30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرکے خطبے کا ترجمہ پڑھ لیجئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ خطبہ میں کیا بولا جاتا ہے،اسی خطبے میں ایک جملہ 3بار بولاجاتا ہے: ” اَلاَلاَ اِيمَانَ لِمَنْ لاَ مَحَبَّۃَ لَهُ ۔“ کبھی اس کے مطلب پر غورکیجئے ، اَلاَلاَ اِيمَانَ لِمَنْ لاَ مَحَبَّۃَ لَهُ کا مطلب ہے:
’’سن لو ! اس کا ایمان نہیں جس کے دل میں نبی پاک سے محبت نہیں ۔‘‘
ایمان مکمل ہی اس وقت ہوتا ہے جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سچی محبت کی جائے۔
محبت کی نہیں جاتی بلکہ محبت ہوجاتی ہے
ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال آئے کہ یہ کیسا حکم ہے ؟”نبی پاک سے محبت کرو اورمحبت بھی سب سے بڑھ کر کرو“حالانکہ محبت کی نہیں جاتی بلکہ محبت ہوجاتی ہے،انسان زندگی بھر ساتھ رہتا ہے مگر محبت نہیں ہوئی ،کوئی کسی سے زبردستی کیسے پیار کرسکتا ہے؟کیونکہ زبردستی محبت کرنا انسان کے اختیار میں نہیں،اس سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ کسی انسان سے محبت کیوں ہوتی ہے؟علماء نے کسی سے محبت کرنے کی 3 وجہ بیان کی ہیں :
*حسن:انسان قدرتی طور پر حسین لوگوں کی طرف مائل ہوتا ہے ۔
*کمال:حسین نہیں ہے مگر باکمال ہے،بعض اوقات فٹبالر،کرکٹر یا اسپورٹس مین حسین نہیں ہوتے مگر اپنی فیلڈ میں باکمال ہوتے ہیں اس لئے کروڑوں لوگ ان کے دیوانے(فین) ہوتے ہیں۔
*احسان:حسین بھی نہیں ہے کمال بھی نہیں مگر اس کے احسانات بہت ہیں ،بے حد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع