30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو سمجھ آئے وہی بات کیجئے
لوگوں کی عقل ،سمجھ ،عمر اور مزاج کے مطابق بات کیجئے،جب ہم 4یا 5 سال کے بچے سے بات کرتے ہیں تو ہمارا انداز بالکل مختلف ہوجاتا ہے ،ہم بچوں جیسی باتیں کرتے ہیں ،بچوں کا اسٹائل اپناتے ہیں تاکہ بچہ ہماری بات سمجھ سکے،بالکل اسی طرح کسان کے سامنے سائنس کی بات کرنا ، ڈاکٹر کے سامنے سے دیت یا عشر کے مسائل بیان کرنا ، خاندان کے بڑے بوڑھے کے سامنے موبائل سافٹ وئیر کی بات چھیڑدینا انہیں بور کردے گا لہٰذا جیسے لوگ ہوں ان کے مطابق گفتگو کرنی چاہئے۔
بھاری بھرکم جملوں سے رعب جمانا
بعض لوگ اپنی علمیت یا زبان کا رعب جمانے کی کوشش کرتے ہوئے بہت ہی بھاری بھرکم جملے بول دیتے ہیں اگرچہ سننے والے کو کچھ بھی سمجھ نہ آئے آپ خود ہی غور وفکر کیجئے کہ جن کے لئے بول رہے ہیں انہیں ہی سمجھ نہ آئے تو پھر آپ کے بولنے کا کیا فائدہ ،بلاوجہ آپ کی توانائی (Energy) بھی ضائع ہوتی ہے،اسی بھاری بھرکم جملوں کے متعلق شیخ طریقت، امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادری نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھا :
”شعبہ ذراعت کے ایک آفسر سے گاؤں سے ایک کسان ملنے گیا ، سیکرٹری سے ٹائم ملنے کے بعد جب کسان آفسر کے سامنے گیا تو آفسر نے سوال کیا : تمہاری کشت زار میں امسال تقاطر امطار ہواکہ نہیں؟کسان گھبراکر باہر آگیا اور کہا:صاحب تلاوت کررہے ہیں۔“
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع