30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معاملہ کرنا چاہئے ۔
نرم دلی نہیں توگورنر ی بھی نہیں
ایک بار امیر المومنین نے قبیلہ بنو اسد کے ایک شخص کو نیانیا حاکم بنایا، وہ عہدہ لینے کے لئے آپ کے پاس آیا تھا ،فاروق اعظم ایک بچے کو محبت سے پیار کررہے تھے،گورنر نے کہا:آپ توبچوں کو چومتے ہیں میں تو نہیں چومتا۔یہ سنتے ہی حضرت عمر نے فرمایا: تم تو لوگوں پر بہت کم رحم کرنے والے ہو، لاؤ ہمارا عہدہ واپس کرو اور آئندہ تم کبھی کوئی حکومتی کام نہیں کرو گے۔(1)
غریب گورنر
حضرت عمر نے ایک بار حمص شہر کے غریبوں کی لسٹ منگوائی تاکہ غرباء میں پیسے تقسیم کئے جائیں ،حضرت عمر لسٹ دیکھ کر حیران ہوگئے، کیونکہ اس لسٹ میں سب سے پہلا نام وہاں کے گورنر کا تھا ،آپ فرمانے لگے: ہم سعید بن عامر کو ہر مہینے تنخواہ دیتے ہیں پھر بھی ان کا نام سرفہرست ہے، پوچھنے پر بتایا گیا کہ جتنی سیلری ملتی ہے وہ ساری غریبوں اورمحتاجوں میں تقسیم کردیتے ہیں ۔
حضرت عمر کے احتساب کا نظام انتہائی زبردست تھا ،آپ نے حمص کے لوگوں سے سعید بن عامر کے رویے کے متعلق پوچھا انہوں نے بتایا :ہمیں سعید بن عامر سے 4 شکایتیں ہیں :
(1)…’’وہ ہمارے پاس صبح صبح نہیں آتے بلکہ دن چڑھنے کے بعد آتے ہیں۔‘‘
[1] … سنن کبریٰ ، کتاب السیر، باب ما علی الوالی من امر الجیش،9/72،حدیث:17906۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع