دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Betay ko Nasihat | بیٹے کو نصحیت

book_icon
بیٹے کو نصحیت

سالک کے لئے ضروری باتیں  

             سالک  ( مرید )  کے لیے 4باتیں   ضروری ہیں   ۔

 { ۱ } ایسا صحیح عقیدہ اپنانا جس میں   بدعت شامل نہ ہو۔  

  { ۲ } ایسی سچّی توبہ کرنا کہ پھر گناہوں   کی طرف نہ پلٹے۔

 { ۳ } جو ناراض ہیں   انہیں   راضی رکھنا تاکہ اس پر کسی کا کوئی حق باقی نہ رہے۔

 { ۴ } اتنا علمِ دین حاصل کرنا کہ اللہ  عَزَّوَجَلَّکے اَحکامات کو بہتر طریقے سے ادا کرسکے نیز اس قدر عُلُومِ آخرت کا حصول بھی ضروری ہے جو نجات کا باعث بن سکے۔  

چارہزاراَحادیث میں  سے  صرف ایک

            حضرت سیِّدُنا شیخ شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِینے اِرشادفرمایاکہ میں   نے 400 عُلمائے کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامکی خدمت میں   رہ کر4 ہزاراَحادیث ِ مبارکہ پڑھیں  اور پھران میں   سے صرف ایک حدیث شریف کو منتخب کیااور اس پر عمل کرنے لگا کیونکہ میں   نے اس حدیث ِ پاک میں   خوب غور و فکر کیا تو عذا ب سے چھٹکارا اور اپنی نجات وکامیابی اور عُلُومِ اوّلین و آخرین کو اس میں   موجود پایا۔  لہٰذا اس حدیث شریف کو عمل کے لئے کافی سمجھا اور وہ عظیم الشان  حدیث ِ پاک یہ ہے :    

            رسولِ اَکرم ، نُوْرِمُجَسَّم ، شاہ ِبنی آدم صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے اِرشاد فرمایا :    ’’اِعْمَلْ لِدُنْیَاکَ بِقَدْ رِمَقَامِکَ فِیْھَاوَ اعْمَلْ لِآخِرَتِکَ بِقَدْ رِبَقَاءِکَ فِیْھَا وَاعْمَلْ لِلّٰہِ بِقَدْ رِحَاجَتِکَ اِلَـیْہِ وَاعْمَلْ لِلنَّارِبَقَدْ رِصَبْرِکَ عَلَیْھَا

یعنی :   جتنا دُینا میں   رہنا ہے اُتنا دنیا کے لئے اور جتنا عرصہ آخرت میں   رہناہے اتناآخرت کے لئے عمل کر اور اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے لئے عمل ( یعنی عبادت )  کر جتناکہ تُو اس کا محتاج ہے اور دوزخ کی آگ کے لئے اتنا عمل ( یعنی گناہ ) کر جتناتو برداشت کرسکے ۔ ‘‘ ([1])

اے نورِ نظر !

            جب تم اس حدیث ِپاک پر عمل کرو گے تو پھر تمہیں   کثرتِ علم کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔

30سالہ دورِطالبِ علمی کاخُلاصہ

            عمل کا جذبہ پانے کے لئے ایک اور حکایت سنو… حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَکَمحضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے شاگرد تھے۔  ایک دن اُستاذصاحب نے ان سے دریافت فرمایا :   ’’ آپ30سال سے میری صحبت میں  ہیں  ۔  اتنے عرصے میں   کیا حاصل کیا؟ ‘‘ تو حضرت سیِّدُنا حاتم اصم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَکَم نے  عرض کی :   ’’ میں   نے علم کے 8 فوائد حاصل کئے جو میرے لئے کافی ہیں   اور مجھے امیدہے کہ ان پر (  اِخلاص و اِستقامت کے ساتھ )  عمل کی صورت میں   میری نجات ہے۔ ‘‘ حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے جب ان فوائد کے بارے میں   دریافت فرمایاتو انہوں   نے وہ فوائدیوں   بیان کئے :   

 { 1 } …پہلا فائدہ :   

            میں   نے لوگوں   کو بنظر ِغور دیکھا کہ ان میں   سے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی محبوب و معشوق ہے جس سے وہ عشق و محبت کا دم بھرتا ہے… لیکن لوگوں   کے محبوب ایسے ہیں   کہ ان میں   سے کچھ مرض الموت تک ساتھ دیتے ہیں   اور کچھ قبر تک… پھر تمام کے تمام واپس لوٹ جاتے ہیں   اور اسے قبر میں   تنہا چھوڑ دیتے ہیں   اور ان میں   سے کوئی بھی اس کے ساتھ قبر میں   نہیں   جاتا… لہٰذا میں   نے غور و فکرکے بعددل میں  کہا :    بندے کا سب سے اچھا ،   محبوب اور بہترین دوست تو وہ ہے جو اس کے ساتھ قبر میں   جائے اور وہاں   کی وحشت و گھبراہٹ کی گھڑیوں   میں   اس کا مُونس اور غم خوار ہو… تو مجھے سوائے ’’نیک اَعمال‘‘ کے کوئی اس قابل نظر نہ آیا تو میں   نے نیک اَعمال کو اپنا محبوب بنا لیا تاکہ یہ میرے لئے قبر  ( کی تاریکیوں   )  میں   چراغ بن جائیں  …وہاں   میرا دل بہلائیں   …اور مجھے تنہا نہ چھوڑیں  ۔

 { 2 } …دوسرافائدہ :   

            میں   نے دیکھا کہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں   اور نفسانی خواہشات کی جانب بڑی تیزی سے بڑھتے ہیں  …توپھرمیں   نے ربّ ِکریم عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عظیم میں   غور کیا :    

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰)فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱) ( پ۳۰ ،   النّٰزعٰت  :     ۴۱ ،   ۴۰ )

ترجَمہ کنز ُالایمان :   اوروہ جو اپنے ربّ کے حُضور کھڑے ہو نے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانہ ہے ۔

            اورمیرااِیمان ہے کہ قرآنِ حکیم حق اور اللہ  عَزَّوَجَلَّ کا سچاکلام ہے…پس میں   نے اپنے نفس کی مخالفت شروع کردی … ریاضت و مجاہدات کی طرف مائل ہوا … اور نفس کی کوئی خواہش پوری نہ کی یہاں   تک کہ یہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت و فرمانبرداری پر راضی ہو گیا اور سرتسلیم خم کردیا۔  

 { 3 } …تیسرا فائدہ :   

             میں   نے دیکھاکہ ہر آدمی دنیاکامال و دولت جمع کرنے اوراسے ذخیرہ کرنے میں   مشغول ہے…تو میں   نے اللہ  عَزَّوَجَلَّکے اس فرمانِ لازوال میں   غور کیا :    

 



[1]    تفسیرروح البیان ،   سورۂ صٓ ،   تحت الایۃ  :   ۲۹ ،   ج۸ ،   ص۲۵.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن