30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھونکا (یعنی گھونپا)جائے گا ۔
ذِمَّہ داری قبول کرنے کے لیے اِستخارہ کرنا کیسا؟
سُوال:اگر کسى کو دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ذِمَّہ دارى دى جائے اور وہ کہے کہ مىں پہلے اِستخارہ کروں گا پھر جواب دوں گا تو اِس طرح کہنا کىسا ؟ (سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب:اگر کوئی دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ذِمَّہ داری قبول کرنے کے لیے اِستخارہ کرتا ہے تو شرعاً اِس میں کوئی حَرج نہیں ہے جبکہ اسے اِستخارہ کرنا آتا ہو ۔ ([1])یاد رَکھیے !بعض نیک کام ایسے ہیں کہ ان کے لیے اِستخارہ کرنے کی ممانعت ہے مثلاً نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں ؟اس بارے میں اِستخارہ نہىں ہو سکتا کہ نماز پڑھنے سے متعلق حکمِ اِلٰہى موجود ہے ۔ اِسی طرح حج کروں یا نہ کروں؟ اس کے لیے بھی اِستخارہ نہیں ہو سکتا البتہ کون سی تاریخ کو حج کے لیے سفراِختیار کروں؟ اس کے لیے اِستخارہ ہو سکتا ہے ۔ یوں ہی دِین کی خدمت کروں یا نہ کروں؟ اس بارے میں بھی اِستخارہ نہیں ہو سکتا البتہ کس انداز پر کروں؟ اس کے لیے اِستخارہ کرنا دُرُست ہے ۔
دِین کی خدمت کرنے والوں کی عزت وعظمت
سُوال:بعض لوگوں کو دىکھا گیا ہے کہ جب وہ مَدَنى کاموں مىں آگے بڑھتے ہىں تو انہیں بڑی عزت مِل جاتی ہے ، اس حوالے سے آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:لوگ عزت پانے کے لىے الىکشن لڑتے اور بے چارے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرتے ہىں مگر اس کے باوجود انہیں جو عزت ملتی ہے اسے دُنىا جانتى ہے ۔ اس کے بَرعکس دعوتِ اسلامى کے مَدَنى کام کرنے والوں کى جو شخصیت بنتى ہے وہ بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ کوئى ہاتھ چوم رہا ہوتا ہے تو کوئى گِڑ گِڑا کر بچے کے لىے دُعا کا کہہ رہا ہوتا ہے اور لوگ انہیں اپنے گھروں پر بُلاتے اور عزت و اِحترام کرتے ہىں تو یوں دِین کی خدمت کرنے والوں کو دُنیوی اِعتبار سے بھی عزت ملتی ہے ۔ اگرچہ دِین کی خدمت اس لیے نہیں کرنی چاہیے کہ مجھے عزت ملے گی مگر یہ حقیقت ہے کہ لوگ عزت پانے کے لیے کثیر مال خرچ کرتے ہیں مگر پھر بھی یہ پتا نہیں ہوتا کہ عزت ملے گی یا نہیں؟ جبکہ دِین کی خدمت کرنے والوں کو مَا شَآءَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بغیر کچھ خرچ کیے عزت ملتی ہے ۔ پھر دُنیوی شخصیات کی عزت کرنے میں اپنا مَفاد پیشِ نظر ہوتا ہے کہ کسی کو نوکری چاہیے ہوتی ہے تو کسی کو اپنا کام نکلوانا ہوتا ہے ، کسی نے اپنے دُشمن کو پٹوانا ہوتا ہے تو کوئی اس لیے عزت کرتا ہے تاکہ وہ حرام کام کرے تو اُسے Support (یعنی حمایت) رہے تو یوں بہت سارے مَقاصِد ہوتے ہیں جس کے باعِث لوگ دُنیوی شخصیات سے بنا کر رکھتے ہیں جبکہ دِین کی خدمت کرنے والوں کی عزت کرنے میں اِس طرح کے مَفاد نہیں ہوتے بلکہ دِل میں عقیدت ہوتی ہے ۔ عزت کرنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر میں اس دِینی شخصیت کی عزت نہیں کروں گا تو مجھے کوئی مار نہیں ڈالے گا مگر وہ عزت کرنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کا دِل اس دِینی شخصیت کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ ([2]) یاد رہے ! جب دِین کی خدمت دُنیا میں عزت دِلاتی ہے تو آخرت میں کیونکر محروم کرے گی؟
قرآنِ کریم پڑھنے اور پڑھانے کے فضائل
سُوال:برمنگھم فىضانِ مدىنہ مىں دعوتِ اسلامى کے تمام ذِمَّہ دار اسلامى بھائیوں کا اِجتماع جارى ہے ۔ یہاں کے اور دُنىا بھر کے مسلمانوں کا بہت بڑ ا مسئلہ ىہ ہے کہ انہیں دىکھ کر قرآنِ پاک پڑھنا نہىں آتا اور اِس بات کا انہیں اِحساس بھی ہوتا ہے مگر پرابلم یہ ہے کہ قرآنِ پاک پڑھانے والے نہیں ملتے ۔ دعوتِ اسلامى کے مَدَنى کاموں میں سے بہت اَہم کام مدرسۃُ المدینہ بالِغان ہے اور ىہ دعوتِ اسلامى کى خصوصىت ہے ۔ دُنیا بھر میں کوئی تنظیم اِس طرح اسلامی بہنوں اور اسلامی بھائیوں کے لیے قرآنِ کریم دُرُست پڑھانے اور شریعت کے ضَروری اَحکام سکھانے کا اِنتظام کرتی ہو یہ میری معلومات میں نہیں ہے ۔ یوکے ، امریکہ اور دُنیا کے دِیگر ممالک کے مسلمانوں میں قرآنِ پاک پڑھنے کا جذبہ ملتا ہے مگر انہیں پڑھانے والے نہیں ملتے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ لاکھوں اَفراد دُنیا بھر میں موجود ہیں لیکن ہر ایک مدرسۃُ المدینہ بالِغان نہیں پڑھاتا، بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی کو مدرسۃُ المدینہ بالِغان پڑھانے کے لیے کہا جائے تو جواب ملتا ہے کہ مجھے مدرسۃُ المدینہ بالِغان پڑھانا نہیں آتا اور جن کو پڑھاناآتا ہے وہ پڑھاتے نہیں ہیں لہٰذا آپ مدرسۃُ المدینہ بالِغان پڑھانے اور اس میں پڑھنے کے حوالے سے ایسے مَدَنی پھول اِرشاد فرما دیجیے کہ ہمارا مدرسۃُ المدىنہ بالِغان دُنىا بھر مىں عام ہو جائے اور گلى گلى گھر گھرمیں مدرسۃُالمدىنہ بالِغان کی دھومیں مچ جائیں ۔ (نگرانِ شُورىٰ کا فىضانِ مدىنہ برمنگھم ، یو کے سے سُوال)
جواب:قرآنِ پاک سىکھنے اور سکھانے والے کو حدىثِ پاک مىں Best Man(یعنی سب سے اچھا آدمی)اور Best Person (یعنی بہترین شخص)فرماىا گىا ہے اس سے قرآنِ پاک سیکھنے اور سکھانے کى اَہمىت سمجھى جا سکتى ہے ۔ چنانچہ صاحِبِ قرآنِ مُبین، محبوبِ ربُّ العٰلَمِینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:خَیْرُ کُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَ عَلَّمَہٗ ىعنى تم مىں بہترىن شخص وہ ہے جس نے قرآن سىکھا اور دوسروں کو سکھاىا ۔ ([3]) حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ الرَّحمٰن سُلمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مسجد مىں قرآنِ کرىم پڑھاىا کرتے تھے اور فرماتے کہ اِسى حدىثِ مُبارَک نے مجھے
[1] اِستخارے کا طریقہ جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب ”مَدَنی پنج سورہ“کے صفحہ280 تا282 کا مُطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[2] حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے رِوایت ہے کہ حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:جب اللہ پاک کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام کو نِد ا کی جاتی(فرمایاجاتا)ہے کہ اللہ پاک فُلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اس سے محبت کرتے ہیں ۔ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آسمانی مخلوق میں نِدا کرتے (فرماتے )ہیں کہ اللہ پاک فُلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں (کے دِلوں) میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ۔ (بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکة، ۲ / ۳۸۲، حدیث: ۳۲۰۹)
[3] بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمه، ۳ / ۴۱۰، حدیث:۵۰۲۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع