30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور نَدامت ہی دَرْحَقیقت توبہ ہے ۔ جیساکہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لولاکصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمارشاد فرماتے ہیں : ’’اَلنَّدَمُ تَـوْبَةٌ یعنی شَرمِندَگی توبہ ہے ۔ ‘‘([1])
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’چونکہ گُزِشْتہ( گناہوں)پر ندامت توبہ کا رُکنِ اعلیٰ ہے کہ اس پر باقی سارے اَرکان([2])مبنی ہیں، اس لئے صرف ندامت کا ذکر فرمایا ۔ (ظاہر ہے )جو کسی کا حق مارنے پر نادِم ہوگا تو حق ادا بھی کردے گا، جو بے نمازی ہونے پر شرمندہ ہوگا وہ گزشتہ چھوٹی نمازیں قضا بھی کر لے گا ۔ ([3])اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
یاد رکھئے !خود کو راہ ِراست پر لانے کے لئے اپنے اندر گناہوں کا احساس پىدا کرنا اور ان کے دُنیوی و اُخروی نُقْصانات پرغور کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ جب کسی انسان کے دل میں احساسِ گُناہ پیدا ہوتا اور وہ گُناہ کو گُناہ سمجھنے لگتا ہے تو یقیناً ندامت و پشیمانی سے اس کا سر جُھک جاتا، دل توبہ کی طرف مائل ہوجاتااورآنکھوں سے آنسوؤں کے دھارے بہنے لگتے ہیں ۔ جب کوئی گنہگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مُعافی مانگتا ہے تو وہ کریم ربّ اس کا بڑے سے بڑاگُناہ بھی بخش دیتا ہے ۔
حضرت سَیّدُناابوہرىرہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے رواىت ہے کہ حضورنبی ِّرحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمارشاد فرماتے ہىں : ’’اىک بندے نے گناہ کىا اور کہا : ’’اے اللہ!مىرے گناہ کو بخش دے ۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرماىا : ’’مىرے بندے نے گناہ کىا اوراُس کو ىقىن ہے کہ اُس کا ربّ ہے جو گناہ معاف بھى کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھى فرماتا ہے ۔ ‘‘ پھر دوبارہ وہ بندہ گناہ کرتا ہے اورکہتا ہے : ’’اے مىرے ربّ!مىرا گناہ معاف کردے ۔ ‘‘اللہتعالىٰ ارشادفرماتا ہے : ’’مىرے بندے نے گُناہ کىااوراس کو ىقىن ہے کہ اس کا ربّ ہے جوگناہ معاف بھى کرتا ہے اورگُناہ پر گرفتبھى کرتا ہے ۔ ‘‘ وہ بندہ پھر گُناہ کرکے اللہعَزَّ وَجَلَّ کى بارگاہ مىں عرض کرتا ہے : ’’اے مىرے ربّ!مىرا گناہ معاف فرمادے ۔ ‘‘اللہ تعالىٰ فرماتا ہے : ’’مىرے بندے نے گناہ کىا ہے اور اس کو ىقىن ہے کہ اس کا ربّ ہے جوگناہ معاف بھى کرتا ہے اور گناہ پر مُوَاخَذہ(پکڑ)بھى فرماتا ہے ۔ ‘‘(پھر فرماتا ہے )’’توجو چاہے کر مىں نے تیری مَغْفرت فرمادى ۔ ‘‘([4])
خبردار!حدیثِ پاک کے آخری الفاظ یعنی ’’تو جو چاہے کر میں نے تیری مَغْفرت فرمادی‘‘اس سے ہر گز ہرگز کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ توبہ کے بعد سابقہ گُناہوں کی مُعافی کے ساتھ ساتھ آئندہ گُناہ کرنے کی بھی اجازت مل جاتی ہے علامہ ابنِ حجر عَسْقَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ تو جب بھی گناہ کے بعد توبہ کرے گا میں تجھے مُعاف کردوں گا‘‘([5])لہٰذا جانے
اَنْجانے میں اگر کوئی گُناہ سرزد ہوجائے تو فوراً توبہ کرنی چاہیے کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں اگر کوئی شخص توبہ میں تاخیر کرتا گیا اور اس کی موت کا وقت آپہنچا تو اب توبہ کرنا بے سُود ثابت ہوسکتا ہے ۔ جیساکہ پارہ 4 سورۃ النساء کی آیت 17اور 18 میں ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓىٕكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۱۷) وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِۚ-حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْـٰٔنَ (پ۴، النساء : ۱۷، ۱۸)
ترجَمۂ کنز الایمان : وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہی کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی ہی دیرمیں توبہ کرلیں، ایسوں پراللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اوراللہ علم و حکمت والا ہے اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی ۔
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی اس آیتِ مُبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’قبولِ توبہ کا وعدہ جواوپر کی آیت میں گزرا وہ ایسے لوگوں کے لئے نہیں ہے (جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی ۔ )اللہ مالک ہے جو چاہے کرے ، اُن کی توبہ قبول کرے یا نہ کرے ، بخشے یا عذاب فرمائے اس کی مرضی ۔ ‘‘
مىٹھے مىٹھے اسلامى بھائىو!اللہعَزَّ وَجَلَّ کی رحمتیں بے حد وبے حساب ہیں، لہٰذاہمیں چاہئے کہ جب بھی ہم سے گناہ سرزد ہوجائے تواس کی بارگاہ میں توبہ کرلیں ۔ اگر بَتَقاضائے بَشَرِیَّت پھر گناہ کر بیٹھیں تو پھر توبہ کرلیں، پھر خطا ہوجائے تو پھر توبہ کریں چاہے لاکھ بار بھٹک جائیں مگر پھر آکر اس کے دامنِ کرم سے لپٹ جائیں اور ہر گز ہرگز مایوس نہ ہوں ۔ غور تو کیجئے کہ قرآنِ کریم میں جابجا ربّ کریم عَزَّوَجَلَّ خوداپنے بندوں کوتوبہ کی ترغیب دلارہاہے ۔ آئیے اس ضمن میں6 فرامینِ خداوندی مُلاحظہ کیجئے :
توبہ کے بارے میں 6فرامینِ خُداوَنْدی
[1] ابن ماجة، ابواب الزھد، باب ذکر التوبة، ۴ / ۴۹۲، حدیث : ۴۲۵۲
[2] توبہ کے تىن ارکان ہىں : (۱)ماضى پر ندامت (۲)ترکِ گناہ (۳)ىہ عزم (پکا ارادہ) کہ آئندہ گناہ نہیں کروں گا ۔ (منح الروض الازھر، تعریف التوبة ومراتبھا وامثلة علیھا، ص۴۳۶)
[3] مرآۃ المناجیح، ۳ / ۳۷۹
[4] مسلم، کتاب التوبة، باب قبول التوبة من الذنوب الخ، ص۱۴۷۴، حدیث : ۲۷۵۸
[5] فتح الباری، کتاب التوحید، باب قول الله تعالی یریدون ان یبدلوا الخ، ۱۳ / ۴۰۰، تحت الحدیث : ۷۵۰۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع