30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعض بزرگ فرماتے ہیں : ’’بندہ گناہ کرکے اُس پر مسلسل نادِم رہتاہے حتی کہ جنت میں داخل ہوجاتاہے ، شیطان کہتاہے کاش!میں اسے گناہ میں مُبتلا نہ کرتا ۔ ([1])
امیرُالْمُؤمنین حضرت سَیِّدُناعمرفارُوقرضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے فرمایا : ’’توبہ کرنے والوں کے پاس بیٹھاکروکیونکہ اُن کے دل بہت نرم ہوتے ہیں ۔ ‘‘([2])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!چونکہ شیطان کو خود توبہ کی توفیق نہیں اس لئے اب وہ نہیں چاہتاکہ کوئی دوسرا بھی توبہ کرکے اس کے ساتھیوں کی فہرست سے نکل کر راہِ جنت کا مُسافر بن جائے ۔ چنانچہ وہ توبہ سے روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے اور انسان کو اس کی آخری سانس تک بہکانے کی کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح وہ گناہ کرکے جہنّم کا حَقْدار بن جائے مگررحمتِ خُداوندی کے قُربان جائیے کہ ہم جب بھی اس سے مَغْفرت طلب کریں وہ ہمیں بخش دیتا ہے ۔ جیساکہ
آؤ گنہگارو!مَغْفرت مانگ لو ۔ ۔ ۔
حضرت سَیِّدُنا ابُوسعیدرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُاللهصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا : ’’شیطان نے اللہعَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کہا، وَعِزَّتِكَ يَارَبِّ لَا اَبْرَحُ اُغْوِي عِبَادَكَمَا دَامَتْ اَرْوَاحُهُمْ فِي اَجْسَادِهِمْ یعنی اے میرے ربّ! مجھے تیری عزّت وجلال کی قسم!جب تک بندوں کے جسموں میں روح باقی ہے ، میں انہیں بہکاتا رہوں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا اَزَالُ اَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِي ‘‘یعنی مجھے اپنی عزّت وجلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے مغفرت مانگتے رہیں گے میں ان کی مَغْفرت کرتا رہوں گا ۔ ‘‘([3])
یاد رکھئے !مذکورہ حدیثِ پاک میں اللہعَزَّ وَجَلَّکی بے پایاں بخشش و مَغْفرت کا تذکرہ سُن کر جہاں ہمیں خوش ہونا چاہئے وہیں ابنِ آدم کے ساتھ شیطان کے بُغْض و عداوت کے بارے میں سُن کر فکر مند بھی ہوجانا چاہئے کہ وہ ہرچند ہمیں بہکانے اور کسی صورت جہنّم کا اِیندھن بنانے کی فکر میں لگا ہوا ہے اور نہ صرف شیطان خود بلکہ اس کی پوری ذُرِّیَت اس کوشش میں سرگرمِ عمل ہے ۔ جیساکہ
تفسیرِ دُرِّ منَثْور میں ہے کہ جب یہ آیتِ مُبارکہ نازل ہوئی :
وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ (پ۴، اٰل عمٰرن : ۱۳۵)
ترجَمۂ کنز الایمان : اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کویاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوااللہکے ۔
تو ابلىس نے چیخ چیخ کر اپنے لشکر کو پکارا ، اپنے سر پر خاک ڈالی اور خوب آہ وزاری کی، حتی کہ تمام کائنات سے اس کے چىلے جمع ہوگئے اور بولے : ’’اے ہمارے سردار تجھے کىا ہوگیا؟‘‘وہ بولا : ’’ قرآن مىں اىسى آىت اُترى ہے کہ اس کے بعد کسی بنی آدم کو کوئی گناہ نقصاں نہیں دے گا ۔ ‘‘اس کے لشکریوں نے کہا : ’’وہ کونسی آیت ہے ؟‘‘ ابلیس نے انہیں (مذکورہ آیت کی ) خبر دی ۔ تو اس کے چىلوں نے کہا : ’’ہم ان پر خواہشات کے دروازے کھول دیں گے کہ وہ توبہ واِسْتِغْفار نہ کر پائیں گے اور وہ اسی خیال میں ہوں گے کہ ہم حق پر ہیں یہ سُن کر شىطان خوش ہوگیا ۔ ‘‘([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حکایت میں شىطان کے چىلوں کا یہ کہنااِنتہائی قابلِ تشویش ہے کہ ہم ان پر خواہشات کے دروازے کھول دیں گے کہ وہ توبہ واِسْتِغْفار نہ کر پائیں گے اور وہ اسی خیال میں ہوں گے کہ وہ حق پر ہیں ۔ گویا کہ شیاطین کی ىہ بات ہمارے لیے ایک چىلنج کی حَیثیَّت رکھتی ہے لہٰذا ہمیں اس چىلنج کو قبول کرتے ہوئے مىدانِ عمل مىں اتر جانا چاہئے اور خود سے یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم ہربُرے کام سے نہ صرف خود بچتے رہیں گے بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے رہیں گے نیزاگربَتَقاضائے بَشَرِیَّت ہم سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے توعجزوندامت (عاجزی و شرمندگی)کے ساتھ فوراً اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے معافى مانگىں گے ۔
مگرافسوس!فی زمانہ مُسلمانوں کے کِردار کی بد حالی اور ان کی دن بدن بڑھتی ہوئی بداعمالی سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ ہم شیطان کو اس کے چیلنج میں ناکام بنانے کی کوشش نہیں کررہے ۔ خود ہی غور کیجئے کہ شیطان کے چیلوں نے اسے پریشان دیکھ کریہی دو باتیں کہی تھیں، (1)ہم ان پر خواہشات کے دروازے کھول دیں گے کہ وہ توبہ واِسْتِغْفار نہ کر پائیں گے (2)وہ لوگ (گناہ کرنے کے باوجود) اسی خیال میں ہوں گے کہ وہ حق پر ہیں ۔ واقعی آج کل گُناہوں کے ذرائع اس قدر عام ہیں کہ ہر اُٹھنے والا قدم انسان کو دانِسْتہ و نادانِسْتہ کسی نہ کسی گناہ کی طرف لے جاتا ہے ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ لوگ ریڈیو پر گانے اور ڈرامے سُن لیا کرتے تھے ، پھر ٹی وی ایجاد ہوا تو آواز کے ساتھ ساتھ تصویر بھی دِکھائی دینے لگی مگر اس میں کمی یہ تھی کہ جو دکھایا جارہا ہے صرف وہی دیکھ سکتے ہیں اپنی مرضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا ، لیکن وی سی آر کی ایجاد کے بعد یہ کمی بھی پوری ہوگئی پھریکے بعد دیگرے ڈش انٹینا اور کیبل نے حیا سوز مناظر دکھانے کے سینکڑوں مواقع فراہم کرکے گناہوں کی یَلْغار میں مزید تیزی پیدا کردی مگرہر وقت فلمیں ڈرامے اور گانے باجے دیکھنے سننے والوں کے لئے ایک ہی جگہ ٹِک کر بیٹھنا پڑتا تھا کیونکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع