30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہودی عالم تھے،حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت زید بن سعنہ سے ایک مدت کے ادھار پر کچھ کھجوریں خریدیں ،کھجوریں دینے کی مدت میں ایک دو تین باقی تھے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں لوگوں کے درمیان، سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے انتہائی تلخ اور ترش لہجے میں سختی کے ساتھ تقاضا کیا ۔آپ کا دامن و چادر پکڑ ی اور نہایت تندوتیز جملوں کے ساتھ آپ کی طرف دیکھا، سخت نگاہیں تھیں اور چلا چلا کرکہا: اے محمد! میرا حق ادا کرو ۔ اے عبدالمطلب کے خاندان والو! تم سب کا یہی طریقہ ہے کہ تم لوگ ہمیشہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں دیر لگایا کرتے ہو اورٹال مٹول کرنا تم لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔
ذرا سوچئے تو سہی!قرض لوٹانے میں ابھی چند دن ہیں وقت سے پہلے مطالبہ کیا جارہا ہے ،سار ا مجمع جمع ہے ، حضور حق پر تھے ،سامنے والا گستاخی پر گستاخی کئے جارہا تھا حضور کے اصحاب بھی موجود ہیں ،جو حضور کے اشارے پر اپنی جانیں نثار کردیں، کیونکہ دوچار لوگ جس کے ساتھ ہوں تو اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے، اپنی ذرا سی بے عزتی برداشت نہیں ہونے دیتے اور سامنے والے کو ظلم وجبر کا نشانہ بنادیتے ہیں مگر حضور نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب زید بن سعنہ کا گستاخانہ رویہ دیکھا تو جلال میں آگئے اور غیض وغضب سے بھرے انداز میں کہا: اے دشمن خدا ! کیا تم رسول اللہ سے ایسی بات اور ایسی حرکت کر رہے ہو!اس خدا کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا،اگر مجھے نبی کریم کا لحاظ نہ ہو تا تو میں ابھی اپنی تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا۔رسول پاک کا کیا ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع