30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے کا جذبہ بھى ہونا چاہىے ۔ کام کرنے سے راستے کشادہ ہو جاتے ہىں ۔ اللہ پاک ہمىں مَدَنى کام کرنے کى توفىق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سُوال:ہم کہیں دعوت پر جاتے ہیں تو بعض اوقات کھانے سے پہلے پیٹ کے قفلِ مدینہ(یعنی بھوک سے کم کھانے ) کی نیت بھی ہوتی ہے مگر میزبان زبردستی مزید کھانے کا تقاضا کرتا ہے اور از خود ہماری پلیٹ میں کھانا ڈال دیتا ہے ایسی صورت میں پیٹ کا قفلِ مدینہ کیسے لگایا جائے ؟ نیز مزید کھانا نکالنے کی وجہ سے اگر وہ کھانا بچ جائے اور ضائع ہو تو اس کا گناہ کس پر ہو گا؟
جواب:اگر واقعی کسی نے پیٹ کا قفلِ مدینہ لگایا ہے اور وہ گھر میں بھی کم کھاتا ہے تو دعوت میں ایسا مُعاملہ ہونے سے وہ آزمائش میں آجائے گا ۔ اس کا حَل یہ ہے کہ جب دعوت میں جائے تو خوب چبا چبا کر کھائے کہ اِس طرح کھانے میں دیر ہو گی تو میزبان کی اِس کی جانب توجہ نہیں جائے گی اور یہ بھی دِیگر مہمانوں کے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا اور میزبان کی طرف سے پلیٹ بھرے جانے کی آزمائش سے بھی محفوظ رہے گا ۔
ہڈی والے گوشت میں غِذائیت اور انرجی ہوتی ہے
مہمان اپنی پلیٹ میں بغیر ہڈی والی بوٹیاں ڈالنے کے بجائے ہڈی والی بوٹی ڈالے کہ اس طرح پلیٹ بھری ہوئی معلوم ہو گی اور ضمناً گوشت کی لذت بھی زیادہ آئے گی کیونکہ ہڈی سے لگی ہوئی بوٹی بغیر ہڈی والی بوٹی سے زیادہ لذیذ ہوتی ہے ۔ اگر مہمان بیان کردہ طریقے کے مُطابق ہڈی سے بوٹی نوچ نوچ کر کھائے گا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قفلِ مدینہ نہیں ٹوٹے گا ۔ آج کلBoneless یعنی بغیر ہڈی کا گوشت چلا ہے لیکن اس میں خاص لذت نہیں ہوتی مجھے بھی یہ پسند نہیں ہے ۔ اسے کوئی اپنا وقت بچانے کے لیے کھائے تو الگ بات ہے ، مگر ہڈیوں میں غِذائیت اور انرجی ہوتی ہے لہٰذا ہڈی والا گوشت ہی کھانا چاہیے ۔
مہمان کے لیے میزبان کھانا نہ نکالے
میزبان اپنے مہمان سے بار بار کھانے کا کہنے کے بجائے صرف تین بار مختلف مواقع پر کھانے کا کہے ۔ چنانچہ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:بار بار کہنے سے ہو سکتا ہے وہ بے چارہ مروت میں زیادہ کھا لے اور پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے آزمائش میں پڑ جائے ۔ ([1]) آج کل اپنے ہاتھ سے مہمان کی پلیٹ میں زبردستی ڈال دینے والا مُعاملہ بہت ہے ۔ میرے ساتھ بھی بعض اوقات ایسا ہوتا ہے تو آزمائش ہو جاتی ہے لہٰذا مہمان کو یہ تو کہا جائے کہ اور کھا لیجیے مگر از خود اس کی پلیٹ میں کھانا نہ نکالا جائے ۔ ([2])
اگر میزبان از خود مہمان کی پلیٹ میں کھانا نکالتا ہے تو اس سے مہمان کو یہ تکلیف بھی ہو سکتی ہے کہ وہ چاول نکالنا چاہتا تھا اور میزبان خوب مصالحے والی بریانی اس کی پلیٹ میں بھر دے اب مہمان اگر میزبان کے ”لیجیے ، کھائیے “ والے مَدَنی پھول سُن کر اس کا مان رکھتا ہے تو پیٹ کا مان جاتا ہے کیونکہ مصالحہ پیٹ میں جا کر جو حال کرے گا اس کے الگ ہی مَسائل ہوں گے اور اگر نہ کھائے تو میزبان اس کو کچھ نہ کچھ مَدَنی پھول دیتا رہے گا ۔
مِل کر کھانے میں دوسروں کا خیال کیجیے
میں کافی عرصے سے ایک بات نوٹ کر رہا ہوں، بعض اوقات اس کا اِظہار بھی کیا ہے مگرعین موقع پر کہنا مُناسب نہیں ہوتا کیونکہ سامنے والے کو شرمندگی ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ جب چند اَفراد مِل کر ایک تھال میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اور کھانا کھلانے والوں میں سے کوئی ان کے تھال میں مزید کھانا ڈالنے کے لیے آتا ہے تو جس نے پہلے کھانا کھالیا ہوتا ہے اور اسے بھوک نہیں لگ رہی ہوتی تو وہ اسے منع کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے دِیگر اسلامی بھائی مزید کھانے سے محروم ہو جاتے ہیں یا پھر وہ انہیں محروم کرنے کی سعی کرتا ہے ۔ لہٰذا اگر چند اَفراد مِل کر کھا رہے ہوں اور ان میں کوئی سیر ہو جائے تو تھال میں مزید ڈالنے سے منع کرنے کے بجائے صِرف اپنے بارے میں کہہ دے کہ میں کھا چُکا ہوں مجھے مزید نہیں کھانا ۔ یوں ہی بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ مزید کھانے سے منع بھی کر دیتے ہیں لیکن جب تھال میں کھانا ڈال دیا جائے تو پھر سے کھانے میں شریک ہو جاتے ہیں حتّٰی کہ دوسری تیسری مرتبہ بھی کھانے میں شریک رہتے ہیں یعنی کھاتے بھی رہتے ہیں اور منع بھی کرتے رہتے ہیں ۔ ایسا نہ کیا جائے بلکہ ایک تھال میں کھانے والے باہمی مشورہ کریں اور ہر ایک دُرُست فیصلہ کرے ، یہ نہیں کہ مروت میں منع بھی کرتے رہیں اورجب مزید کھانا آجائے تو کھاتے بھی رہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی کا پیٹ جلدی بھر جاتا ہے کسی کا دیر سے ، کوئی صِرف ایک روٹی کھا کر سیر ہو جائے گا کسی کی چار روٹیاں کھانے کے بعد بھی گنجائش باقی رہتی ہے ، لہٰذا خود ہوشیار بننے کے بجائے دوسروں کی بھی رِعایت کرنی چاہیے ۔
سُوال:بعض اوقات کھانا ڈالنے والا خود ہی تھال میں کھانا ڈال کر چلا جاتا ہے پھر ساتھ کھانے والوں میں سے کوئی ایک دو لقمے کے بعد ہاتھ روک لیتا ہے تو تھال صاف کرنے کا مسئلہ ہو
[2] میزبان کو چاہیے کہ مہمان سے وقتاً فوقتاً کہے کہ اور کھاؤ مگر اس پر اِصرار نہ کرے کہ کہیں اِصرار کی وجہ سے زیادہ نہ کھا جائے اور یہ ا س کے لیے مُضر (یعنی نقصان دہ)ہو ۔ (بہارِ شریعت ، ۳ / ۳۹۴، حصہ:۱۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع