30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ پاک کو ہمیشہ سے خبر ہے
اگر فرشتے اَعمال نہ بھى لکھیں تب بھی اللہ پاک کو پتا ہے ۔ فرشتے تو اس وقت لکھىں گے جب انہیں پتا چلے گا کہ ىہ عمل ہوا ہے لیکن اللہ پاک کو تو ہمىشہ سے خبر ہے کہ کون کىا کرے گا؟ اَربوں کھربو ں اَفراد کا اور تمام مُعاملات کا ہر پَل بلکہ پَل کے کروڑویں حصے کا بھى بلکہ میرے پاس بولنے کے لىے اَلفاظ نہىں ہىں لىکن مىرے رب کو وہ سب کچھ پتا ہے ۔ تھوڑى دىر کے بعد مىرا کىا ہو گا؟ مىرے ذہن مىں کىا بات آئے گى؟مىں نے کىا بولنا ہے ؟ مجھ سے پہلے ، فرشتوں سے پہلے اللہ پاک کو پتا ہے ۔
اللہ پاک کے متعلق وَسوسے آنے کا سبب
سُوال:اللہ پاک کی ذات کے متعلق اِس طرح کے وَساوس پہلے نہىں پائے جاتے تھے لىکن اب ایسے ذہن بنتے جا رہے ہیں تو اس کى عمومی وُجُوہات کىا ہو سکتی ہیں؟
جواب:اللہ پاک کی ذات کے متعلق وَساوس آنے کا سبب عِلمِ دِىن کى کمى، عاشقانِ رسول کى صحبت کا نہ ہونا ہے ۔ سوشل مىڈىا کا کِردار بھى ہو سکتا ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے دَہرىوں اور منکرىن کى تحریریں پڑھنے ، ان کى تقرىرىں اور کلپ سننے دىکھنے سے بھى ذہن بَرباد ہوتا ہو گا ۔ سوشل میڈیا اِستعمال کرنے والے صِرف دعوتِ اسلامى کی سوشل مىڈىا کو جوائن کرىں اور ان کے مَدَنى گلدستوں اور تحرىرات سے فائدہ اُٹھائیں، اللہ پاک كے کرم سے اِس طرح کے وَساوس ذہن میں نہیں آئیں گے ۔ ([1])فرشتوں کا لکھنا ىہ بھى ایک کسوٹى (یعنی اِمتحان) ہے کہ کتنے لوگوں کا اس کے ذَرىعے اِیمان پختہ ہوتا ہو گا اور کئی لوگوں کا ایمان بَرباد بھى ہوتا ہو گا تو ہر معاملے مىں کسوٹىاں یعنی اِمتحانات ہیں ۔
اللہ پاک کے بنائے ہوئے ظاہری اور غیبی عالمِ اَسباب
(اس موقع پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے اِرشاد فرمایا:)اللہ پاک نے جس طرح ظاہر میں عالمِ اَسباب بنایا ہے ، اگر وہ چاہے تو بھوک ہى نہ لگے یا روٹى خود بخود تیار ہو کر ہمارے مُنہ مىں داخِل ہو جائے لىکن پورا اىک عالمِ اَسباب ہے اِسى طرح عُلَما اِرشاد فرماتے ہىں کہ غىب مىں بھى اللہ پاک نے عالمِ اَسباب بنایا ہے ۔ بندے کى پىدائش ہوتى ہے تو ماں کے پىٹ مىں فرشتہ اس کى تقدىر لکھتا ہے ۔ اس مىں رُوح پھونکتا ہے ۔ اس کى صورت بناتا ہے ۔ جب بچہ پىدا ہوتا ہے تو فرشتے اس کى حفاظت کے لىے مُقرر ہوتے ہىں ۔ اِنتقال کے وقت فرشتے اس کى رُوح قبض کرتے ہىں ۔ پھر قبر مىں بھى فرشتے آتے ہىں حتّٰى کہ قىامت کے دِن جنَّت مىں لے جانے والے بھى فرشتے ہوں گے اور جنَّت مىں داخِل ہوں گے تو وہاں بھی فرشتے اِستقبال کرىں گے ۔ اِسی طرح اللہ پاک نے عالمِ غىب مىں اَسباب کا سِلسلہ رکھا ہوا ہے ۔
کیا سفید بال آ نا خوش نصیب ہونے کی علامت ہے ؟
سُوال:ہمارے یہاں بلوچستان میں یہ بات مشہور ہے کہ جس نوجوان کى داڑھى مىں پہلے اىک سفىد بال آتا ہے وہ بہت خوش نصىب ہوتا ہے لہٰذا اِس بارے مىں رہنمائى فرما دیجیے ۔ (کوئٹہ کے جامعۃ المدینہ سے ایک طالبِ عِلم کا سُوال)
جواب:جو سنَّت سمجھ کر اللہ پاک کى رضا کے لىے داڑھى رکھتا ہے وہ ہوتا ہى خوش نصىب ہے ، ورنہ جو خوش نصىب نہىں ہوتا اس کو داڑھى رکھنا بھى کہاں نصىب ہوتا ہے ۔ اب نوجوان داڑھى کہاں رکھتے ہىں کہ ان کی داڑھی میں سفىد بال نظر آئیں؟جہاں جہاں دعوتِ اسلامى کا مَدَنى ماحول ىا اس جیسا ماحول ہے تو وہاں بعض نوجوان داڑھی رکھتے ہے ۔ جو شخص اِسلام مىں بوڑھا ہوا اور اس کے چہرے پر سفىد بال آئیں تو ان سفید بالوں کے فَضائل ہیں ۔ ([2]) اگر کسى کے اِتفاق سے جوانى مىں سفید بال نکل آئے تو یہ بڑھاپے میں سفید بال نکلنے کے بارے میں اَحادیثِ مُبارَکہ میں جو فضائل بیان ہوئے ہیں ان کا یہ مستحق ہو گا یا نہیں ؟ اس بارے میں مجھے عِلم نہیں ہے ۔
داڑھی سے سفید بال نکالنا کیسا؟
سُوال: کسی نوجوان کی داڑھی میں سفید بال آ جائیں تو کیا انہیں کاٹنے کی اِجازت ہے ؟
جواب:کسی بالغ شخص کی داڑھی میں سفىد بال نکل آئے تو اب چاہے وہ جوان ہو ىا بوڑھا ، اگر وہ ان سفىد بالوں کو زىنت یعنی اچھا لگنے کے لىے نکالے گا تو حدیث ِ پاک میں ہے کہ ىہ سفید بال نىزہ بن کر قىامت کے دِن آئىں گے اور اس شخص کو بھونکے (یعنی گھونپے ) جائىں گے ۔ ([3])لہٰذا کبھى بھول کر بھی اس نىت سے سفىد بال نہیں نکالنا چاہیے کہ یہ داڑھی میں اچھا نہیں لگ رہا ۔ سفید بال آ جانے سے بظاہر ایسا نہیں ہوتا کہ دیکھنے میں داڑھی ہی بُری ہو جائے بلکہ جو سفید بال زینت کی وجہ سے نکالاجائے وہ آخرت کے لیے بَربادی ہے ۔ اگر کوئی اپنے آپ کو تنکا بھى چبھائے تو اُس کی چىخ نکل جائے تو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قىامت کا مىدان اور پھر خُدا جانے وہ کىسا نوکىلا نىزہ ہو گا جو زینت کی وجہ سے سفید بال نکالنے والے کو
[1] دعوتِ اسلامی کی سوشل میڈیا کے ایڈریس یہ ہیں : Fb / IlyasQadriZiaeeTwitter,Fb,youtube / Madanichannelofficial - Fb / Dawateislami.net
[2] رَسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:سفید بال نہ اُکھاڑو کیونکہ وہ مسلمان کا نُور ہے ، جو شخص اِسلام میں بوڑھا ہوا، اﷲ پاک اس کی وجہ سے اس کے لیے نیکی لکھے گا اور خطا مٹا دے گا اور دَرَجہ بلند کرے گا ۔ (ابوداؤد، کتاب الترجل، باب فی نتف الشیب ، ۴ / ۱۱۵، حدیث:۴۲۰۲ دار احیاء التراث العربی بیروت)ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا:جو اِسلام میں بوڑھا ہوا، یہ بڑھاپا اس کے لیے قیامت کے دِن نُور ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب فضائل الجھاد، باب ماجاء فی فضل من شاب شیبة فی سبیل اللہ، ۳ / ۲۳۷، حدیث:۱۶۴۰ دار الفکر بیروت)
[3] کنزالعمال، کتاب الزینة والتجمل، الجزء:۶، ۳ / ۲۸۱، حدیث:۱۷۲۷۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع