکے میدان میں اپنی حالت کی بہتری کااِہتمام کر لیا ہے؟ …اور کیا پل صِراط کو آسانی سے پار کر لے گا یا ’’ ھَاوِیَہ‘‘ ( یعنی نارِ دوزخ ) میں گر جائے گا؟
الغرض بیان سننے والے کے دل میں بیان کردہ معاملات کی یادہمیشہ آتی رہے… اوراسے بے قرار کرتی رہے …تو ایسے جذبات کے جوش… اور ان مَصاءب و آلام پر رونے کانام ’’ بیان‘‘ ہے… اور لوگوں کو ان معاملات کی طرف توجہ دلانا… اور ان کی کوتاہیوں پر انہیں تنبیہ کرتے ہوئے ان کے عیبوں سے انہیں آگاہ کرنا… اس طرح ہو کہ اِجتماع میں بیٹھے لوگوں پر رِقَّت طاری ہو… اور ( قبروحشرکے ) یہ مصاءب و آلام انہیں اَفسردہ و غمزدہ کر دیں …تاکہ جہاں تک ہو سکے وہ ( نیکیاں کرکے ) گزری ہوئی عمر کی تلافی کریں … اور جواَیام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں بسر کئے ان پر خوب حسرت و پشیمانی کا اِظہار کریں … اس طریقے پر جامع کلام کو ’’وعظ‘‘ کہا جاتا ہے۔
مثلاً : اگر دریا میں طغیانی ہو اور سیلاب کا رخ کسی کے گھر کی طرف ہو… اور اِتفاق سے وہ اپنے اَہل خانہ سمیت گھر میں موجود ہو…تو یقیناًتم یہی کہو گے : بچو ! جلدی کرو ! … ان خطرناک لہروں سے بچنے کی کوشش کرو… اور کیا تیرا دل یہ چاہے گا کہ اس نازک و پر خطر موقع پر صاحب خانہ کو پُرتکَلُّف عبارات… تَصَنُّع و بناوٹ سے بھرپور نکات اور اِشاروں سے خبر دے؟ …ظاہر ہے تُو ایسا کبھی نہیں چاہے گا… ( اور نہ ہی ایسی نادانی اور بے وقوفی کا مظاہرہ کرے گا ) پس یہی حال واعِظ و مُبلِّغ کا ہے… اسے بھی چاہئے کہ وہ پُرتکَلُّف عبارات اور تَصَنُّع و بناوٹ سے پرہیز کرے۔
{ 2 } …دوسری بات : وعظ و بیان کرنے میں ہر گز تمہاری نیت اور خواہش یہ نہ ہو کہ لوگوں میں واہ واہ کے نعرے بلند ہوں …ان پر وجد کی کیفیت طاری ہو… وہ گریباں چاک کر دیں … اور ہر طرف یہ شور ہو کہ کیسی زبردست محفل ہے… کیونکہ ایسی خواہش دنیا کی طرف جھکاؤ اور ریاکاری کی علامت ہے…جو حق سے غافل ہو نے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے… بلکہ تمہارا عزم و ارادہ یہ ہوناچاہئے کہ ( تم اپنے وعظ وبیان کے ذریعے ) لوگوں کو دنیا سے آخرت کی طرف راغب کر دو… گناہوں سے نیکیوں کی طرف… حرص و لالچ سے زہد ( یعنی دنیاسے بے رغبتی ) کی طرف… بخل و کنجوسی سے سخاوت کی طرف…دنیاکے دھوکے سے تقویٰ وپرہیز گاری کی طرف … ( ریاکاری سے اِخلاص کی طرف… تکبر سے عاجزی و اِنکساری کی طرف… اور غفلت سے بیداری کی طرف ) ماءل کرنے کی کوشش کرو… ان کے دلوں میں آخرت کی محبت پیدا کر کے دنیا کو ان کی نظروں میں ہیچ ( یعنی قابل نفرت ) بنا دو … اور انہیں عبادت اور زہد کے علم سے مالا مال کر دو… کیونکہ انسان کی طبیعت میں اس بات کا غلبہ ہے کہ وہ شریعت مطہَّرہ کی سیدھی راہ سے پھر کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی والے کاموں اور بیہودہ عادات و اَطوار میں جلد مشغول ہو جاتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع