30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معاف کرنے سے معافی مل گئی
ایک شخص کی بیوی نے کھانا پکایا۔اور اس کھانے میں نمک تیز ہوگیا ۔ اس نے سوچا یہی پلیٹ اس کے منہ پر مار دوں لیکن وہ یہ سوچ کر رک گیا کہ اس نے ایک غلطی کی ہے اور اسے سزا دینے کا دل چاہ رہا ہے اور میں صبح وشام اپنے رب کی نافرمانیاں کرتا ہوں میرا رب تو مجھے سزا نہیں دیتا،یہ خیال آتے ہی اس نے سزا دینے کا ارادہ ترک کردیا اور چپ چاپ کھانا کھالیا،جب قبر میں گیا تو اسے بتایا گیا :اس دن نے تونے میری بندی کو معاف کیا تھا جب تو بندہ ہوکر میری بندی کو معاف کرسکتا ہے تو میں تو سب سے بڑا معاف کرنے والا ہوں جا میں نے تیرے سارے گناہ معاف کردئیے۔
معاف کرنے پر شیطانی خیال
کسی کو معاف کرنے سے پہلے شیطان عجیب وغریب خیالات ذہن میں ڈالتا ہے کہ اگر بدلہ نہیں لیا تو لوگ بزدل بولیں گے،دم خم نہ ہونے پر لعن طعن کریں گے،شیطان اور لوگوں کا کام ہی وسوسے ڈالنا ہے،ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچئے !معاف کرنا مشکل ہے یا بدلہ لینا،یقیناًمعاف کرنا بے حد مشکل ہے تو جو مرد ہوتا ہے وہ مشکل کام کرتا ہے،بدلہ لینے پر صبر کرنا ،خود کو روکنا یہ نہایت ہی مشکل کام ہے۔ایسے مواقع پر حضور کی سیرت یاد کیجئے،دشمن قتل کرنے کے لئے تیار کھڑا تھا ،پھر بھی معاف کردیا،قتل کا منصوبہ بنانے والا کو معاف کردیا کفار مکہ سزاسننے کے لئے سرجھکائے کھڑے تھے عام معافی کا اعلان کردیا۔
بزدلی والے وسوسوں کا شکارمت ہونا،آپ بزدل نہیں بلکہ نبی کے غلام ہیں ،حضور کے امتی ہیں ،آقاکریم نے جو تعلیمات دی ہیں ان پر عمل کرنا ضروری ہے لہٰذا نیت کرلیجئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع