30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لگی، یوں دھیرے دھرے میرے اخلاق وکردار پر مدنی رنگ چڑھنے لگا۔ لہٰذا میں نے فضول گوئی، مذاق مسخری کی عادت سے جان چھڑائی اور سنجیدگی اختیار کرلی نیز سابقہ گناہوں سے نہ صرف سچی توبہ کی بلکہ آنکھ، کان اور زبان کا قفل مدینہ لگانے والی خوش نصیب اسلامی بہنوں کی فہرست میں شامل ہوگئی۔ تادم تحریر علاقائی مشاور ت کی ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے مدنی کاموں میں مصروف عمل ہوں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اور اسلامی بہنو! زبان اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، یادرکھیے !جومسلمان اس نعمت کا درست استعمال کرے گا آخرت میں ڈھیروں ڈھیر نیکیوں کا خزانہ اپنے نامہ اعمال میں پائے گا اور جو زبان کا غلط استعمال کرے گا اس کاآخرت میں ندامت وشرمندگی کی آفت میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے ، یہی وجہ ہے ہمارے اسلاف زبان سے بکثرت ذکر خدا اور ذکر مصطفے کرتے تھے خود بھی فضول گوئی سے بچتے تھے اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کرتے تھے ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسلاف کے نقش قدم پرچلتے ہوئے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہبھی اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو زبان کا قفل مدینہ لگانے کی ترغیب ارشاد فرماتے رہتے ہیں جس کی برکت سے بہت سے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کا فضول گوئی سے بچنے کا مدنی ذہن بن جاتا ہے اور وہ حتی المقدور فضول گوئی سے بچتے اور اپنی زبان کا درست استعمال کرکے آخرت میں بے شمار اجروثواب کا حقدار بنے کی سعی کرتے ہیں ، زبان سے ذکر خدا کیجیے اور جنت میں کھجوروں کے باغات تیار کیجیے۔ چنانچہ ، حضرتِ سیدنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جو سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ عظمت والااللّٰہ عَزَّوَجَلَّپاک ہے او ر سب خوبیوں سراہا۔پڑھتاہے اس کے لئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن، کتا ب الرقائق، باب الاذکار، ۲ / ۹۶، حدیث: ۸۳۲)
حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: جس کے لئے رات میں عبادت کرنادشوار ہویاوہ جو اپنا مال خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتاہویاد شمن سے جہاد کرنے سے ڈرتا ہوتو وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ کثرت سے پڑھا کرے کیونکہ ایسا کرنا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو سونے کاپہا ڑ صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
(مجمع الزوائد ، کتا ب الاذکار، باب ماجاء فی سبحا ن اللہ ۔۔الخ، ۱۰ / ۱۱۲، حدیث: ۱۶۸۷۶)
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جو ایک دن میں سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ وبِحَمْدِہ پڑھتا ہے اس کے گناہ مٹادئیے جاتے ہیں اگرچہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع