30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے رہائی مل گئی ہے، یہ سن کر میرے دل میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی، مزید بھائی جان نے مجھ سے فرمایا کہ میری طرف سے مکتبۃ المدینہ کے شائع شدہ رسائل تقسیم کردینا چنانچہ میں نے بھائی جان کے کہنے پر علاقے کی اسلامی بہنوں میں مدنی رسائل تقسیم کرنے کی ترکیب بنائی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کس طرح دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں دعا مانگنے کی برکت سے مذکورہ اسلامی بھائی کو جھوٹے مقدمے سے رہائی نصیب ہوگئی، اس مدنی بہار سے جہاں ہمیں دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماعات کی برکات کا علم ہوتا ہے وہیں یہ درس بھی ملتا ہے کہ اگر ہمیں کوئی پریشانی آجائے تو فوراً اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی بارگا ہ میں رجوع کرنا چاہیے کہ وہی ہے جو اپنے بندوں پر کرم فرتاہے، دعائیں مستجاب فرماتا ہے، بیماروں کو شفاسے نوازتا ہے، قرضداروں کو قرض سے نجات عطافرماتا ہے، بے اولادوں کو اولاد عطافر ماتا ہے، یادرکھیے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے اُن بندوں سے راضی ہوتا ہے جو اس سے دعائیں مانگتے ہیں ۔ دعا مانگنا حکم خداوندی ہے ، سنّت رسول ہے ، دعا ایک عظیم عبادت ہے ، ہمارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبکثرت دعائیں مانگا کرتے تھے، لہٰذا ہمیں بھی دعا سے غافل نہیں رہنا چاہیے، وقتاً فوقتا ًدل جمعی اور اس پختہ یقین کے ساتھ دعا مانگنی چاہیے کہ ہمارا رب عَزَّ وَجَلَّ دعائیں قبول فرماتا اور اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے نوازتا ہے ، دعا مانگنا تین حال سے خالی نہیں ہوتا۔ چنانچہ،
سرورِ معصوم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت ہے: بندے کی دعا تین باتوں سے خالی نہیں ہوتی: (۱) یا اس کا گناہ بخشا جاتا ہے (۲) یا دنیا میں اسے فائدہ حاصل ہوتا ہے (۳) یا اس کیلئے آخرت میں بھلائی جمع کی جاتی ہے کہ جب بندہ اپنی اُن دعاؤں کا ثواب دیکھے گا جو دنیا میں مُسْتَجاب (قبول) نہ ہوئی تھیں تمنّا کرے گا: کاش!دنیامیں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی اور سب یہیں کے واسطے جمع رہتیں ۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی جامع الدعوات۔۔۔ الخ، ۵ / ۲۹۲، حدیث: ۳۴۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{3}وسوسوں سے نجات مل گئی
باب المدینہ (کراچی) کے علاقہ ایوب گوٹھ کی مقیم اسلامی بہن کا بیان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیش خدمت ہے، میں اپنے مقصدِ حیات سے ناآشنا اپنی زِیست کے انمول موتی ضائع کررہی تھی، اچھے ماحول سے دوری کے باعث گناہوں کی ہلاکت خیزیوں سے نابلد تھی، جھوٹ بولنا، فیشن کرنا، بے پردگی کرنا اور بات بات پر غصہ کرنا میری عادات میں شامل تھا۔ لوگ میری جھوٹ بولنے کی عادت سے بہت بیزا رتھے، میری زندگی میں عمل کے خوشنما پھول اس طرح کھلے، دعوتِ اسلامی کے ایک ذمہ دار نے میرے بھائی پر انفرادی کوشش کی اور انہیں بتایا کہ فلاں دن دعوتِ اسلامی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع