دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Betay ko Nasihat | بیٹے کو نصحیت

book_icon
بیٹے کو نصحیت

            جب حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے یہ8فوائدسنے تواِرشاد فرمایا :    اے حاتم !  اللہ  عَزَّوَجَلَّآپ کو  (  اِخلاص و اِستقامت کے ساتھ  ) ان پرعمل کرنے کی توفیق سے مالا مال فرمائے … میں   نے تَورات ،   اِنجیل  ،   زبُور اور قرآن مجید کی تعلیمات میں   غور کیا تو اِن تمام مقدس کتابوں   کو ان 8 فوائدپرمشتمل پایا… تو جس خوش نصیب نے ان پر عمل کیا گویا اس نے ان چار وں  کتابوں   پر عمل کیا۔

مُرشِدکی اَہمیت وضرورت

اے لخت جگر !

            ان دونوں   حکایتوں   سے تم نے جان لیاہوگاکہ تمہیں   زیادہ اور غیرضروری علم کی ضرورت نہیں    ( بلکہ عمل کی ضرورت ہے ) … اب میں   تمہیں   ان اُمور سے آگاہ کرتا ہوں   کہ راہِ حق کے سالک  ( یعنی چلنے والے ) پر کون سی باتیں   لازم ہیں  ۔  

            یہ بات ذہن نشین کر لو کہ سالک کو رہنمائی اور تربیّت کرنے والے ایک شیخ  ( یعنی مرشدکامل ) کی ضرورت ہوتی ہے… تا کہ وہ اپنی خصوصی تربیت سے مرید کے برے اَخلاق کو جڑ سے ختم کر دے اور ان کی جگہ اچھے اَخلاق کا بیج بَو دے…تربیت کی مثال بالکل اس طرح ہے جس طرح ایک کسان کھیتی باڑی کے دوران اپنی فصل سے غیر ضروری گھاس اور جڑی بوٹیاں   نکال دیتا ہے …تاکہ فصل کی ہریالی اور نشوونما میں   کمی نہ آئے …اسی طرح راہِ حق کے سالک کے لئے ایک ایسے مرشد کامل کا ہونا نہایت ہی ضروری ہے جو اس کی اَحسن طریقے سے تربیت کرے… اور اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے راستے کی طرف اس کی رہنمائی کرے… ربّ ِکریم عَزَّوَجَلَّ نے انبیاء ورُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس لئے مَبعُوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں   کو اللہ  عَزَّوَجَلَّ کا راستہ بتائیں  … مگر جب آخری رسول ، حضورخاتم النبین صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس جہان سے پردہ فرماگئے  ( اورنَبُوَّت و رسالت کا سلسلہ آپ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ختم ہوا )  تو اس منصب ِجلیل کو خلفائے راشدین رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بطورِ نائب سنبھال لیا …اور لوگوں   کو راہِ حق پر لانے کی سعی و کوشش فرماتے رہے۔

پیرکامل کاعالِم ہوناضروری ہے :   

            یاردرہے کہ حضورنبی ٔکریم  ،  رء ُوفٌ رَّحیمصلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نائب ہونے کے لئے ’’پیرکامل‘‘  کا عالم ہونا شرط ہے… لیکن اس بات کابھی خیال رہے کہ ہرعالِم حضورتاجدارِ دوجہان   ، مکی مدنی سلطان صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نائب بننے کی صلاحیت نہیں   رکھتا۔    ([1])

 پیر کامل کے 26 اَوصاف :   

            اب ہم  ’’پیرکامل‘‘ کی بعض علامات مختصراً ذکر کرتے ہیں   تاکہ ہر کوئی ’’پیرکامل‘‘ ہونے کا دعوی نہ کرے :   

 { 1 } … ’’پیرکامل‘‘  وہی ہے جس کے دل میں   دنیا کی محبت اور عزّت و مرتبے کی چاہت نہ ہو۔  

 { 2 } … وہ ایسے مرشد ِ کامل سے بیعت ہو جو نورِ بصیرت سے مالا مال ہو۔   { 3 } … اس کا سلسلہ رحمت ِعالم ،   نُوْرِِمُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک متّصل اور ملا ہوا ہو۔   { 4 } … نیک اَعمال بجا لانے والا ہو۔   { 5 } … ریاضت ِ نفس کا عادی ہو۔   { 6 } … یعنی کم کھانے  { 7 } … کم سونے  { 8 } …کم بولنے  { 9 } … کثرتِ نوافل  { 10 } … زیادہ روزے رکھنے اور  { 11 } … خوب صدقہ وخیرات کرنے جیسے نیک اَعمال کرنے والا ہو۔   { 12 } … نیز وہ ’’پیرکامل‘‘ اپنے شیخ کے کامل اِتباع کے سبب صبر  { 13 } …نماز { 14 } …شکر { 15 } …



[1]    دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 137 صَفحات پر مشتمل کتاب ’’آدابِ مرشدِ کامل‘‘ کیصَفْحَہ 14 تا 16 پر ہے :   سَیِّدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ افریقہ میں   تحریرفرماتے ہیں   کہ مرشِد کی دوقِسمیں   ہیں   :   {۱} مُرْشِدِ اِتّصال{۲}مُرْشِدِ اِیْصال۔

{۱} مُرْشِدِ اِتّصال یعنی جس کے ہاتھ پر بَیْعَتْ کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پُر نور سَیِّد المرسلین صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک متصِل ہوجائے اس کے لئے چار شرائط ہیں   :    پہلی شَرْط :  مرشِد کا سلسلہ بِاِ تّصال صحیح(یعنی دُرُست واسطوں   کیساتھ تعلق) حضورِ اَقدس صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچتا ہو۔  بیچ میں   مُنقَطع (یعنی جُدا) نہ ہو کہ مُنقَطع کے ذریعہ اِ تِّصال (یعنی تعلق) نا ممکن ہے … بعض لوگ بِلا بَیْعَتْ(یعنی بِغیر مرید ہوئے) ،    مَحض بَزُعمِ وراثت (یعنی وارث ہونے کے گمان میں  ) اپنے باپ دادا کے سَجادے پر بیٹھ جاتے ہیں   یا… بَیْعَتْ کی تھی مگر خلافت نہ ملی تھی ،    بِلا اِذْن (بِغیر اجازت) مرید کرنا شروع کردیتے ہیں   یا … سلسلہ ہی وہ ہوکہ قَطْع کر دیا گیا ،    اس میں   فیض نہ رکھا گیا ،    لوگ برائے ہَوَس اس میں   اِذْن و خلافت دیتے چلے آتے ہیں   یا… سلسلہ فی نفسہٖ صحیح تھا مگر بیچ میں   ایسا کوئی شخص واقع ہوا جو بوجہ اِنتِفائے بعض شرائط قابلِ بیعَت نہ تھا… اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ میں   مُنْقَطِع (یعنی جُدا) ہے… ان تمام صورتوں  میں   اس بَیْعَتْ سے ہر گز اِتِّصال (یعنی تعلق) حاصل نہ ہو گا۔  (بیل سے دودھ یابانجھ سے بچہ مانگنے کی مَت جدا ہے)۔ د وسری شَرْط :  مرشِد سُنّی صحیح العقیدہ ہو۔  بدمذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رُسُوْلُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک… آج کل بَہُت کھلے ہوئے بددینوں   بلکہ بے دینوں   کہ جو بَیْعَتْ کے سِرے سے منکر و دشمنِ اَولیاء ہیں   ،   مکاری کے ساتھ پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے…ہوشیار! خبردار! احتیاط! احتیاط! تیسری شَرْط :  مرشِدعالم ہو۔ یعنی کم از کم اتنا علْم ضَروری ہے کہ بِلا کسی اِمداد کے اپنی ضَروریات کے مسائل کتاب سے نکال سکے…کُتُب بینی (یعنی مطالَعَہ کرکے) اور اَفواہِ رِجال (یعنی لوگوں   سے سن سن کر) بھی عالم بن سکتا ہے(مطلب یہ ہے کہ فارغُ التحصیل ہونے کی سَنَد نہ شرْط ہے نہ کافی بلکہ علْم ہونا چاہئے) …علمِ فِقْہ(یعنی اَحکامِ شریعَت) اس کی اپنی ضَرورت کے قابل کافی …اورعقائد ِاہلسنت سے …

…لازمی پوراواقف ہو … کُفْرو اسلام  ،    گمراہی و ہدایت کے فرق کا خوب عارِف (یعنی جاننے والا) ہو۔  چوتھی شرط :   مرشِد فاسِق مُعْلِن (یعنی اعلانیہ گناہ کرنے والا) نہ ہو۔  اس شرط پر حُصولِ اِ تِّصال کا تَوَقُّف نہیں   یعنی حضور صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تعلق کا دارومَدار اس شرط پر نہیں  … کہفُجُوْروفِسْق باعثِ فِسخ(منسوخ ہونے کا سبب) نہیں  … مگر پیر کی تعظیم لازِم ہے اور فاسق کی توہین واجب اور دونوں   کا اِجتماع باطل (اسے اِمامت کے لئے آگے کرنے میں   اس کی تعظیم ہے اور شَرِیْعَت میں   اس کی توہین واجب ہے)۔

{۲}مُرْشِدِ اِیْصال یعنی شرائطِ مذکورہ (یعنی جن شرائط کا ذکر کیا گیا) کے ساتھ (۱) مَفاسِدِ نَفْس(نفس کے فتنوں  ) (۲)مَکائدِ شیطان(شیطانی چالوں  ) اور(۳)مَصائدِ ہوا(نفس کے جالوں  ) سے آگاہ ہو(۴) دوسرے کی تربیت جانتا ہو (۵) اپنیمُتَوَسِّل پرشفقت تامہ رکھتا ہو کہ اس کے عُیُوْب پر اسے مطلع کرے ان کا علاج بتائے اور (۶) جو مشکلات اس راہ میں   پیش آئیں   انہیں   حل فرمائے۔                                  ( فتا وی افریقہ ،   ص۱۳۸ )

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن