30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غلام پر رحمت کا انداز
مسجد نبوی میں ایک حبشی عورت صفائی کیا کرتی تھی،ایک رات اس کا انتقال ہوگیا ، حضور نے صفائی والی کو جب نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں پوچھا ،صحابہ نے عرض کی :وہ رات میں فوت ہوگئی ہم نے آپ کے آرام میں خلل ڈالنا مناسب نہیں سمجھا اور اسے دفن کردیا ،ہم غریبوں کے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر کے بارے میں بتاؤ ،نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کی قبر پر گئے اورنماز جنازہ ادا فرمائی آقا نے فرمایا :یہ قبریں قبر والوں کے لئے ظلمت اور تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اور بے شک اللہ پاک میری ان پر پڑھی گئی نماز جنازہ کی بدولت ان کی تاریک قبور کو روشن فرما دے گا۔(1)
آج ہمارے نزدیک گھر ،آفس یا مسجد میں صفائی کرنے والے کوئی حیثیت ہی نہیں ہے مگر حضور نبی کریم نے اس کا بھی خیال رکھا ،مسجد میں نظر نہ آئی تو صحابہ سے پوچھا ،پھر اس کی قبرپر تشریف لے گئے ،نماز جنازہ ادا فرمائی چونکہ حضور کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہوا وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ’’اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔‘‘
حضور کی مبارک سیرت ہمارے لئے ذریعہ نجات ہے ،ان واقعات سے ہم نے سیکھنا ہے ،کیا ہمارا غریبوں کے ساتھ ایسا سلوک ہے ؟کیا ملازمین کے ساتھ ہمارا انداز ایسا ہے ؟ اگر بزنس پارٹنر یا جس سے کاروباری لین دین ہوتا ہے اس کی ہلکی سے کھانسنے کی آواز آئے تو ہم طبیعت پوچھتے ہیں مگر ملازم اسپتال میں داخل ہوجائے تو پوچھتے ہی نہیں ہیں ،ہم ہمیشہ
[1] … مسلم ، کتاب الصلوۃ ، باب الصلوۃ علی القبر،حدیث:956۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع