30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان کرتا ہے اس کامقصد صرف اتنا ہوتا ہے
چل لکھا لائیں ثناء خوانوں میں چہرہ تیرا
نبی کریم اور صفائی والی خاتون
ایک حبشی عورت مسجد نبوی کی صفائی کیا کرتی تھی ،پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کچھ عرصے تک اسے موجود نہیں پایا تو صحابہ کرام سے پوچھا :صحابہ نے بتایا :اس کا انتقال ہوگیا ،حضور نے فرمایا : کیا تم مجھے اس کی خبر نہیں دے سکتے تھے؟ راوی کہتے ہیں شاید صحابہ کرام نے اس معاملے کو چھوٹا سمجھتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اس کی خبر نہ دی ۔پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :مجھے اس کی قبر پر لے چلو ۔“صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کو اس کی قبر پر لے آئے،حضور نے اس کی نَماز جنازہ ادا فرمائی پھر فرمایا:بیشک یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی تھیں،بیشک اللہ کریم میرے ان پرنَماز پڑھنے کے سبب ان قبروں کو منور فرمادے گا۔“(1)
کہاں صفائی کرنے والی عورت اور کہاں نبی کریم کا مقام و مرتبہ؟حضور محبوب خدا ہیں ،رسولوں کے سردار،فرشتوں کے آقا ہیں ،حضور کا مقام ومرتبہ اور رتبہ بلند وبالا اور ارفع و اعلی ہے دنیا میں کوئی کتنا بڑا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قدموں کی دھول کے برابر بھی اس کا رتبہ نہیں ،اعلی حضرت فرماتے ہیں :
اُس گَلی کا گدا ہوں میں جس میں مانگتے تاجدار پِھرتے ہیں
[1] … مسلم ، کتاب الجنائز ، باب الصلوۃ علی القبر،ص370،حدیث:956۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع