30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹی وی بڑا ہوتا ہے ہر وقت ساتھ رکھنا ممکن نہیں تھا لہٰذا MP3، MP4 اور موبائل فون جیسے چھوٹے چھوٹے الیکٹرونک آلات اور انٹرنیٹ نے گناہ کرنے کی راہ میں درپیش تمام رُکاوٹیں دورکردیں اور یوں مُعاشرے کے کروڑوں افراد ان چیزوں کے بے جا استعمال کے ذریعے گُناہوں کے بھنور میں پھنستے چلے جارہے ہیں اور مزید افسوس تو یہ ہے کہ گناہوں میں مگن ہونے کے باوجود اپنے سیاہ کرتوتوں کوصحیح سمجھتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ دوسروں کے سامنے اپنے اس گمانِ فاسد کا اظہار کرتے اور اس قسم کے جُرأت مَنْدانہ جُملے کہتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ ’’سب چلتا ہے ، سب ٹھیک ہے وغیرہ وغیرہ‘‘یقینا اسی سوچ نے مُعاشرے کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔ مَعَاذَاللہعَزَّ وَجَلَّدن بھر جانے اَنْجانے میں کتنے گُناہ کرتے ہیں مگر توبہ وندامت تو کُجا اس کا احساس تک نہیں ہوتااور جسے یہ احساس ہی نہیں کہ اس نے گُناہ کیا ہے وہ توبہ کى طرف کىسے آئے گا؟
آج فلمیں ڈرامے دیکھنے ، گانے باجے سننے پرکون شرمندہ ہوتاہے ؟جھوٹ، غیبت، تہمت، چُغْلی، وعدہ خِلافی، بدگُمانی اور گالی گلوچ جیسے گُناہوں پر کون رَنْجِیدہ ہوتا ہے ؟والدین کی نافرمانی، مسلمانوں کی حق تَلَفی ودل آزاری، چوری، ڈاکہ زَنی، قتل و غارت گری اور شراب نوشی کرنے پر کس کا سر شرم سے جُھکتا ہے ؟ نمازیں قَضا ہونے پر کس کو افسوس ہوتا ہے ؟عُموماً نمازی نظر آنے والے بھی فجر کی نماز میں سُستی کرجاتے اور اس پر کسی طرح کا افسوس بھی نہیں کرتے اس کے برعکس اگرنو بجے آفس پہنچنا ہے اورساڑھے آٹھ بجے آنکھ کھلى تو فِکرسے بے حال ہونے لگتے ہیں کہ کب ناشتہ کروں گا، کب تىار ہوں گااورکب دَفْتر پہنچوں گااسی پر بس نہیں بلکہ گھر والوں کو ڈانٹتے بھی ہونگے کہ جلدى کىوں نہىں اُٹھاىا؟ آفس کے لئے لىٹ اُٹھنے پرتو بڑا افسوس ہوتا ہے !مگر فجر مىں آنکھ نہ کھلنے پرکوئی افسوس نہیں ہوتا کیونکہ لىٹ ہونے کی صورت میں تنخواہ کٹ جانے کا ڈرہے لیکن فجرکی نماز نہ پڑھنے کے سبب جو دردناک عذاب ملے گا اس کا کوئی خوف نہیں ۔ ماں بھی اپنے بچوں کواسکول بھیجنے کی خاطر صُبْح سویرے اُٹھتی ہے فجر کا وقت بھی ہوتا ہے لیکن نمازنہیں پڑھتی، بلکہ مُسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد تو مَعَاذَاللہعَزَّ وَجَلَّپانچوں نمازىں نہایت ہی بے باکی اور لاپرواہی کے ساتھ ترک کردیتی ہے ۔ مگر کسی کواس کا افسوس نہیں ہوتاحالانکہ نماز پڑھنا مُسلمان پر فرض اور قَضا کرنا یا سِرے سے ترک کردینا گُناہِ کبیرہ حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعیدخُدْریرَضِی اللّٰہ تعالٰی عنہسے مروی ہے ، اللہعَزَّ وَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمارشادفرماتے ہیں : ’’مَنْ تَرَکَ صَـلَاةً مُتَعَمِّدًا کُتِبَ اِسْمُهٗ عَلٰی بَابِ النَّارِ فِیْمَنْ یَّدْخُلُھَا یعنی جو کوئی جان بوجھ کرایک نماز بھی قَضا کر دیتا ہے ، اس کا نا م جہنّم کے اس دروازے پر لکھ دیا جائے گا جس سے وہ جہنّم میں داخل ہوگا ۔ ‘‘([1])نَمازمیں سُستی کرنیوالے کو قبر اس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی ، اُس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی اوراُس پر ایک گنجا سانپ مُسَلَّط کردیا جائے گانیز قیامت کے روز اس کا حساب سَخْتی سے لیا جائے گا ۔ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ترکِ نماز کی ان وعیدوں کو سُن کر تو ہمارے جسم کا رُواں رُواں کانپ جانا چاہئے اورہمیں اپنے گُناہوں پر آنسوبہانا چاہئے مگر افسوس! ہمیں اپنے بُرے افعال پرفخرکرنے سے فُرصت ہی کہاں جو آنسو بہائیں ۔ ذرا مُعاشرے پر نظردوڑائیں اور دیکھیں کہ لوگ کس طرح گُناہوں پر فخر کرتے اِتراتے نظر آتے ہیں گویا اپنے ان افعال پر خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں ۔ آج کا نوجوان سونے کى چىن اور مختلف دھاتوں کی انگوٹھىاں اورکَڑے پہننے نیزعورتوں کی طرح لمبے لمبے بال رکھ کر گھومنے میں فخرمحسوس کرتا ہے اگر ان برائیوں کو باعثِ شرم جانتا تو ایسے افعال سے دوررہتا یاکم از کم بے باکانہ یوں سرِعام نہ پھر رہا ہوتا ۔ باپ اپنی بے پردہ فیشن زدہ لڑکی کو دیکھ کر فخر ہی تو کرتا ہے ورنہ شرم وغصّے سے اس کے چہرے کا رنگ اُڑ جاتا، اسی طرح اپنے سر سے حیا کی چادر اُتارنے والی خود وہ فیشن پرست لڑکی اور اسے دادِتحسین دینے والے افراد بھی توگویا اس بے پردگی پر فخر کرتے معلوم ہوتے ہیں ۔ اب تو نوبت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اگر کوئی مدنی ماحول کی بدولت پردہ کرنا چاہے تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے اور طَعْن و تَشْنِیْع کے تیر برسائے جاتے ہیں ۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں ماں باپ کے سامنے جوان بیٹی ناچ رہی ہوتی ہے اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، منگىتر لڑکى کا ہاتھ پکڑ کر منگنى کى انگوٹھى پہناتا ہے تو لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے ، اسی طرح رسولُاللہصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک سُنَّت داڑھی شریف مُنْڈوانے اورمَغْربی فیشن کے مطابق لباس اپنانے پر بھی فخر کیا جاتا ہے اور پھر سُود و رِشْوَت بھی تو ہمارے مُعاشرے میں عام ہوتا جارہا ہے سُود کا لین دین کرنے پر تو کوئی شرم وندامت ہی نہیں ہوتی بلکہ اسی مالِ حرام سے اپنا کاروبارمزید پھیلا کر گاڑی ، بنگلہ اور فیکٹری بنا کر فخر کیا جاتا ہے حالانکہ ایک مسلمان کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سُود لینا گویا اپنی ماں کے ساتھ زِنا کرنے کی طرح ہے ۔ اس ضمن میں 3 فرامینِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سُنئے اور دیگر گُناہوں کے علاوہ سُود جیسے بد ترین گُناہ سے بھی توبہ کیجئے ۔
1. سُود کے ستّر دروازے ہیں، ان میں سے کم تر ایسا ہے جیسے کوئی مرد اپنی ماں سے زِناکرے ۔ ([3])
2. سُود کا ايک درہم جسے آدمی جانتے ہوئے کھاتا ہے 36بارزِناکرنے سے زيادہ بُراہے ۔ ([4])
3. سُود خور کو قیامت کے دن جُنون کی حالت میں اُٹھایا جائے گا کہ اس کے سُود کھانے کے بارے میں سب اہلِ محشر جان لیں گے ۔ ([5])
[1] حلية الاولیاء، ۷ / ۲۹۹، حدیث : ۱۰۵۹۰
[2] الزواجر، الکبیرة السابعة والسبعون، تعمد تاخیر الصلاة الخ ۱ / ۲۵۵، ملتقطا
[3] شعب الایمان، باب فی قبض الیدعن الاموال المحرمة، ۴ / ۳۹۴، حدیث : ۵۵۲۰
[4] مسند امام احمد عبدالله بن حنظلة، ۸ / ۲۲۳ ، حدیث : ۲۲۰۱۶
[5] کتاب الکبائر ، الکبیرة الثانیة عشرة، باب الریاء، ص۶۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع