دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Betay ki Wasiyat | بیٹے کی وصیت

book_icon
بیٹے کی وصیت

ہوئے تو حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وعدہ فرمایا کہ اگر وہ اللہ (عَزَّ  وَجَلَّ )پر ایمان لائیں اور اس کے رسول (عَلَیْہِ الصلوۃُ السَّلَام) کی تصدیق کریں اور اس کے حضور توبہ و اِسْتِغْفار کریں تو اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا اور ان کی زمینوں کو سرسبز و شاداب کر کے تازہ زندگی عطا فرمائے گا اور قوّت و اولاد دے گا ۔ حضرت امام حسنرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ایک مرتبہ امِیْرِ مُعاوِیہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) کے پاس تشریف لے گئے تو آپ سے امِیْرِ مُعاوِیہ (رضی  اللّٰہ تعالٰی عنہ)کے ایک مُلازم نے کہا کہ میں مالدار آدمی ہوں مگر میرے کوئی اولاد نہیں مجھے کوئی ایسی چیز  بتائیے جس سے اللہ(عَزَّ  وَجَلَّ) مجھے اولاد دے ۔ آپ نے فرمایا : ’’اِسْتِغْفار پڑھا کرو ۔ ‘‘ اس نے اِسْتِغْفار کی یہاں تک کثرت کی کہ روزانہ سات سومرتبہ اِسْتِغْفار پڑھنے لگا اس کی برکت سے اس شخص کے دس بیٹے ہوئے ۔ یہ خبر حضرت (سَیِّدُنا)مُعاوِیہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)کو ہوئی تو اُنہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ تو نے حضرت (سَیِّدُنا) امام (حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)سے یہ کیوں نہ دریافت کیا کہ یہ عمل حُضُور نے کہاں سے فرمایا ۔  دوسری مرتبہ جب اس شخص کو امام (حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)سے نیاز (شرفِ مُلاقات) حاصل ہوا تو اس نے یہ دریافت کیا، امام(حسنرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)نے فرمایا کہ تو نے حضرت ہود(عَلَیْہِ السَّلَام)کاقول نہیں سناجواُنہوں نے فرمایا : ’’ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ (ترجَمۂ کنز الایمان : تم میں جتنی قوّت ہے (اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ) اس سے اورزیادہ  دے گا) اور حضرت نوحعَلَیْہِ السَّلَامکایہ ارشاد’’ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ ‘‘ (ترجَمۂ کنز الایمان : (اللہ عَزَّ  وَجَلَّ)مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا)فائدہ : کثرتِ رزق اور حصولِ اولاد کے لئے اِسْتِغْفارکا بکثرت پڑھنا قرآنی عمل ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

توبہ کا عجب انداز!

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ ہمارا ازلی دُشمن شیطان اتنی آسانی سے ہمیں توبہ پر آمادہ نہیں ہونے دے گابلکہ توبہ کی راہ میں طرح طرح کی رَخْنہ اَ نْدازِیاں پیدا کرکے ہمیں اس کے دُنْیوی و اُخْروی فوائد سے محروم کرنے کی کوشش کرے گا ۔ ہوسکتا ہے وہ اس قسم کے وَسْوَسوں میں بھی مبتلا کرے کہ ’’ابھی میری عُمر ہی کیا ہے ، ابھی تو جوانی کی بہاریں بھی نہیں دیکھیں، ابھی تو بال بھی سفید نہیں ہوئے وغیرہ وغیرہ‘‘اوراگر بالفرض ہم ان وَسْوَسوں سے بچ بھی جائیں تو عین ممکن ہے کہ وہ ہمیں دُرُست انداز سے توبہ نہ کرنے دے جیساکہ آج کل توبہ کا بھی عجیب انداز دیکھا جاتا ہے کہ لبوں پرمسکراہٹ بلکہ بعض اوقات ہنسی کے فَوارے اُبل رہے ہوتے ہیں اور گالوں پر آہستہ آہستہ چپت مارتے ہوئے ’’توبہ  توبہ‘‘ بول کر دل کو منا لیا جاتاہے کہ توبہ ہو گئی ۔ یاد رکھئے !یہ حقیقی نہیں مَحْض رسمی توبہ ہے ۔  

حضرت سَىِّدُنا ابنِ عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے رواىت ہے کہ بہت سے توبہ کرنے  والے قىامت کے دن رَدْ کردئیے جائیں گے ۔ ان کا  گمان ہوگا کہ وہ توبہ کرنے والے ہىں حالانکہ وہ توبہ کرنے والے نہىں ہىں ۔ کیونکہ اُنہوں نے توبہ کے تَقاضے پورے نہیں کیے ۔ ([1])

سچّی توبہ کی علامات

حضرتِ سَیِّدُناعبدُاللّٰہ بِنْ مُبارَک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’سچّی توبہ کی چھ علامات ہیں : (۱)گُزِشْتہ گُناہوں پر نادِم ہونا(۲)گُناہوں کی طرف نہ لوٹنے کا عَزمِ مُصَمَّم(پختہ ارادہ) (۳)جن فرائض میں کوتاہی کی ہے ان کی ادائیگی(۴)جن کا حَق تَلَف کیا ہے انہیں ان کاحق دینا(۵)ناجائزوحرام مال سے بدن پر جو چربی چڑھ گئی ہو اُسے غَم وحُزن کے ذریعے پگھلانا یہاں تک کہ کھال ہڈی سے چمٹ جائے اور پھر اگر اُس پہ گوشت آئے تو ایسا گوشت آئے جو حلال و طیب سے پروان چڑھا ہو(۶)جس طرح بدن کو نَفْسانی خواہشات کی لذّت پہنچائی ہے اسی طرح اسے اطاعت کا مزہ چکھانا ۔ ‘‘([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                     صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

توبہ کا دُرُست طریقہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس سے قبل کہ موت کا فرشتہ پیغام ِاَجل لے کر آجائے اوردیکھتے ہی دیکھتے ہمیں اندھیری قبر میں اتر کر اپنے گُناہوں کا انجام بھگتنا پڑے آئیے !اپنے نَفْس کا مُحاسَبہ کیجئے اوراسے گُناہوں پرسَرزنِش کیجئے ، مثلاً زبان سے سَرزَد ہونے والے گُناہوں پراپنے نَفْس کو اس طرح ڈانٹئے کہ اے نَفْس!تىرے ربّعَزَّ وَجَلَّ نے تجھے زبان جیسی عظیمُ الشَّان نِعْمت عطاکی، چاہئے تو یہ  تھا کہ تو اس سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کاشکر  اوراس کى حمد بجالاتا، قرآن پاک کى تلاوت کرتا اورذِکر ودُرُود سے اس کو تر رکھتا، مگر افسوس !تو نے اس  عظیم نِعْمت کی بے قدری کرتے ہوئے اس کا غلط استعمال کیا اوراس کے ذریعے جھوٹ، غىبت، چُغْلى، بلا اجازتِ شرعى مُسلمانوں کى دل آزارى جیسے گُناہوں کا مُرتکب ٹھہرا ۔ ذرا سوچ تو سہی!اگر وہ تجھے قوتِ گویائی سے محروم کردیتا  تو تیرا کیا بنتا؟اسی طرح دیگر اَعضاسے گناہ ہونے پربھی  نَفْس کو تَنْبِیْہ کرتے رہنا چاہئے اور یہ بھی غور کرناچاہئے  کہ اللہعَزَّ  وَجَلَّ   ہم پر کس قدر مہربان ہے کہ جب ہم گناہ کرتے ہیں تو وہ اس گناہ پرہماری بَروَقت گرِفْت نہىں فرماتا بلکہ ہمیں  مُہلت دىتا ہے کہ ہم توبہ کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں ۔ آئیے ترغیب کے لئے دو واقعات مُلاحَظہ کیجئے ۔

ندامت کا صلہ

بنى اسرائىل کے  اىک نوجوان نے بىس سال تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کى عبادت کى پھر بىس سال تک اس کی نافرمانى کى ، پھرایک دن آئىنہ دىکھا تو اپنی داڑھى مىں سفىد بال  دیکھ کرغم زدہ ہوگىااور



[1]     شعب الایمان، باب فی معالجة کل ذنب بالتوبة،

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن