30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ام معبد اوربکری
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نےحضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی چونکہ کفار جانی دشمن تھے اس لئےآپ کا پیچھا کرنے کے لئے لوگ روانہ کئے گئےتاکہ گرفتار کرسکیں اورمدینے جانے سے روک سکیں،چلتے چلتے رسول اللہ کو ایک خیمہ نظرآیا،خیمہ میں موجود بوڑھی عورت کا کام ہی مسافروں کوکھانا اورپانی پلانا تھا،مگر قحط کی وجہ سے اس وقت اس کےپاس کچھ نہیں تھا ،حضور نے بکری دیکھی جو انتہائی کمزور تھی اوراس کےتھن بھی سوکھے ہوئے تھے،حضور نے فرمایا:کیا میں اس بکری کا دودھ دوھ لوں؟انہوں نے کہا:اس میں تو دودھ ہی نہیں ہے اگر ہے تو نکال لیجئے،حضور نےجیسے ہی دعا پڑھ کر تھن کو ہاتھ لگایا دونوں تھن دودھ سے بھرگئے،اتنا دودھ نکلا کہ سب نے پیٹ بھر کرپیا اور گھر کے سارے برتن بھی دودھ سے بھر گئے،بکری بھی فربا ہوگئی،کچھ دیر بعد حضور روانہ ہوگئے،ام معبد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نہیں جانتی تھیں،جب ان کے شوہر آئے اور گھر میں دودھ ،برکت اور رونق دیکھی تو اس کاسبب پوچھا ،ام معبد نے سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حلیہ جن الفاظ میں بیان کیا وہ تاریخ کی کتب میں درج ہوگیا،ایک ایک لفظ گویا موتی ہوں ،آپ فرماتی ہیں:
رَأَيْتُ رَجُلاً ظَاهِرَ الْوَضَاءَةِ اَبْلَجَ الْوَجْهِ حَسَنَ الْخَلْقِ لَمْ تَعِبْهُ ثَجْلَةٌ وَلَمْ تُزْرِيهِ صَعْلَةٌ وَسِيمٌ قَسِيمٌ فِی عَيْنَيْهِ دَعِجٌ وَفِی اَشْفَارِهِ وَطَفٌ وَفِی صَوْتِهِ صَهَلٌ وَفِی عُنُقِهِ سَطَعٌ وَفِی لِحْيَتِهِ كَثَاثَةٌ اَزَجُّ اَقْرَنُ اِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ وَاِنْ تَكَلَّمَ سَمَاهُ وَعَلاَهُ الْبَهَاءُ اَجْمَلُ النَّاسِ وَاَبْهَاهُ مِنْ بَعِيدٍ وَاَحْسَنُهُ وَاَجْمَلُهُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع