30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیر اہلسنت مزید فرماتے ہیں :”اگر والد نے اپنے بیٹے کو ناجائز ستایا ،بیٹے کو ناجائز ذلیل کیا،دل دکھایا تو والد کو اپنے بیٹے سے معافی مانگنی ہوگی۔اگر کوئی پیر اپنے مریدین کا دل دکھائے گا تو اس پیر کو اپنے مرید سے معافی مانگنی ہوگی “۔
پیارے اسلامی بھائیو!یہ اسلام ہے اور اس کی یہی خوبصورتی ہے۔معافی کی یہ باتیں پڑھنے اور سننے میں بڑی عجیب وغریب لگ رہی ہیں مگر ہمیں یہ درس سردار انبیاء ،محبوب کبریاء صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعلیمات سے ملتا ہے ،حضور کے سامنے تو ہم سب کی کوئی اوقات نہیں ہے ،جن کے صدقے میں سب کچھ ملا وہ اپنے غلاموں میں اعلان فرماتے ہیں :اگر کسی کا کوئی حق آتا ہے تو مجھ سے لے لو،کسی کو بدلہ لینا ہے تو لے لو ۔جب نبی رحمت اپنے غلاموں میں یہ اعلان کرسکتے ہیں تو کیا شوہر اپنی بیوی سے معافی نہیں مانگ سکتا ؟سیٹھ اپنے ملازم سے معافی نہیں مانگ سکتا؟ بظاہر معافی مانگنا مشکل ہے مگر آج ہی معافی مانگ لو ،اگر کسی ملازم کو ذلیل کیا ہے ،کسی کا دل دکھایا ہے ،بالفرض اگر ملازم کی غلطی بھی تھی تو بھی آپ کو سب کے سامنے ذلیل کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ کچھ لوگ چھوٹی سی غلطی پر ملازم کو سزا بھی دیدیتے ہیں ۔
غلام کو معاف کردیا
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں اپنے غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھےیہ آواز سنی”ابو مسعود!جان لو“نبی رحمت میرے قریب تشریف لے آئےآپ کو دیکھتے ہی میرے ہاتھ سے کوڑا گرگیا۔آپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع