30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مبارک سے گلیاں مہک جایا کرتیں تھیں ،1400سال پہلے جو فضائیں مہکی تھیں وہ اب بھی مہک رہی ہیں ۔ آج بھی کسی عاشق مدینہ کے آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جائیے وہ ہواؤں کو سونگھ کر بتادے گا یہ فضا ،یہ ہوا کہیں اور کی ہیں خوشبو بتا رہی ہے کہ کوئی گزر کر گیا ہے ۔شاعر کہتا ہے :
عرصہ ہوا طیبہ کی گلیوں سے وہ گزرے ہیں
اس وقت بھی گلیوں میں خوشبو پسینے کی
نایاب عطر
ایک شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی:یارسول اللہ !میں نے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا ہے اور میں اسے خاوند کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں اورمیرے پاس کوئی خوشبو نہیں۔ آپ کچھ عنایت فرمادیجئے۔سرکار نے فرمایا: میرے پاس موجود نہیں مگر کل صبح ایک چوڑے منہ والی شیشی اورکسی درخت کی لکڑی میرے پاس لے آنا۔ دوسرے روز وہ شخص شیشی اور لکڑی لے کر حاضرِ خدمت ہوا۔ آپ نے اپنے دونوں بازوؤں سے اس میں اپنا پسینہ مبارک ڈالنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ بھر گئی۔پھر فرمایا: اسے لے کر جا !اپنی بیٹی سے کہہ دینا کہ اس لکڑی کو تر کر کے مل لیا کرے۔ پس جب وہ پسینہ مبارک کو لگایا کرتی تو تمام اہلِ مدینہ کو اس کی خوشبوں پہنچتی یہاں تک کہ اس گھر کا نامب یتُ المطیبین ( خوشبوں والا گھر)ہوگیا۔(1)
و اللہ جو مل جائے مرے گل کا پسینہ
مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول
[1] … معجم اوسط،3/190،حدیث:6295۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع