30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نرالہ انداز ہے زید بن سعنہ نے وقت سے پہلے مطالبہ کرکے ناحق کیا پھر پے در پے گستاخی کی اس کے باوجود گستاخ کی حمایت کی اور اپنے ساتھی کو سمجھاتے ہوئے کہا :
اے عمر!تم کیا کہہ رہے ہو؟ تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہئے تم کو تو مجھے ادائے حق کی ترغیب دے کر اور اس کو نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی ہدایت کرکے ہم دونوں کی مدد کرنی چاہئے تھی ۔اے عمر!تم اسے اس کا حق دو اور جتنا حق بنتا ہے اس سے زیادہ دینا۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے جب حق سے زیادہ کھجوریں دیں تو حضرت زید بن سعنہ نے کہا کہ اے عمر! میرے حق سے زیادہ کیوں دے رہے ہو؟ آپ نے فرمایا چونکہ میں نے تمہیں ٹیڑھی ترچھی نظروں سے دیکھ کر خوفزدہ کیا تھا اس لئے میرے آقا نے تمہاری دلجوئی کی خاطر تمہارے حق سے کچھ زیادہ مجھے دینے کا حکم دیا ہے۔ ٹیڑھی نظروں سے دیکھا تو اب اس کی دل جوئی بھی کرو ۔
حضرت زید بن سعنہ رضی اﷲ عنہ نے کہا :اے عمر!کیا تم مجھے پہچانتے ہو میں کون ہوں؟ میں یہودیوں کا عالم زید بن سعنہ ہوں۔ آپ نے فرمایا ’’پھر تم نے رسول اللہ کو جو باتیں کہیں اور ان کے ساتھ جو حرکت کی وہ کیوں کی؟میں نے کہا: حضور کو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ آپ اللہ پاک کے نبی ہیں مگر ان دو علامتوں کو دیکھنا باقی تھا کہ آپ کا حلم آپ کے غضب پر سبقت لے جاتا ہے اور آپ کے ساتھ جتنا زیادہ جہالت کا برتاؤ کیا جائے آپ کا حلم اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا ۔ بے شک میں نے یہ علامتیں بھی آپ میں پا لی ہیں ، تو اے عمر! ، آپ گواہ ہو جائیں کہ میں اللہ پاک کے ربّ ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفی کے نبی ہونے پر راضی ہوا ۔ میں بہت مالدار ہوں ،آپ گواہ ہو جائیں کہ میں نے اپنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع