30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہل عرب کی زبان دانی
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آمد سے پہلے اہل عرب کو اپنی زبان پر بڑا ناز اور فخر تھا۔وہ لوگ اپنے آپ کو دانشور،مفکر اور بہت پڑھا لکھا سمجھتے تھےان کی فصاحت وبلاغت کے چرچے تھے،اہل عرب کی آپس کی لڑائیاں بھی سالوں تک چلتی تھیں ، کبھی تو یہ لڑائی تلواروں سے ہوتی تھی اور کبھی لفظوں کے وار سے حریف کو زخمی کرنے کی کوشش کی جاتی تھی ۔جو اپنے مدمقابل یا حریف سے بہتر شعر لے آتا اس کی جیت کا اعلان کردیا جاتا اور باقاعدہ اسے کعبہ پر لٹکایا جاتا اور جب تک اس سے اچھا شعر یا کلام نہ لایا جاتا اس وقت تک وہ دیوان کعبہ پر لٹکا رہتا اور اس کے لکھنے والے کوفصیح وبلیغ اور سب سے بڑا زبان دان مانا جاتا۔اس زمانے کے اہل عرب دوسری زبان والوں کو عجمی کہتے تھے عجمی کا مطلب ”گونگا“،گویا وہ دوسری زبان والوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے اور کہتے تھے ان کے پاس زبان ہی نہیں اور نہ ہی انہیں بولنا آتا ہے بس ہم عربی ہی زبان والے ہیں اورہمیں ہی بولنا آتاہے۔
اللہ پاک کا تربیت فرمانا
اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایسے لوگوں کے درمیان تشریف لائے جنہیں اپنی زبان پر فخرو ناز تھا ، بظاہر عقل یہی کہتی ہے کہ ایسے لوگو ں کو اسلام کی دعوت دینا ،خدا کا پیغام پہنچانا آسان کام نہیں تھا،انہیں دعوت دینے والا یا تو ان کے ہم پلہ ہو یا پھر ان سے بڑھ کر ہو اور پیغام پہنچانے والے کی تعلیم وتربیت کا سلسلہ ہو،زبان کی فصاحت وبلاغت پر عبور ہو۔ اللہ کریم کی شان دیکھئے!اس نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع