30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والی متعدد اسلامی بہنیں تائب ہوتیں اور سنّتوں کی شاہراہ پر گامزن ہوجاتیں ہیں ، نمازیں قضا کرنے کے ذریعے اپنانامہ اعمال سیاہ کرنے والی نہ صرف نمازوں کی پابند بن جاتی ہیں بلکہ نوافل کی سعادت بھی ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے پردگی کی وبا کی شکار جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ و رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خوشنودی پانے، اپنی اندھیری قبر روشن کرنے، حشر کی ندامت سے بچنے اور جنت میں داخلہ پانے کے جذبے سے سرشار اسلامی بہنوں کا قرب پاتی ہیں تو بہت سی خوش نصیب اسلامی بہنیں بے پردگی کی وباسے شفاپانے میں کامیاب ہوجاتیں ہیں ، یاد رکھیے !ہمارے مذہب اسلام میں پردے کی بڑی اہمیت ہے اس کا اندازہ اس سے باخوبی لگاجاسکتا ہے کہ اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انسانی فطرت کے تقاضوں کے مطابق بدکاری کے دروازوں کو بند کرنے کے لئے عورتوں کو پردے میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پردے کی فرضیت اور اس کی اہمیت قرآن مجید اور حدیثوں سے ثابت ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اﷲتعالٰینے عورتوں پر پردہ فرض فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ۲۲، الاحزاب: ۳۳) ترجمہ کنزالایمان’’تم اپنے گھروں کے اندر رہو اور بے پردہ ہو کر باہر نہ نکلو جس طرح پہلے زمانے کے دور جاہلیت میں عورتیں بے پردہ باہر نکل کر گھومتی پھرتی تھیں ۔‘‘اس آیت میں اﷲتعالٰی نے صاف صاف عورتوں پر پردہ فرض کرکے یہ حکم دیا ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہا کریں اور زمانہ جاہلیت کی بے حیائی و بے پردگی کی رسم کو چھوڑ دیں ۔ زمانہ جاہلیت میں کفار عرب کا یہ دستور تھا کہ ان کی عورتیں خوب بن سنور کر بے پردہ نکلتی تھیں ۔ اور بازاروں اور میلوں میں مردوں کے دوش بدوش گھومتی پھرتی تھیں ۔ اسلام نے اس بے پردگی کی بے حیائی سے روکااور حکم دیا کہ عورتیں گھروں کے اندر رہیں اور بلا ضرورت باہر نہ نکلیں اور اگر کسی ضرورت سے انہیں گھر سے باہر نکلنا ہی پڑے تو زمانہ جاہلیت کے مطابق بناؤ سنگار کرکے بے پردہ نہ نکلیں ۔ بلکہ پردہ کے ساتھ باہر نکلیں ۔ حدیث شریف میں ہے رسول اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے جس وقت وہ بے پردہ ہو کر باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے۔ (ترمذی، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی کراہیۃالدخول ۔۔الخ، ۲ / ۳۹۲، حدیث: ۱۱۷۶)
لہٰذا ہرایک اسلامی بہن کو اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی رضا پانے کا سامان کرنا چاہیے، بعض اسلامی بہنیں پردے کا جذبہ رکھتی ہیں مگر اس جذبے کو پائے تکمیل تک پہچانے سے گھبراتی اورشرماتی ہیں ان کی خدمت میں مدنی مشورہ ہے کہ واقعی اگر آپ پردے کی پابند بننا چاہتی ہیں ، اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر عمل کرنا چاہتی ہیں اور بے پردگی کے عذابات سے بچنے کا جذبہ رکھتی ہیں تو پھر اپنی زندگی کی بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے فوراً بے پردگی سے تائب ہوکر دعوتِ اسلامی کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع