دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Betay ki Wasiyat | بیٹے کی وصیت

book_icon
بیٹے کی وصیت

شایدبعض لوگوں کے ذہن میں یہ وَسْوَسہ آتا ہوکہ میں تو بہت متقی و پرہیز گار ہوں یا یہ کہ میں تو  کافی عرصے پہلے توبہ کرچکا ہوں لہٰذا مجھے توبہ کرنے کی حاجت نہیں اس طرح کے وَسْوَسوں کا علاج حضرت سَیِّدُنا اِسماعیل حَقّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے اس فرمان میں موجود ہے کہ’’اللہعَزَّ  وَجَلَّ نے تمام مسلمانوں کو توبہ و اِسْتِغْفار کاحکم فرمایااس لئے کہ انسان فطرۃًکمزور ہے باوجودکوشش کے وہ کسی نہ کسی غلطی میں پڑ ہی جاتا ہے ۔ ‘‘اِمام قشیریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : ’’توبہ کی سب سے زیادہ ضرورت اس شخص کو ہے جو یہ سمجھتا ہوکہ مجھے توبہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ‘‘([1])

واقعی اس بات کا حقیت سے گہراتَعلُّق ہے کہ جولوگ جھوٹ ، غیبت ، چُغْلی، وعدہ خِلافی، بُہتان طرازی، گالی گلوچ، فلموں ڈراموں اورگانے باجوں وغیرہ  گناہوں میں ہر وقت مگن رہتے ہیں وہ زبانِ حال سے یہی کہہ رہے ہوتے ہیں  کہ ہمیں توبہ کی کیا ضرورت؟جب کہ اس کے برعکساللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے نیک بندے گُناہوں  سے بچنے کے باوجودہر دم خوفِ خدا سے کانپتے ، آنسو بہاتے اور توبہ واِسْتِغْفار کی کثرت کرتے رہتے ہیں اس ضمن میں آقائے دوجہاں، حامیِ بیکساں صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا طرزِ عمل بھی ہمارے سامنے ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہ صرف توبہ و اِسْتِغْفار کی ترغیب دیا کرتے تھے بلکہ گُناہوں سے پاک و صاف ہونے کے باوجود خودبھی  دن میں کئی کئی بار اِسْتِغْفار کیا کرتے تھے ۔ جیساکہ

حضرت سَیِّدُنا  عبدُاللہ بن عُمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ رسول اللہصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے لوگو!اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو، بے شک میں بھی دن میں سو مرتبہ اِسْتِغْفار کرتا ہوں ۔ ‘‘([2])

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عُمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سَیِّدِعالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے توبہ واِسْتِغْفار کے معمول کو بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں : ’’ہمرسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ  واٰلہٖ وسلَّم کوایک ہی مجلس میں سوسوبار رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُکے  کلمات  پڑھتے ہوئے گنا کرتے تھے ۔ ‘‘([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ  خود ہی فیصلہ کیجئے کہ جب پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود دن میںسوسوبار اِسْتِغْفارکرنا اپنا معمول بنایا تو ہم گنہگاروں کو کس قدرتوبہ واِسْتِغْفارکی ضرورت ہے لہٰذااگراس قسم کے شیطانی وَسْوَسے آ  ئیں کہ ’’میں نے آخر ایساکون سا گُناہ کرلیا جو میں توبہ کروں ۔ ‘‘یا یہ کہ ’’میں تو توبہ کرچکا ہوں اب تو کوئی ضرورت نہیں ہے ‘‘یا یہ کہ ’’میں تو نمازو روزے کاپابندہوں مجھے کیا ضرورت پڑی جوتوبہ کروں وغیرہ وغیرہ‘‘ توہرگز ہرگز ان وَسْوَسوں کو  دل میں جگہ نہ دیجئے ۔ آئیے توبہ کی ضرورت و اَہمیَّت جاننے کے لئے اس سے مُتعلِّق چند احادیث اوربُزگانِ دین کے اقوال مُلاحظہ کیجئے ۔

صُبْح وشام توبہ

حضرت سَیِّدُناطَلْق بِن حَبِیْبعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہالمجیبفرماتے ہیں : ’’بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حُقُوق اتنے ہیں کہ بندہ انہیں ادا نہیں کرسکتا اور اللہعَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتیں اس قدر کثیر ہیں کہ ان کوشمارنہیں کیاجاسکتالیکن صُبْح و شام توبہ کیا کرو ۔ ‘‘([4])

توبہ کرنے والو ں کیلئے خوشخبری

حضرت سَیِّدُنافُضَیْلرَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا، گنہگاروں کوخوشخبری دیجئے کہ اگروہ توبہ کریں گے تومیں قبول کروں گااور صِدّیقین کواس بات سے ڈرائیے کہ اگرمیں نے عَدْل سے کام لیاتواُن کو عذاب دوں گا ۔ ‘‘ ([5])

پلک جھپکنے سے پہلے توبہ قَبول

حضرت سَیِّدُناعَبْدُاللّٰہبن سلامرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ’’میں تُم سے جو بات بھی بیان کروں گاوہ کسی بھیجے ہوئے نبی یا  اُتاری گئی کتاب سے بیان کروں گا، بیشک! بندہ جب گناہ کامُرْتَکِب ہوتاہے پھرپلک جھپکنے کے برابربھی نادِم ہوتوپلک جھپکنے سے بھی جلدی وہ گُناہ زائل ہوجاتاہے ۔ ‘‘([6])

نامۂ اعمال سے گُناہ مِٹ جاتا ہے

حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُاللّٰہ بن عُمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : ’’جوشخص اپنے اس گناہ کو یاد کرے جس كی وجہ سے اسے (آخرت میں ) تکلیف دی جائے گی اور پھر اپنے دل کو اس گنا ہ سے پاک کر لے تو اس کے نامۂ اعمال سے بھی وہ گناہ مٹ جاتا ہے ۔ ‘‘ ([7])

 



[1]     روح البیان، پ۱۸، النور، تحت الاٰية : ۳۱، ۶ / ۱۴۵

[2]     مسلم، کتاب الذکر والدعاء ، باب استحباب الاستغفار    الخ، ص ۱۴۴۹، حدیث : ۲۷۰۲

[3]     ابوداود ، کتاب الوتر ، باب فی الاستغفار، ۲ / ۱۲۱، حدیث : ۱۵۱۶

[4]     الزهد، باب الھرب من الخطایا والذنوب، ص۱۰۱، حدیث : ۳۰۲

[5]     احیاء العلوم، کتاب التوبة، بیان ان التوبة اذا استجمعت  شرائطهاالخ   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن