30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں برا بھلا اوران پر چیخناچلانا شروع کردیتے ہیں ؟ہم ملازمین کو جائز ناجائز کچھ بھی بول دیتے ہیں مگر وہ چپ چاپ سن لیتے ہیں ،نوکری اوربے روزگاری کے خوف سے برداشت کرلیتے ہیں ۔ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر آج میں افسر ہوں ،میرے ماتحت بہت سارے لوگ ہیں ،میرا لوگوں پر کنٹرول ہے تو میں جو چاہوں ان کے بارے میں فیصلہ کروں جیسی چاہے سزادوں تو پھر یہ بھی غوروفکر کرلیجئے اگر رب نے غلطیاں پکڑنا شروع کردیں توپھر کہاں جائیں گے؟
ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم جس آقا کے امتی ہیں وہ تو ایسا نہیں کرتے تھے،حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت تو ہمیں سکھا رہی ہے کہ آقا تو اپنے غلام کو ”اف“تک بھی نہ فرماتے اور ہم چھوٹی سی بات پر بڑی سزا دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔لہٰذاہمیں معاف کرنے کی سیرت اپنانی چاہئے۔
معاف کرو، معاف کردئیے جاؤگے
جو بندوں کو معاف کرتا ہے اللہ پاک اسے معاف کردیتا ہے چنانچہ ایک بہت ہی گنہگار شخص تھا انتقال کے بعد اسے دوست نے خواب میں دیکھا ، پوچھا تیرا کیاحال ہے؟گنہگار شخص نے کہا: اللہ پاک نے مجھے معاف کردیا ۔دوست نے پوچھا:تو گنہگار تھا تجھے کیسے بخش دیا گیا ،گنہگار نے کہا:ایک بار میری بیوی نے کھانا بنایا ، اس میں نمک زیادہ ہوگیا ،میرا دل چاہا کہ میں اپنی بیوی کو سزادوں لیکن دل میں سوچا میری بیوی نے ایک غلطی کی اور میرا سزا دینے کا دل چاہ رہا ہے اور میں دن میں کتنی نافرمانیاں کرتا ہوں اگر میری پکڑ ہوگئی تو میرا کیا بنے گا ؟میں نے کھانا کھایا اور چلا گیا۔مرنے کے بعد مجھے بتایا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع