30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ىہاں بٹھا رکھا ہے ۔ ([1])اے کاش!قرآن ِپاک پڑھنے اور پڑھانے کا ہمارا بھی ذہن بن جائے ۔
فَرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:جس شخص نے قرآنِ پاک سىکھا اور اس پر عمل کىا قرآن شرىف اس کى شَفاعت کرے گا اور اسے جنَّت مىں لے جائے گا ۔ ([2])
فَرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:جس شخص نے قرآنِ مجىد کى اىک آىت ىا دِىن کى کوئى سُنَّت سکھائى، قىامت کے دِن اللہ پاک اس کے لىے اىسا ثواب تىار فرمائے گا کہ اس سے بہتر ثواب کسى کے لىے بھى نہىں ہو گا ۔ ([3]) اے عاشقانِ رَسول! آپ نے دىکھا کہ قرآنِ کرىم پڑھنے پڑھانے کے کتنے فضائل ہىں اِس کے عِلاوہ قرآنِ کرىم پڑھنے پڑھانے کے فضائل پر مشتمل اور بھی بہت سی رِوایات ہیں ۔
قرآنِ کریم پڑھنا اور پڑھانا ضَروری ہے
قرآنِ کریم پڑھنے پڑھانے کی ضَرورت بھى بہت ہے کہ نماز مىں بھى قرآن پڑھا جاتا ہے اور اگر کوئی نماز میں بالکل ہى قرآنِ پاک نہ پڑھے تو نماز ہى نہ ہو گى ۔ نماز میں کم از کم ایک آیت پڑھنا فرض ہے اور سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ اىک چھوٹی سورت يا ایک آیت جو کم از کم تىن چھوٹى آىات کے برابر ہو اتنا حِصَّۂ قرآن پڑھنا نماز مىں واجب ہے ۔ ([4])اگر کوئی قرآنِ کرىم پڑھنا نہىں سیکھتا تو پھر اُس کے ىہ فرض و واجب کىسے ادا ہوں گے ؟دیکھیے ! ہم مختلف دُنیوی کورسز کرتے ہىں جن کا Profit(یعنی نفع) صِرف دُنىا کى حَد تک ہے لىکن افسوس ہم قرآن کورس نہىں کرتے اور قرآنِ پاک پڑھنا نہىں سىکھتے کہ جس کا نفع دُنىا کے ساتھ ساتھ آخرت اور قبر مىں بھى ہے اور ىہ قرآنِ کرىم ہمیں جَنَّت مىں لے جانے والا اور ہماری شَفاعت فرمانے والا ہے ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآنِ کریم سیکھنے کے بارے مىں خود کو غیرت دِلائے اور دوسروں میں بھى اِس کا اِحساس پىدا کرے ۔
مدرسۃُ المدینہ بالِغان کا تعارف اور تَرغیب
مدرسۃُ المدىنہ بالِغان دعوتِ اسلامى کے 12 مَدَنى کاموں میں سے اىک مَدَنى کام ہے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہزارہا ہزار مدرسۃُ المدىنہ بالِغان قائم ہىں جہاں بالکل مُفت قرآنِ کرىم سکھاىا جاتا ہے ۔ ([5])مدرسۃُ المدىنہ بالِغان 45 مِنَٹ کا ہوتا ہے اور عموما ًعشا کی نماز کے بعد لگتا ہے مگر اب جہاں جىسے اسلامی بھائیوں کو موقع ملے وہ مدرسۃُ المدینہ بالِغان میں پڑھا سکتے ہیں مثلاً نمازِ فجر اور ظہر کے بعد بھی مدرسۃُ المدینہ بالِغان لگایا جا سکتا ہے ۔ جو اسلامی بھائی مدرسۃُ المدینہ بالِغان میں پڑھاتے ہیں انہیں پہلے پڑھانے کا طریقہ سیکھنا ہوتا ہے تاکہ وہ صحىح پڑھا سکیں ورنہ اگر صحىح پڑھانا نہىں آتا ہو گا تو کىا پڑھائیں گے ؟ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اس کا کورس ہوتا ہے جس میں مدرسۃُ المدینہ بالِغان پڑھانے کا طریقہ سکھاىا جاتا ہے ۔ مدرسۃُ المدینہ بالِغان میں قرآنِ کریم کو مخارج سے پڑھانے کے ساتھ ساتھ کچھ دُعائیں بھی یاد کروائی جاتی ہیں اور نماز کے مَسائل بھی سکھائے جاتے ہیں تو یوں 45 مِنَٹ کا پورا ایک جَدول ہے ۔ اب بھى کئی اسلامی بھائی اىسے ہیں جو مدرسۃُ المدىنہ بالِغان تو پڑھاتے ہیں لىکن وہ45 مِنَٹ کے جَدول سے آشنا نہیں ہوتے اور اپنے طور پر پڑھاتے ہیں ۔ یاد رہے !مدرسۃُ المدینہ بالِغان پڑھانا اسی صورت میں مَدَنی کام کہلائے گا جبکہ اُس انداز پر پڑھایا جائے جو مَدَنی مَرکز نے دیا ہے ورنہ اپنے طور پر پڑھانا کارِ ثواب تو ہے مگر مَدَنی مَرکز کے طریقۂ کارکے مُطابق پڑھانے میں فوائد زیادہ ہیں ۔ ىوکے ہو یا ا مرىکہ ہر ہر جگہ عاشقانِ رَسُول موجود ہیں لہٰذا ہر جگہ مدرسۃُ المدىنہ بالِغان مىں اِضافہ ہونا چاہىے اور اس نىت سے پڑھایا جائے کہ پڑھوں گا بھی اور پڑھاؤں گا بھی ، سیکھوں گا بھی اور سکھاؤں گا بھى ۔ یوں پڑھنے اور پڑھانے کا جَذبہ مِل گیا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو جائے گی جو کہتے ہیں ہمیں قرآنِ کریم دیکھ کر پڑھنا نہیں آتا ۔
ىہى ہے آرزو تعلىم ِ قرآں عام ہو جائے
تلاوت کرنا صبح و شام میرا کام ہو جائے
یاد رَکھیے ! قربانى کے بغىر کچھ نہىں ہوتا، اگر آپ کہیں کہ بىٹھے بٹھائے سب کچھ ہو جائے تو نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے کوشش کرنی پڑے گی ۔ یو کے میں جامعاتُ المدینہ اور مَدارسُ المدینہ قائم ہیں جن میں اَساتذۂ کِرام اور قاری صاحبان بھی ہیں جومدرسۃُ المدینہ بالِغان پڑھاتے ہوں گے ، اگر نہیں پڑھاتے تو پڑھائیں اور پڑھانے والوں کو تیار کریں ، اگر اس طرح کوشش کریں گے تو قطرے قطرے سے دریا بنے گا اور ہمارا مَدَنی کام بڑھتا چلا جائے گا ۔ اس وقت (یعنی ۲۲رَبیع الآخر1440ھ بمطابق 29 دسمبر 2018ء )برمنگھم کے اِجتماع میں مَاشَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بے شمار اسلامی بھائی جمع ہیں ان میں جَذبے والے اسلامی بھائی بھی مِل جائیں گے اور ایسے بھی ملیں گے کہ جو پڑھانے کے قابل ہوں گے ، اِسی طرح
[1] فیض القدیر، حرف الخاء، ۳ / ۶۱۸، تحت الحدیث:۳۹۸۳ دار الکتب العلمیة بیروت
[2] معجمِ کبیر، مسند عبداللّٰه بن مسعود، ۱۰ / ۱۹۸، حدیث:۱۰۴۵۰ دار احیاء التراث العربی بیروت
[3] جمع الجوامع، قسم الاقوال، حرف المیم، ۷ / ۲۰۹، حدیث:۲۲۴۵۴دار الکتب العلمیة بیروت
[4] فتاویٰ رضویہ، ۷ / ۳۴۷ ماخوذاً
[5] ۲ رَبیع الآخر ۱۴۴۰ھ بمطابق 10 دسمبر 2018ء تک کی کارکردگی کے مُطابق ملک وبیرون ملک میں اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے چوبیس ہزار (24000)مدرسۃُ المدینہ بالِغان اور مدرسۃُ المدینہ بالِغات قائم ہیں جن میں پڑھنے والے اور پڑھنے والیوں کی تعدادایک لاکھ پچاس ہزارایک سوچوراسی (150184)ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع