30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَسْفَل کا (یعنی ہر اوپری حصہ نچلے حصے کا) بھی محتاج ہے۔ اگر دیوار نیچے سے خالی کردی جائے (تو) اُوپر سے بھی گِر پڑے گی، اَحْمَقْ وہ (ہے) جس پر شیطان نے نظر بندی کرکے اُس کی چُنائی آسمانوں تک دِکھائی اور (اُس کے) دل میں (خیال) ڈالا کہ اب ہم توزمین کے دائرے سے اونچے گزر گئے ہمیں اس سے تعلق کی کیا حاجت ہے۔ (چنانچہ اَحْمَقْ نے) نِیْو (بنیاد) سے دیوار جدا کرلی اور نتیجہ وہ ہوا جو قرآن مجیدنے فرمایا کہ
(فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَؕ- (پ11، التوبۃ: 109) اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں ڈھے پڑی۔)“
(فتاوی رضویہ، 21/528)
(11) جڑ اور شاخ:
علمائے شریعت اگر اہلِ مَعرِفَت کے کسی معاملے کو نہ سمجھ سکیں تو یہ معذور ہیں، اِن علما کی غلطی نہیں کیونکہ ان کی رَسائی یہیں تک تھی، لیکن مَعرِفَت ووِلایت کا دعویٰ کرنے والے اگر علمائے شریعت پر اعتراض کریں تو یقیناً اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں، مَعرِفَت کا دائرہ تو شریعت کے دائرے سے اونچا ہے، اگر یہ لوگ اُوپری دائرے تک پہنچتے تو نچلے دائرے سے بے خبر نہ ہوتے، اہلِ مَعرِفَت اگر علمائے شریعت پر اعتراض کریں گے تو اوندھے منہ گریں گے۔ امام اہلِ سنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ”جَڑ والے اگر شاخ تراشِیں (تو) اَصْل درخت قائم رہے (گا)۔ مگر بلند شاخ تک پہنچنے والے (نِچلی) جَڑ کاٹیں تو ان کی ہڈی پسلی کی خیرنہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، 21/548)
(12) بے وقوف کی دوستی دشمنی ہے:
مُتَواتِر حدیثوں سے ثابت ہے کہ طاعُون مسلمان کے لئے شہادت ورحمت ہے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع