30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سچ تو یہ ہے کہ تاجدارِ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان بیان کرنا نہ ہماری اوقات ہے اور نہ ہی ہمارے پاس وہ الفاظ جن سے حضور کی شان بیان کرسکیں البتہ رب کریم نے قرآن حکیم میں” رسول کریم “کی شان الفاظ ِعظیم کے ساتھ بیان کی ہےچنانچہ اللہ پاک قرآن مجید و فرقان حمید میں فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)(پ17، انبیاء:107)
ترجمۂ کنزالعرفان :اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔
حضور رحمۃ للعالمین بن کر آئے یہ بات ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رحمت کے کچھ گوشوں پر مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ :
*تاجدارختم نبوت کمزوروں کے ساتھ کیسے رحمت والے تھے؟
*حضور اپنے غلاموں کے ساتھ رحمت والے کیسے تھے؟
*بچوں کے لئے رحمت والے کیسے تھے؟
*گھر والوں کے لئے رحمت کیسے تھے؟
سبحان اللہ ! ہمارے آقا ایسے رحمت والے ہیں کہ جس قوم میں آپ ہوں خدا اس قوم کو عذاب نہیں دیتا ۔ اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ (پ9،انفال:33)
ترجمۂ کنزالعرفان : اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب!تم ان میں تشریف فرما ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع