30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بارگاہِ خُداوندی میں عرض گزار ہوا : ’’اے مىرے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مىں نے بىس سال تک تىرى اِطاعت کى پھر بىس سال تک تىرى نافرمانى کى، اب اگر مىں تىرى بارگاہ میں رجوع کروں تو کىا تو مجھے قبول فرمائے گا؟‘‘ اس نے کسى کہنے والے کویہ کہتے سُنا : ’’ تو نے ہم سے مَحبَّت کى تو ہم نے بھی تجھ سے مَحبَّت کى پھر تو نے ہمىں چھوڑ دىاتو ہم نے بھى تجھے چھوڑ دىا، تو نے ہمارى نافرمانى کى ہم نے تجھے مُہلت دى اور اگر تو ہمارى طرف آئے گا تو ہم تجھے قبول کرلىں گے ۔ ‘‘([1])
حضرت سَىِّدُنا موسیٰکلیمُاللہعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے مىں اىک آدمى توبہ پرقائم نہىں رہتا تھا، جب بھى توبہ کرتا توڑ ڈالتا تھا، بىس سال تک وہ اسی حال پررہا، پھراللہ تعالىٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کى طرف وحى فرمائى کہ مىرے بندے سے کہو مىں اس پر غَضَبْناک ہوں ۔ حضرت موسىٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس تک ىہ پىغام پہنچادىا ۔ وہ بڑا غمگىن ہوا اور یہ کہتا ہواصحرا کى طرف چل پڑا، اے مىرے ربّ! کىا تىرى رحمت ختم ہوگئى ہے ىا مىر ى نافرمانى نے تجھے نُقْصان پہنچایا ہے ىا تىرى مُعافى کے خزانے ختم ہوگئے ہیں، کون سا گناہ تیرے عَفْووکرم سے بڑا ہے ، کرم تیری قدیم صفت ہے اور کمینگی میری خَصْلت ہے تو کیا میری صفت تیری صفت پر غالب آسکتی ہے ، اگر تو اپنے بندوں سے اپنی رحمت روک لے گا تو وہ کس کے پاس جائیں گے ؟اگر تو نے انہىں رَد کردىا تو یہ کس کے پاس جائىں گے ؟ اے مولا! اگر تىرى رحمت ختم ہوگئى ہے اور مجھے عذاب دىنا لازم ہوگىا تو اپنے تمام بندوں کا عذاب مجھ پر رکھ دے ، مىں اپنى جان ان کے بدلے بطورِفِدْیَہ پىش کرتا ہوں ۔ اللہ تبارک و تعالىٰ نے ارشاد فرماىا : ’’ اے موسىٰ! اس کى طرف جاؤ اور اس سے کہو کہ اگر تىرے گناہ زمىن بھر ہوں تب بھى میں تجھے بخش دوں گاکہ تو نے مجھے کمال قُدْرت وعَفْوو رحمت کے ساتھ جان لىاہے ۔ ‘‘([2])
کرکے توبہ مىں پھر گناہوں مىں ہو ہى جاتا ہوں مبتلا ىاربّ
کس کے در پر مىں جاؤں گا مولا گر تو ناراض ہوگىا ىاربّ(وسائل بخشش، ۸۷، ۸۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ رِقَّت انگیز رحمت بھرے واقعات سُن کر یقیناً ہمارے دلوں کو ڈھارَس ملی ہوگی بلکہ عین ممکن ہے کہ ہم توبہ بھی کرلیں مگر یاد رکھئے کہ توبہ پر اِسْتِقامت حاصل کرنے کے لئے لازمی طور پر اچھا ماحول اور نیکوں کی صحبت نہایت ضروری ہے ورنہ توبہ کے بعد دوبارہ گناہوں کی طرف جانے کا اَندیشہ ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامى کا مدنی ماحول ہمارے لئے بہت بڑی نِعمت ہے ۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ اس ماحول مىں رَچے بَسے رہىں گے تو نیکیوں کا جَذبہ ملے گا، گناہوں سے نَفْرت ہوگی اور سابقہ گناہوں پر نَدامت کے ساتھ خالص توبہ بھی نصىب ہوجائے گى ۔ آیئے اس ضمن میں ایک مدنی بہار مُلاحظہ کیجئے :
بابُ المدینہ( کراچی) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میری زِندگی کے قیمتی ایام گناہوں کی پُرخار وادیوں میں بھٹکتے بسر ہو رہے تھے ، نمازیں قضا کرنا، نَفْسانی خواہشات کی تسکین کی خاطِرفلمیں ڈرامے دیکھنا، گانے باجے سن کر مَسْت ہوجانا، جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دینا ، ان کی دل آزاری کرنا اور مذاق ومسخری کے ذریعے ان کو پریشان کرنا وغیرہ گناہوں سے میرا نامۂ اعمال بھرا ہواتھا ۔ میں دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر کھویاہوا تھا کہ مجھے اَنجام ِآخرت کی بالکل فِکر نہ تھی کہ اگر گناہوں کی پاداش میں عذابِ جہنّم میں گرفتار ہوگیا تو میرا کمزور وناتواں جسم کس طرح اسے برداشت کر پائے گا ۔ میری اِصلاح کا سبب کچھ اس طرح بنا کہ غالباً 2001ءکی بات ہے ایک دن نمازکی ادائیگی کیلئے مسجدجاناہوا، وہاں ایک عاشقِ رسول سنّتوں کے آئینہ دار اسلامی بھائی درسِ فیضانِ سُنَّت دے رہے تھے ، میں بھی نماز اداکرنے کے بعد درسِ فیضانِ سُنَّت کی برکتیں پانے کے لیے قریب جاکر بیٹھ گیا اور بغور سننے لگا، نجانے لفظوں میں ایسی کیا تاثیر تھی کہ جُوں جُوں سنتا گیا میرے دل کا میل دُھلتا گیا اور میں نے ہاتھوں ہاتھ گناہوں سے دامن چُھڑانے اور نمازوں پر اِسْتقامت پانے کی نیّت کرلی اور اپنی نیّت کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے دعوتِ اسلامی کامدنی ماحول اختیار کرلیا ۔ نیز دینی معلومات میں اضافہ کرنے ، نیک اعمال کا جَذبہ حاصل کرنے اور گناہوں سے خود کو بچانے کیلئے وَقْتافَوَقتا شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنّتوں بھرے بیانات سننے کی سعادت حاصل کرنے لگا ۔ رفتہ رفتہ مجھے امیرا ہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات سے اس قدر لگاؤ ہوگیا کہ جب بھی کوئی نیا بیان آتا میں اسے ضرور سنتا حتی کہ وسائل نہ ہونے کی صورت میں اپنے علاقے میں قائم ایک لائبریری سے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات اور ملفوظات کے کیسٹ حاصل کر کے اپنا شوق پورا کرتا ۔ بیان کے آخرمیں جب امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ گناہوں سے بچنے اور نمازیں پڑھنے کی نیت کرواتے تومیں بھی بے ساختہ ہاتھ اٹھا کر گناہوں بھری زندگی چھوڑنے اور سنّتوں کو اختیار کرنے کا عَزمِ مُصَمَّم کرتا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمجھے مدنی ماحول اپنانے کی برکت سے نہ صرف گناہوں کے اَمراض سے شِفا ملی بلکہ جسمانی بیماریاں بھی دُور ہوگئیں ۔ کافی عرصے سے میرے جسم پر دانے تھے نیز سینے اور پسلیوں میں شدید درد رہتاتھا کافی علاج کروایا مگر فائدہ نہ ہواخدا کی قُدرت دیکھئے کہ مدنی ماحول اپنانے کے بعد دانے اور درد خود بخود ختم ہوگئے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر تقریبا آٹھ سال ہوگئے میں بالکل ٹھیک ہوں حلقہ مُشاورت کے خاد ِم (نگران) کی حیثیَّت سے علاقے میں مدنی کاموں کی ترقی کے لیے کوشاں ہوں ۔ ‘‘ اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
| شمار | کتاب | مصنف / مؤلف | مطبوعہ |
| 1 | قرآن پاک | کلام باری تعالیٰ | مکتبۃ المدینۃ۱۴۳۲ھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع