30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذرا غور کیجئے! گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ ہمارے رویے (Attitude) میں کتنا فرق ہے؟بالخصوص نوجوان طبقہ جب انہیں آدھی رات کو دوست کا فون آتا ہے تو فوراً کہتے ہیں ”تیرے لئے حاضر“،”تیرے لئے جان بھی حاضر“،”ابھی گھر آیا“دوستوں کے لئے ٹھنڈی رات میں گھر سے نکل جاتے ہیں ،گھر والے پوچھتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ دوست کو کام ہے اسی لئے جارہا ہوں ،دوست کا خیال رکھنا اچھی بات ہے مگر آدھی رات کو امی پانی مانگ لے تو کہا جاتا ہے ”امی تھکا ہوا ہوں “والد بول دے :بیٹا کچھ طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ،توبولا جاتا ہے ”کل چلیں گے ابھی رات ہوگئی ہے“والد کو اسپتال لے جانے کا ٹائم نہیں ہے مگر دوست کی گاڑی کو دھکا لگانے کا ٹائم ہے۔
معافی مانگ لیجئے
ہم سب کوسوچنا چاہئے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں ،ہمارے اچھے اخلاق کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے گھر والے ہیں ،اور گھر والوں میں سب سے زیادہ حق ماں کا ہے پھر والد کا پھر بیوی بچے ہیں ،بہن بھائی ہیں ،کسی کے لئے بھی سخت مت بنیں ،نرم ہوجائیں ، شفقت کیجئے ۔شیخ طریقت ،امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادری مدنی مذاکرے میں فرماتے ہیں:”اگر شوہر اپنی بیوی کو ذلیل کرتا ہے ،بیوی کا دل دکھاتا ہے ،ناجائز حق تلفی کرتا ہے تو اس شوہرکو اپنی بیوی سے معافی مانگنی ہوگی ورنہ قیامت کے دن اس کا جواب دینا ہوگا ۔“ایسے موقع پر شوہر کی غیرت جاگ جاتی ہے کہ میں شوہر ہوکر بیوی سے معافی مانگوں گا ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع