30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تُوْبُوْ ا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس طرح کے کتنے ہی کام ہىں جوشرعاً ناجائز وحرام ہىں لىکن بدقسمتى سے آج کا مسلمان اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے پیارے رسولصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے منع کرنے کے باوجود ان کاموں کو فخرىہ انداز مىں نہ صرف خود کرتابلکہ اس کى تَشْہِیر کرکے دوسرے مُسلمانوں کو بھی اپنی مذموم حرکتوں کی طرف راغب کر رہاہے ۔ جی ہاں! اپنے دوست احباب کی مَحافل میں بیٹھ کر اپنی رِشْوت ستانی، فراڈ، سُودی کاروباراور دیگرغیرشرعی اَفعال کے ذریعے کثیر آمدنی حاصل ہونے کے قصّے اورفلموں ڈراموں، گانے باجوں کی باتیں کس طرح مزے لے لے کر بیان کی جاتی ہیں ۔ دوسروں کو اپنے گُناہوں بھرے کرتوت سنانے والا اگرچہ یہ نہىں کہتاکہ مىں نے اللہعَزَّ وَجَلَّ اوراس کے رسولصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى نافرمانى کى ہے لىکن جو قصّے وہ سنا رہا ہے درحقیقت نافرمانى ہی پر مبنی ہوتے ہیں اس طرح گویا وہ زبانِ قال سے نہ سہی مگر زبانِ حال سے یہی کہہ رہا ہوتا ہے کہ مىں نے فُلاں فُلاں کاموں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکى نافرمانى کى ہے آؤ!تم بھی کروبہت مزاآتا ہے مثلاً ایک دوست دوسرے سے کہتا ہے ’’فُلاں فلم نئی آئی ہے میں نے دیکھی ہے بڑا مزا آیا تم بھی ضرور دیکھنا‘‘ ۔ ہمیں چاہئے کہ دلچسپی کے ساتھ گُناہوں بھرے قصّے سننے اور ایسے لوگوں کاحوصلہ بڑھانے کے بجائے خود بھی گُناہوں سے بچیں اور انہیں بھی اَحسن انداز میں نیکی کی دعوت دیتے ہوئے توبہ و اِسْتِغْفار کرنے اورآئندہ گُناہوں سے باز رہنے کا ذہن دیں ۔
یاد رکھئے !گُناہوں کی وجہ سے جہاں انسان کا ظاہری کردار داغ دار ہوتا ہے وہیں اس کے باطن میں بھی خرابی پیدا ہوجاتی ہے جس کے سبب گُناہوں کی طرف اس کا رُجحان بڑھ جاتا ہے اور نیکیوں میں دل نہیں لگتا ۔
رسولِ اکرم، نورِمُجسَّم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے : ’’جب کوئی بندہ گُناہ کرلیتا ہے ، تو اس کے قَلْب پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے ، لیکن جب وہاللہ تعالیٰ سے طلب ِ مَغْفِرت کرتا ہے اورتوبہ کرلیتا ہے تو اس کا قَلْب صاف کردیا جاتا ہے اوراگروہ (توبہ کے بجائے دوبارہ)گُناہ کرلے تو یہ سیاہی مزید بڑھ جاتی ہے ، یہاں تک کہ اس کاسارا دل سیاہ ہوجاتا ہے ۔ ([1])
یقیناً جس طرح ’’ہرمرض کی دواہوتی ہے ‘‘اور ہرپریشانی کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے اسی طرح گُناہوں کے سبب دل کے سیاہ اور زَنگ آلود ہونے والی پریشانی کا یقینی حل بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ انسان گناہوں سے باز آجائے اور اللہعَزَّ وَجَلَّ سے توبہ و اِسْتِغْفار(طلبِ مَغْفرت)کرے اس کی برکت سے نہ صرف اس کے دل کا زَنگ جاتا رہے گا بلکہ اللہعَزَّ وَجَلَّ اس کے گُناہ کا نام و نشان تک مٹادے گااور اس کی مشکلیں بھی آسان فرمائے گا ۔ آئیے اس ضمن میں 3 فرامینِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مُلاحظہ کیجئے ۔
1. بیشک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زَنگ لگ جاتا ہے اور اس کیصفائیطلبِ مَغْفرت ہے ۔ ([2])
2. جب بندہ اپنے گُناہو ں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہعَزَّ وَجَلَّ لکھنے والے فرشتوں کواسکے گُناہ بُھلادیتا ہے ، اسی طرح اس کے اَعْضا(ہاتھ پاؤں وغیرہ)کو بھی بُھلا دیتا ہے اور اس کے زمین پر نشانات بھی مٹا ڈالتا ہے ۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن جب وہ اللہعَزَّ وَجَلَّ سے ملے گا تو اللہعَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے اسکے گُناہ پر کوئی گواہ نہ ہوگا ۔ ([3])
3. جس نے اِسْتِغْفار کو لازم پکڑ لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام مشکلوں میں آسانی ، ہرغم سے آزادی اوربے حساب رِزْق عطا فرماتا ہے ۔ ([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرہم اِسْتِغْفار کی کثرت کریں تو اُمید ہے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّ ہم گنہگاروں پر اپنی عطاؤں کی ایسی بارش فرمائے جس کی برکت سے نہ صرف ہماری آخرت بہتر ہوجائے بلکہ تنگیِ رِزْق اور بے اولادی جیسی بڑی بڑی دُنْیوی پریشانیاں بھی دُور ہوجائیں ۔ جیسا کہ اللہعَزَّ وَجَلَّ حضرت سَیِّدُناہود عَلَیْہِ السَّلَام کا قول نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ(۵۲) (پ۱۲، ھود : ۵۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اے میری قوم ! اپنے ربّ سے معافی چاہوپھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا اور تم میں جتنی قوّت ہے اس سے اور زیادہ دے گا اور جُرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو ۔
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس آیتِ کریمہ کے تحت بیان فرماتے ہیں : ’’جب قومِ عاد نے حضرت ہود عَلَیْہِ السَّلَام کی دعوت قبول نہ کی تو اللہتعالیٰ نے ان کے کُفْر کے سبب تین سال تک بارش موقوف کر دی اور نہایت شدید قَحط نُمودار ہوا اور ان کی عورتوں کوبانجھ (وہ عورت جس کے بچہ پیدا نہ ہو)کر دیا جب یہ لوگ بہت پریشان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع