30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، ۴/ ۸۹) (مراٰۃ المناجیح، ۶/ ۴۸۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(26) تم سب میں بہترین وہ ہے جودنیا سے بے رغبتی رکھنے والا ہے
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے عرض کی : ہم سب میں بہتر کون ہے ؟ارشاد فرمایا : اَزْہَدُکُمْ فِی الدُّنْیَاوَاَرْغَبُکُمْ فِی الْاٰخِرَۃِیعنی تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو دنیا سے بے رغبتی اورآخرت میں رغبت رکھنے والا ہو۔(شعب الایمان، باب فی الزھدوقصرالامل، ۷/ ۳۴۳حدیث : ۱۰۵۲۱)
دنیا سے بے رغبتی کسے کہتے ہیں ؟
حضرتِ علامہ عبد الرء ُوف مناوی علیہ رحمۃ اللّٰہ الہادی اس حدیث ِپاک کی شرح میں فرماتے ہیں : دنیا کے فنا اور عیب دار ہونے کی وجہ سے بے رغبتی کرے اور آخرت کی بزرگی اور ہمیشہ رہنے کی وجہ سے آخرت میں رغبت رکھے ، عقلمند وہ ہے جو دنیا اور دنیا کے میل کچیل سے اپنے آپ کو بچائے اور دنیا کو اپنا خادِم بنائے ، ضرورت کے مطابق دنیا جمع کرے اور اس کے علاوہ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرے کیونکہ جب کوئی دنیا سے منہ موڑتا ہے تو دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے ، جو شخص دنیا کمانے کی خاطر جتنا دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے دنیا اس سے اتنی ہی بھاگتی ہے ، جیسے سایہ سورج کی طرف منہ کرکے چلنے والے کے پیچھے پیچھے آتا اور سورج سے پیٹھ پھیر کر چلنے والے کے آگے آگے بھاگتا ہے اگر یہ شخص اپنے آگے بھاگنے والے سایہ کو پکڑنے کی کوشش کرے بھی تو ناکام ہو گا۔(فیض القدیر، ۳/ ۶۶۶ تحت الحدیث : ۴۱۱۴)
حلال کو حرام ٹھہرا لینا بے رغبتی نہیں ہے
حضرتِ سیدنا ابوذر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا : حلال کو حرام ٹھہرا لینااور مال کو ضائع کردینا دنیا سے بے رغبتی نہیں بلکہ دنیا سے بے رغبتی تو یہ ہے کہ تمہیں اپنے پا س موجود مال سے زیادہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے خزانوں پر بھروسہ ہواور جب تمہیں مصیبت میں مبتلا کیا جائے تو تم اس کے ثواب کی وجہ سے اس مصیبت کے باقی رہنے میں رغبت کرو۔(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی الزھادۃفی الدنیا، ۴/ ۱۵۲حدیث : ۲۳۴۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
امیرالمؤمنین مولا مشکل کُشا سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جس نے دنیا سے بے رغبتی اختیار کی ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کو بغیر تعلیم حاصل کئے علم عطا فرماتا ، بغیر ظاہری اسباب کے صحیح راستہ پر چلاتا اور اس کو صاحبِ بصیرت بناکر اس سے جہالت کو دور فرماتا ہے ۔ (الجامع الصغیر، ص۵۲۸حدیث : ۸۷۲۵)
دنیا سے بے رغبتی اپنانے کے بارے میں انفرادی کوشش
حضرتِ سیِّدُنا سہل بن سعد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا : یارسولَ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!کسی ایسے کام کے لئے میری راہنمائی فرمائیے جسے میں کروں تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی محبت کریں ۔آپ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : دنیا سے بے رغبت رہو، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تم سے محبت کریگا اور لوگوں کی چیزوں سے بے نیاز رہو ، لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے ۔(مشکاۃالمصابیح، کتاب الرقاق، ۲/ ۲۴۷حدیث : ۵۱۸۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع